Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

(۴۲) یتیموں پر شفقت

    یتیموں پر رحم و شفقت اور ان کے ساتھ نیک سلوک کرنا یہ بھی اعمال جنت میں سے ایک بڑا عمل ہے۔اس خصوص میں بھی چند احادیث کریمہ کی تجلیوں سے ہدا یت کا نور حاصل کیجئے۔
حدیث:۱
    عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ مَسَحَ رَاْسَ یَتِیْمٍ لَمْ یَمْسَحْہُ اِلَّا لِلّٰہِ کَانَ لَہٗ بِکُلِّ شَعْرَۃٍ تَمُرُّ عَلَیْھَا یَدُہٗ حَسَنَا تٌ وَمَنْ اَحْسَنَ اِلٰی یَتِیْمَۃٍ اَوْیَتِیْمٍ عِنْدَہٗ کُنْتُ اَنَا وَھُوَ فِی الْجَنَّۃِ کَھَاتَیْنِ وَقَرَنَ بَیْنَ اُصْبُعَیْہٖ(1)
                      (مشکوٰۃ،ج۲،ص۴۲۳)
    حضرت ابوامامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو شخص یتیم کے سر پر ہاتھ پھرائے اور صرف اللہ عزوجل ہی کی رِضا کے لیے ہاتھ پھرائے توہر اس بال کے بدلے جس پر اس کا ہاتھ گزرے گا اس کو بہت سی نیکیاں ملیں گی اور جو شخص کسی یتیم لڑکی یا یتیم لڑکے کے ساتھ اچھا سلوک کرے تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے اپنی انگلیوں کو ملا کر بتایا کہ میں اور وہ اس طرح جنت میں رہیں گے۔ (یعنی میں اور وہ ایک ساتھ جنت میں جائیں گے۔)
حدیث:۲
     حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہمانے کہا کہ رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو شخص یتیم کو ٹھکانا دے کر اس کے کھانے پینے کا انتظام کر دے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت واجب کردے گاہاں!مگریہ کہ وہ کوئی ایساگناہ(شرک وکفر)کرے جو معافی کے لائق نہیں۔(1) (تو وہ جنت میں نہ جاسکے گا۔)(مشکوٰۃ،ج۲،ص۴۲۳)
حدیث:۳
    حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جنت میں ایک گھر ایسا ہے جس کا نام دارالفرح(خوشی کا گھر)ہے۔ اس گھرمیں وہی لوگ داخل ہوں گے جنہوں نے دنیا میں مسلمانوں کے یتیم بچوں کا دل خوش کیا ہوگا۔(2) (کنز العمال،ج۳،ص۹۸)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

حدیث:۴

     حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہاکہ رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمانوں کے گھروں میں سب سے بہتر وہ گھر ہے جس میں کوئی یتیم رہتاہواوراس کے ساتھ اچھاسلوک کیاجاتاہواورمسلمانوں کے گھروں میں سب سے بدتروہ گھرہے کہ جس میں کوئی یتیم رہتاہواوراس کے ساتھ برا سلوک کیا جاتا ہو۔(3) (مشکوٰۃ،ج۲،ص۴۲۳)

تشریحات و فوائد

    اس عنوان کی مذکورہ بالا چاروں حدیثوں کا مطلب یہی ہے کہ ہر مسلمان پر لازم ہے کہ اُمتِ رسول کے یتیم بچوں اور یتیم بچیوں کی پرورش اور انکے ساتھ رحم و شفقت کابرتاؤکریں قرآن مجیدکی بہت سی آیتوں میں اس کی بے حدتاکیدکی گئی ہے۔ ارشاد ربانی ہے کہ


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

فَاَمَّا الْیَتِیۡمَ فَلَا تَقْہَرْ ؕ﴿۹﴾ (1) یعنی یتیم پر قہر نہ کرو جو لوگ یتیموں کے مالوں کو کھا ڈالتے تھے ان کے بارے میں ایک آیت اتری کہ
اِنَّ الَّذِیْنَ یَاْکُلُوْنَ اَمْوَالَ الْیَتٰمٰی ظُلْمًا اِنَّمَا یَاْکُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِہِمْ نَارًاط (2) یعنی جو لوگ یتیموں کا مال کھاتے ہیں وہ درحقیقت اپنے پیٹوں میں آگ کھا رہے ہیں۔
بہرحال یتیم کی خبر گیری اور ان پر شفقت و محبت کرنا یہ ہر مسلمان پر فرض ہے جو لوگ یتیموں کے ساتھ اچھا سلوک کرینگے حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے اپنی دو انگلیوں کو ملا کر بتایا کہ میں اور وہ اس طرح ایک ساتھ دونوں جنت میں جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کے سینے میں ایسا درد مند دل پیدا فرمادے جو یتیموں کی بے کسی پر رحم کرے اور مسلمان یتیموں کے ساتھ رحم و کرم کا برتاؤ کرکے جنت میں جانے کا سامان کریں۔ واللہ تعالیٰ اعلم
error: Content is protected !!