سنّت چھوڑدینا

(1)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :”ایک فرض نماز اپنے بعد والی فرض نماز کے درمیان کے گناہوں کے لئے، ایک جمعہ اگلے جمعہ تک اور ایک (ماہ)رمضان اگلے (ماہ)رمضان تک کے گناہوں کا کفارہ ہے۔” پھر اس کے بعد ارشاد فرمایا :”مگر یہ ا عمال تین گناہوں کو نہیں مٹاتے، وہ گناہ یہ ہیں: (۱)اللہ عزوجل کا شریک ٹھہرانا(۲)عہد توڑ دینااور (۳)سنت چھوڑنا۔” ہم نے عرض کی :”یا رسول اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم! شرک کو تو ہم نے جان لیا، عہد توڑنے اور سنت چھوڑنے سے کیا مراد ہے؟’ ‘ تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :” عہد توڑنے سے مراد ہے کہ تم دائیں ہاتھ سے کسی کی بیعت کرو پھر اس کی مخالفت کر کے اپنی تلوار سے اسے قتل کر دو اور سنت چھوڑنے سے مراد جماعت سے نکلنا ہے۔”
Advertisement
(المستدرک،کتاب العلم، باب الصلوۃ المکتوبۃ۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۴۲۰،ج۱،ص۳۲۳)
    امام حاکم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ارشاد فرماتے ہیں :”یہ حدیثِ مبارکہ امام مسلم کی شرائط کے مطابق صحیح ہے اگرچہ شیخین نے اس کو روایت نہیں کیا اور ابوداؤد اوراحمد کی یہ روایت بھی اس کی تائید کرتی ہے کہ،
(2)۔۔۔۔۔۔نبی کریم ،رء وف رحیم صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:”جس نے ایک بالشت بھر جماعت کو چھوڑا بے شک اس نے اسلام کا پٹہ اپنی گردن سے اُتار دیا۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(سنن ابی داؤد، کتاب السنۃ ، باب فی الخوارج، الحدیث: ۴۷۵۸،ص۱۵۷۳)
حضرت جلال بلقینی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ارشاد فرماتے ہیں :”اس سے مراد بدعت کے پیروکارہیں، اللہ عزوجل ہمیں اس سے عافیت عطا فرمائے۔”آمين
(3)۔۔۔۔۔۔رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”جس نے کوئی نیا کام ایجاد کیا اللہ عزوجل اس پر لعنت فرمائے۔”
(صحیح البخاری،کتاب فضائل مدینہ،باب حرم المدینۃ، الحدیث:۱۸۶۷،ص۱۴۶،تقدماو تأخرا)
 (4)۔۔۔۔۔۔خاتَمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمین صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”چھ شخص ایسے ہیں جن پر اللہ عزوجل اور ہر مستجاب الدعوات نبی لعنت فرماتاہے: (۱)اللہ عزوجل کی کتاب میں زیادتی کرنے والا (۲)اللہ عزوجل کی تقدیر کو جھٹلانے والا (۳)میری اُمت پر اس لئے زبردستی طاقت کے ذریعے مسلَّط ہو جانے والا تا کہ جنہیں اللہ عزوجل نے معزز کیاانہیں ذلیل کرے اور جنہیں اللہ عزوجل نے رسوا کیا ہے انہیں معزز بنائے (۴)اللہ عزوجل کی حرمت کو حلا ل ٹھہرانے والا (۵)میری اولاد کے معاملہ میں اس چیز کو حلال سمجھنے والا جسے اللہ عزوجل نے حرام کیا (۶)میری سنت کوچھوڑنے والا۔”
 (المستدرک، کتاب التفسیر، سورۃ واللیل اذا یغشی،باب ستۃ لعنھم اللہ ۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث: ۳۹۹۶،ج۳،ص۳۷۵)
 (5)۔۔۔۔۔۔سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”جس نے میری سنت سے منہ پھیرا وہ مجھ سے نہیں۔”
  (صحیح البخاری، کتاب النکاح، باب الترغیب فی النکاح، الحدیث: ۵۰۶۳،ص۴۳۸)
 (6)۔۔۔۔۔۔شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”جو اُمت اپنے نبی کے بعد اپنے دین میں کوئی بدعت ایجاد کر لیتی ہے، وہ اس جیسی سنت کو ضائع کر بیٹھتی ہے۔”
 (المعجم الکبیر،الحدیث: ۱۷۸،ج۱۸،ص۹۹)
 (7)۔۔۔۔۔۔مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امین صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :” آسمان کے سائے تلے نہیں کوئی ايسامعبودپوجا جاتاجو اللہ عزوجل کے نزدیک پيروی کی جانے والی نفسانی خواہش سے(گناہ کے اعتبار سے )بڑاہو۔”  (المعجم الکبیر،الحدیث: ۷۵۰۲،ج۸،ص۱۰۳)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

تنبیہ:
    شیخ الاسلام صلاح علائی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنے قواعد میں جو صراحت کی ہے اس کی بناء پر اسے کبیرہ گناہوں میں شمار کیا گیا ہے، جبکہ علامہ جلال بلقینی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کبیرہ گناہوں کوشمارکرتے ہوئے لکھتے ہیں :”سولہواں کبیرہ گناہ بدعت ہے اور ترکِ سنت سے بھی یہی مراد ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!