Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

بچّوں کی مرضی معلوم کرنی چاہئے

بچّوں کی مرضی معلوم کرنی چاہئے

حضرت سَیِّدُنا ذَکوان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صِدّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا سے سُنا کہ وہ فرما رہی تھیں : میں نے رسولُ الله صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ سے پوچھا : جب گھر والے لڑکی کا نکاح کریں تو اُس سے اجازت لینی چاہئے یا نہیں ؟رسولُ الله صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : ہاں ، اجازت لینی چاہئے۔ میں نے عرض کی : یا رسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ!لڑکی کو شرم آئے گی!تو رسولُ الله صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : اُس کا خاموش ہوجانا اُس کی اجازت ہے۔ (1) ایک اور موقع پر ارشاد فرمایا : بیوہ کا  نکاح اُس وقت تک نہ کیا جائے جب تک کہ اُس سے اجازت نہ لے لی جائے اور کنواری کا نکاح بھی اُس کی اجازت کے بغیر نہ کیا جائے۔ لوگوں نے عرض کیا : یارسولَاﷲ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ! کنواری کی اجازت کس طرح ہوگی؟ فرمایا : اُس کی خاموشی۔ (2)
________________________________
1 –   مسلم ، کتاب النکاح ، باب استئذان الثیب   الخ ، ص۵۶۷ ، حـدیث : ۳۴۷۵
2 –   مسلم ، کتاب النکاح ، باب استئذان الثیب   الخ ، ص۵۶۶ ، حـدیث : ۳۴۷۳
error: Content is protected !!