سیدنا فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کی آرزو

سیدنا فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کی آرزو

حضرت سیدنا فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ نے ایک دن رسولِ اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو جمع کیا اور انہیں کہا،”اپنی اپنی آرزو بیان کیجئے۔”ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے کہا میری آرزو ہے کہ” میرے پاس ایک لشکر ہو جسے لیکر میں دشمنانِ اسلام سے جہاد کروں۔” دوسرے صحابی رضی اللہ عنہ نے کہا ،”میری آرزو یہ ہے کہ میرے پاس بہت سا مال ہو جسے میں راہ ِ خدا عزوجل میں خرچ کردوں۔”حضرت سیدنا امیر المؤمنین عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا ،”میری آرزو یہ ہے کہ میرے پاس سعید بن عامر (رضی اللہ عنہ ) جیسا کو ئی نگراں ہو جسے میں مسلمانوں کے امور کا والی بنادوں۔” یہ کہنے کے بعد آپ اتنا روئے کہ بات کر نا مشکل ہو گئی ۔ آپ کے زبان سے بار بار یہی دعانکل رہی تھی ،رَحِمَہُ اللہُ۔۔۔۔۔۔رَحِمَہُ اللہُ۔۔۔۔۔۔رَحِمَہُ اللہُ یعنی اللہ تعالیٰ ان پر رحم فرمائے۔۔۔۔۔۔ اللہ تعالیٰ ان پر رحم فرمائے ۔۔۔

۔۔۔ اللہ تعالیٰ ان پر رحم فرمائے ۔ (من نفحات الخلود ،ص۱۹۵مترجم)

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!

الحمدللہ ( عزوجل)! آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ ہمارے بزرگوں کا کردار کتنا عظیم اور لائق ِ تقلید ہوا کرتا تھا ،

بالخصوص اہل ِ حمص کے دوسرے اعتراض کے جواب میں حضرت سیدنا سعید بن عامر رضی اللہ عنہ نے جو کچھ ارشاد فرمایا، اس میں ہمارے لئے کس قدر سبق پوشیدہ ہے اور آپ اپنے بعد میں آنے والے نگرانوں کے لئے رعایا کی خدمت کے ساتھ ساتھ انفرادی عبادت کی کیسی مدنی سوچ پیدا کر رہے ہیں ،اور اس عبادت میں اخلاص ایسا کہ کسی کو کانوں کان خبر نہ ہونے دی ۔

صَلُّوْ ا عَلَی الْحَبِیبْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

پیارے اسلامی بھائیو! اگر ہم اپنے گریبان میں جھانکنے کی زحمت گوارہ کریں

تو انفرادی عبادت کا جذبہ شاید سویا ہوا نظر آئے اور بالفرض اگر انفرادی عبادت کی ترکیب بنی ہوئی ہو تو بھی اخلاص تلاشِ بسیار کے باوجود نہ ملے ۔آہ صد کروڑ آہ ! رونے کا مقام ہے کہ آج ہماری عبادتیں دکھاوے کی نذر ہو تی جارہی ہیں ،لوگوں کے درمیان توخوب عاجزی کے پیکر،حسن ِاخلاق کے مظہر اور سنتوں کے عامل بن کر رہتے ہیں لیکن جوں ہی تنہائی میسر آتی ہے تو یہ عاجزی کا پیکر،حسن ِاخلاق کا مظہر اور سنتوں کا عامل ہونے کی صفت نہ جانے کون سی اندھیری غار میں چھپ جاتی ہے کہ ڈھونڈے نہیں ملتی ۔ غور کیجئے !کہیں ایسا تو نہیں کہ عاجزی ، حسن ِ اخلاق اورسنت پر عمل کے دل کش مناظر صرف اور صرف لوگوں کے لئے تھے؟ کہیں ہم بھی تو اُن میں شامل نہیں جو لوگوں کودکھانے کے لئے تو نیکی کی دعوت کی خوب دُھومیں مچائیں، مدنی انعامات پر خوب عمل کریں،اسلامی بھائیوں کے درمیان کھانا کھاتے وقت خوب خوب سنتوں پر عمل کریں، پردے میں پردہ کریں لیکن جب گھر پر تنہا کھانا کھائیں تو نہ سنتوں پر عمل یاد رہے اورنہ ہی پردے میں پردہ کر کے بیٹھنا نصیب ہو ، جب لوگوں کے درمیان ہوں تو مغرب کے بعد نوافل کی خوب کثرت کریں مگر تنہائی میں فرض کے بعد والی دو سنتیں بھی مشکل سے ادا ہوں ،لوگوں کے درمیان تو سنجیدگی کا خوب مظاہرہ کریں لیکن جب گھر والوں کے ساتھ بیٹھیں تو مسخرے پن کے عادی نظر آئیں ، لوگوں کے درمیان تو خوب مسکرامسکر اکر باتیں کریں اور ذمہ داران کی خوب اطاعت کریں لیکن جب ماں باپ کوئی کام کہیں تو صاف انکا رکردیں اور ان کا دل دُکھا بیٹھیں وغیرہ ۔

آہ! آہ! آہ! ہمارا یہ طرزِ عمل کہیں ہمیں آخرت میں ذلیل و رسوا نہ کروادے۔  ہ۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *