سیِّدُنا شیبان راعی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا جوابِ لا جواب:

سیِّدُنا شیبان راعی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا جوابِ لا جواب:

حضرت سیِّدُنا عبداللہ علیہ رحمۃاللہ فرماتے ہیں: ”ایک روزمیرے والد ِ محترم حضرت سیِّدُنا امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت سیِّدُنا امام شافعی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ان کے قریب سے حضرت سیِّدُنا شیبان راعی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کا
گزر ہوا۔ انہوں نے اُونی جبہ پہن رکھا تھا۔ حضرت سیِّدُنا امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت سیِّدُنا امام شافعی علیہ رحمۃ اللہ الکافی سے فرمایا: ”اے ابو عبداللہ! کیا میں اس ناواقف کواس کی ناواقفیت پر آگاہ نہ کروں؟” حضرت سیِّدُنا امام شافعی علیہ رحمۃ اللہ الکافی نے فرمایا: ”چھوڑیئے! اسے اپنے حال پر رہنے دیجئے۔” حضرت سیِّدُناامام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں :”نہیں، اسے سمجھانا بہت ضروری ہے۔” پھر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت سیِّدُنا شیبان علیہ رحمۃاللہ المنّان کو اپنے پاس بلاکر استفسار فرمایا: ”اے شیبان! اس شخص کے متعلق کیا کہتے ہو جو کسی دن اپنی نماز بھول گیااور نہیں جانتا کہ کون سی نماز تھی تواب اس پر کیا واجب ہے؟” تو حضرت سیِّدُنا شیبان علیہ رحمۃاللہ المنّان نے جواباً ارشاد فرمایا: ”اے احمد! ایسے شخص کا دل یادِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ سے غافل ہے اور وہ بھولا ہوا غافل ہے۔لہٰذا اس پرلازم ہے کہ وہ سیکھے تاکہ دوبارہ کبھی نماز سے غافل نہ ہو اوراس د ن کی ساری نمازیں بھی قضا کرے۔ پھر وہ حضرت سیِّدُنا امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت سیِّدُنا امام شافعی علیہ رحمۃ اللہ الکافی کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ” کیا آپ دونوں میرے جواب کا رد کرسکتے ہیں؟”یہ سن کرحضرت سیِّدُنا امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ خوشی سے چِلّااُٹھے اور فرمایا: ”نہیں، اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم !یہی جواب صحیح ہے۔”پھر ان کو وہیں چھوڑ کر حضرت سیِّدُنا شیبان علیہ رحمۃاللہ المنّان تشریف لے گئے۔”
حضرت سیِّدُنا ادریس رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں، حضرت سیِّدُنا امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سِلا ہوا لباس نہ پہنتے تھے بلکہ کچی سلائی کرکے درمیان سے گول کاٹ لیتے اور سرمیں داخل کرلیتے اور فرماتے: ”جو مرجائے گا اس کے لئے اتنا ہی کافی ہے۔” آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ زیادہ ترخود رُو زمینی سبزی تناول کرتے اور فرماتے: ”اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! یہ وہ حلال چیز ہے جس میں کوئی حساب وکتاب نہیں۔”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!