Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

پودے لگانا کیسا ؟

پودے لگانا کیسا ؟

سُوال : پودے لگانا کیسا ہے ؟

جواب : پودے لگانا ہمارے پىارے آقا، مکی مَدَنی مصطفے ٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے ثابِت ہے ۔ جیسا کہ حضرتِ سَیِّدُنا سَلمان فارِسی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : میں حضورِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں حاضِر ہوا اور مُہرِ نبوت دیکھ کر اس کو بوسے دینے لگا ۔ میں ابھی حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی مُہر

نبوت کو بوسے ہی دے رہا تھا کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرمایا : ” اب بس کرو ۔ “ چنانچہ میں ایک طرف ہَٹ گیا، پھر میں نے حضورِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو اپنی ساری رُوداد سُنائی تو حضورِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم اور صَحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان بہت حیران ہوئے کہ میں کس طرح مشقتیں اور اَذِیتیں بَرداشت کر کے یہاں تک پہنچا ۔
ایک دِن سرکارِ عالی وقار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے مجھ سے فرمایا : اے سَلمان (رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ )! تم اپنے مالِک سے مُکاتَبَت کر لو (یعنی اسے رَقم دے کر آزادی حاصِل کر لو ) جب میں نے اپنے مالِک سے بات کی تو اُس نے کہا : مجھے 300 کھجوروں کے دَرخت لگا دو اور 40 اُوقِیَہ(یعنی1600 دِرہم کے وزن کی )چاندی بھی دو پھر جب یہ کھجور یں پھل دینے لگ جائیں گی تو تم میری طرف سے آزاد ہو جاؤ گے ۔ میں آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی بارگاہِ بیکس پنا ہ میں حاضِر ہوا اور اپنے مالِک کی شَرطیں آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو بتائیں ۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے صَحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے فرمایا : اپنے بھائی کی مدد کرو ۔ چنانچہ صَحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے بھرپور تعاون کیا، کسی نے کھجوروں کے 30پودے لا کر دیئے ، کسی نے 20، کسی نے 15 اور کسی نے 10 ۔ اَلغرض! صَحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی مدد سے میرے پاس 300کھجوروں کے پودے جمع ہو گئے ۔ پھر حضورِ اَقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرمایا : اے

سَلمان(رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ )!تم جاؤ اور زمین کو ہموار کرو ۔ جب زمین ہموار ہو جائے تو مجھے آ کر خبردومیں اپنے ہاتھوں سے پودے لگاؤں گا ۔ چنانچہ میں گیا اور زمین ہموار کرنے لگا ، صَحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے زمین ہموار کرنے میں میری مدد کی ۔ جب میں فارِغ ہو کر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں حاضِر ہوا اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو خبر دی تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم میرے ساتھ چل دیئے ۔ ہم حضورِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو کھجوروں کے پودے اُٹھا اُٹھا کر دیتے اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم اپنے دَستِ اَقدس سے انہیں زمین میں لگاتے جاتے ۔
حضرتِ سَیِّدُنا سَلمان فارِسیرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : اس پاک پَروردگار عَزَّوَجَلَّ کی قسم جس کے قَبضۂ قدرت میں میری جان ہے حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے جتنے پودے لگائے وہ سب کے سب اُگ آئے اور ان میں بہت جلد پھل لگنے لگے ۔ چنا نچہ میں نے 300کھجوروں کے دَرخت اپنے مالِک کے حوالے کیے ۔ اب میرے ذِمّے 40 اُوقِیَہ چاندی دینا باقی رہ گئی تھی ؟ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے پاس کسی نے مُرغی کے انڈے جتنا سونے کا ایک ٹکڑا بھیجا ۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے اِستِفسارفرمایا : سَلمان فارِسی کا کیا ہوا ؟ پھر مجھے بُلوایا، میں نے عرض کی : ابھی 40 اُوقِیَہ چاندی اور دینی ہے ، پھر مجھے غُلامی سے آزادی ملے گی ۔

حضورِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے مجھے وہ سونے کا ٹکڑا دیا اورفرمایا : جاؤ! اور اس کے ذَریعے 40اُوقِیَہ چاندی جو تمہارے ذِمّے باقی ہے اسے ادا کرو ۔ میں نے عرض کی : یہ اِتنا سا سونا 40اُوقِیَہ چاندی کے برابر کس طر ح ہوگا ؟ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : تم یہ سونا لو اور اس کے ذَریعے 40 اوقیہ چاندی جو تمہارے ذِمّے ہے ، اسے ادا کرو، اللہ عَزَّوَجَلَّ تمہارے لئے اِسی سونے کو کافی کر دے گا اور تمہارے ذِمّے جتنی چاندی ہے یہ اس کے برابر ہوجائے گا ۔ میں نے وہ سونے کا ٹکڑا لیا اور اس کا وزن کیا ۔ اس پاک پَروردگار عَزَّ وَجَلَّ کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے ! وہ تھوڑا سا سونا 40 اُوقِیَہ چاندی کے برابر ہو گیا او ر اِس طرح میں نے اپنے مالِک کو چاندی دے دی اور غُلامی کی قید سے آزاد ہو کر سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے غُلاموں میں شامِل ہو گیا ۔ (1)
اىک رِواىت میں ہے سارے پودے سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے اپنے دَستِ مُبارَک سے لگائے ، سِوائے اىک پودے کے وہ حضرتِ سَیِّدُنا عمر فاروق اعظمرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے لگاىا ۔ (2)

______________________________
1 – مسند امام احمد، حدیث سلمان الفارسی، ۹ / ۱۸۹، حدیث : ۲۳۷۹۸ ملتقطاً دار الفکر بیروت
2 – دلائل النبوة، باب ماظهر فی النخل التی غرسها النبی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم…الخ، ۶ / ۹۷ دار الکتب العلمیة بیروت

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!