Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

قیامت کی سختیاں

قیامت کی سختیاں

یَّوْمَ تَبْیَضُّ وُجُوۡہٌ وَّ تَسْوَدُّ وُجُوۡہٌ

”ترجمۂ کنزالایمان : جس دن کچھ منہ اونجالے (روشن)ہوں گے اور کچھ منہ کالے۔”(پ4، اٰل عمران: 106)

حمد ِباری تعالیٰ:

تمام خوبیاں اللہ عزَّوَجَلَّ کے لئے ہیں جس نے اپنے اولیاء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کو صفتِ جمال کی معرفت عطا فرمائی تو انہوں نے عرفانِ خدوندی کی لازوال دولت حاصل کرلی، ا س کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے ان کی رہنمائی فرمائی اور انہیں اُنسیَّت عطا فرمائی تو وہ اس سے مانوس ہو گئے، ان کے دلوں میں اپنے راز ڈالے تو اس کی توفیق سے وہ اس کا ذکر کرنے لگے۔ اللہ عزَّوَجَلَّ ان کے احوال بیان کرکے ملائکہ کے سامنے فخر فرماتا ہے اور ایسا کیوں نہ ہوجبکہ اللہ عزَّوَجَلَّ ان سے محبت کرتا ہے اوروہ اللہ عزَّوَجَلَّ سے محبت کرتے ہیں۔اس نے ان کے دلوں کی سلطنت غفلت سے محفوظ فرمائی تو انہوں نے اس کی بارگاہ کو لازم پکڑ لیا اور اپنی ساری زندگی اخلاص کو اپنایا اور اسی پردُنیا سے رخصت ہوئے۔ انہوں نے اپنے نامہ اعمال کو نافرمانیوں سے خالی رکھا اور اسے صحیح رکھنے کی پوری کوشش کی۔ وہ روزِ جزاء کی رسوائی سے خوفزدہ ہوئے تو انہوں نے اس امانت کی حفاظت کی جو اُن کے سپرد کی گئی تھی۔ انہوں نے اپنے محبوب ِحقیقی عَزَّوَجَلَّ سے اپنا مقصود بھی پایا اور طلب سے بھی سوا پایا۔ مگر محروم کو بد نصیبی کے میدان میں چھوڑ دیا جائے گا، اس پر رحم نہ کیا جائے گا، اسے میدانِ محشر میں شرمساری ہو گی اور اُسے اس دن ذلت کا لباس پہنایا جائے گاجس دن کچھ منہ روشن اور کچھ سیاہ ہوں گے۔
تمام خوبیاں اللہ عزَّوَجَلَّ کے لئے ہیں جس نے کائنات کو بغیر کسی شریک ومددگارکے پیدا کیا، وہ اپنی بلند شان میں اس سے پاک ہے کہ اسے طاقت وقدرت اور وجود دیا جائے۔اس نے اپنی شان کے مطابق عرش پراستوا فرمایا۔ وہ استغفار کرنے والوں کے لئے آسمان پر نزول فرماتا ہے۔ وہ بروزِ قیامت سب زمینوں کو سمیٹ دے گا اور اس کے حکم سے سب آسمان لپیٹ دیئے جائیں گے، وہ فرماتا ہے: ”الَّذِیۡۤ اَحْسَنَ کُلَّ شَیۡءٍ خَلَقَہٗ وَبَدَاَ خَلْقَ الْاِنۡسَانِ مِنۡ طِیۡنٍ ۚ﴿۷﴾ ترجمۂ کنزالایمان : جس نے جو چیز بنائی خوب بنائی اور پیدائشِ انسان کی ابتدا ء مٹی سے فرمائی ۔”(پ۲۱،السجدۃ:۷) اس نے انسان کوایک حقیر نُطفے سے پیدا کیا اور اسے پُوری دنیا میں پھیلا دیا۔ اللہ تعالیٰ انسان کے متعلق فرماتا ہے: ” فَاِذَا ہُوَ خَصِیۡمٌ مُّبِیۡنٌ ﴿۷۷﴾ ترجمۂ کنزالایمان :جبھی وہ صریح جھگڑالو ہے۔”(2)(پ۲۳،یٰسۤ: ۷۷)
الصُّدُوۡرُ ﴿۱۹﴾ ترجمۂ کنزالایمان: اللہ جانتا ہے چوری چھپے کی نگاہ اور جوکچھ سینوں میں چھپا ہے۔”(پ۲۴،المؤمن: ۱۹)
وہ نہ جسم ہے، نہ جوہر، نہ عرض، نہ عُنصر۔ وہ نورانی پردے سے پاک ہے۔ اسے فارغ سمجھنے والا اندھا ہے، اس کا انکار کرنے والا بے بصیرت ہے، اُس کے لئے جسم ثابت کرنے والا کمزور نظر والا ہے اور کسی کو اس کے مشابہ قرار دینے والا جہالت کی جیل میں قید ہے۔ اس نے بادلوں سے زور کا پانی برسایا اور اس کے ذریعے بہت سی اکٹھی اور بکھری ہوئی نباتات کو پیدا فرمایااوران کی غذائیں بنائیں اور حیوانات سے مذکر ومؤنث پیدا کرنے کے لئے پانی سے مادۂ منویہ بنایاتاکہ اس میں اس کا فضل اور عدل ظاہر ہو اور پیدا ہونے والی مخلوق تو عاجز ومجبور ہے۔ اس نے اِبتدائے آفرینش(آف ۔ری۔نِش۔پیدائش)سے لوحِ محفوظ میں انسان کی نجات وہلاکت کے کلمات لکھ دیئے۔پس سب کے ساتھ وہ معاملہ ہو گا جو وہ اپنے اندازے سے نہيں جان سکتے اور امو ر کا انجام ان سے مخفی کر دیا گیا۔پھر موت کا تیر ان کی طرف پھینکا تو اس نے انہیں ہلاک کردیاپھر اپنے اس فرمان سے اسے نصیحت کی تاکہ وہ جان لے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فیصلے میں عدل کرنے والا ہے اور وہ ظلم نہیں کرتا: ”کُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَۃُ الْمَوْتِ ؕ وَ اِنَّمَا تُوَفَّوْنَ اُجُوۡرَکُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ ؕ فَمَنۡ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَاُدْخِلَ الْجَنَّۃَ فَقَدْ فَازَ ؕ وَمَا الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوۡرِ ﴿۱۸۵﴾ ترجمۂ کنزالایمان :ہر جان کو موت چکھنی ہے اور تمہارے بدلے تو قیامت ہی کو پورے ملیں گے جو آگ سے بچاکر جنت میں داخل کیا گیا وہ مراد کو پہنچا اور دنیا کی زندگی تو یہی دھوکے کا مال ہے۔(پ۴،اٰل عمران : ۱۸۵)”(۱)
پاک ہے وہ رب عَزَّوَجَلَّ جو فیصلہ کرتا ہے لیکن اس پر فیصلہ نہیں کیا جاتا،جو صحیح کو توڑتا اور ٹوٹے ہوئے کو جوڑتا ہے، میں اس کی رحمت کی امید رکھنے والے جیسی حمد کرتا ہوں کیونکہ وہ اسے غفور و رحیم جانتا ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ عزَّوَجَلَّ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ،وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں،میں نے یہ گواہی روزِ محشر کے لئے تیار کررکھی ہے ا ور میں گواہی دیتاہوں کہ حضرت سیدنا محمد مصطفی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم اللہ عزَّوَجَلَّ کے خاص بندے اور رسول ہیں، آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم قیامت کے دن تمام امتوں کی شفاعت فرمائیں گے۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! فانی شئے کا طالب خسارے میں ہے کیونکہ عنقریب وہ اسے چھوڑ کر رخصت ہو جائے گا۔ کیا وہ شخص آنے والے لمحات میں غور نہیں کرتا کہ وہ اس کی عمر کے مختلف مراحل کو لپیٹ رہے ہیں؟ کیا دن اور رات آنکھیں پھاڑے

1۔۔۔۔۔۔مفسِّرِ شہیر، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، صدرُالافاضل سیِّد محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی تفسیر خزائن العرفان میں اس آیتِ مبارکہ

کے تحت فرماتے ہیں: ”شانِ نزول: یہ آیت عاص بن وائل یا ابوجہل اور بقولِ مشہور اُبَیْ بن خلف حُمَجِی کے حق میں نازل ہوئی جو انکارِ بعث میں یعنی مرنے کے بعد اٹھنے کے انکار میں سیّد عالم صلَّی اللہ علیہ وآلہٖ وسلَّم سے بحث و تکرار کرنے آیا تھا، اس کے ہاتھ میں ایک گلی ہوئی ہڈی تھی، اس کو توڑتا جاتا تھااور سیّد عالم صلَّی اللہ علیہ وآلہٖ وسلَّم سے کہتا جاتا تھا کہ کیا آپ کا خیال ہے کہ اس ہڈی کو گل جانے اوریزہ ریزہ ہوجانے کے بعد بھی اللہ تعالیٰ زندہ کریگا ؟ حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام نے فرمایا : ہاں، اور تجھے بھی مرنے کے بعد اٹھائے گا اور جہنم میں داخل فرمائے گا۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی اور اس کے جہل کا اظہار فرمایا گیا کہ ”گلی ہوئی ہڈی کا بکھرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کی قدرت سے زندگی قبول کرنا، اپنی نادانی سے ناممکن سمجھتا ہے ۔کتنا احمق ہے اپنے آپ کو نہیں دیکھتا کہ ابتدا میں ایک گندہ نطفہ تھا، گلی ہوئی ہڈی سے بھی حقیرتَر۔ اللہ تعالیٰ کی قدرتِ کاملہ نے اس میں جان ڈال دی، انسان بنایا تو ایسا مغرور و متکبر انسان ہوا کہ اس کی قدرت ہی کا منکر ہو کر جھگڑنے آگیا۔ اتنا نہیں دیکھتا کہ جو قادرِ برحق پانی کی بوند کو قوِّی اور توانا انسان بنادیتا ہے، اس کی قدرت سے گلی ہوئی ہڈی کو دوبارہ زندگی بخش دینا کیا بعید ہے اور اس کو ناممکن سمجھنا کتنی کھلی ہوئی جہالت ہے ۔”
اس کا پیچھا نہیں کر رہے؟ کیاتوان لوگوں کو نہیں دیکھتا جن کی عمریں ہزار سال تھیں؟ جب ان سے پوچھا گیا تو انہوں نے یہی جواب دیا کہ ہم توکچھ دن ہی اس دار فانی میں ٹھہرے تھے۔ کیا تو ان لوگوں سے ناواقف ہے جنہوں نے مضبوط قلعے بنائے اور بڑے بڑے سرداروں کو حفاظت میں رکھا، انہیں آباد کرنے والوں کو موت کی تلوار نے تباہ و برباد کر دیا اور سب کچھ ان کی ملکیت سے زائل ہوگیا؟ قومِ نوح،قومِ عادوثمود اورقومِ تُبَّع اورپہلے والے بادشاہ کہاں ہیں؟کہاں ہیں وہ لوگ جو کبھی مشرق ومغرب کے مالک تھے؟ وہ سب رخصت ہو گئے اوران کا سب کچھ بیکار ہو گیا اور وہ خود اس اندھیرے گھرمیں منتقل ہو گئے، جس میں شاہ وگدا سب برابر ہیں۔ کیا تو ان کی پکار نہیں سنتاحالانکہ وہ خاموش معلوم ہوتے ہیں؟ اے عقلمند! کیا تو ان سے نصیحت حاصل نہیں کرتا؟ شداد اور نعمان کہاں چلے گئے؟ بادشاہِ ایران اور اس کے محلات کہاں گئے؟ بابل کے بادشاہوں کو کس نے گمنام کر دیا ؟ موت نے ان سب کا کام تمام کر دیا: ”یَّوْمَ تَبْیَضُّ وُجُوۡہٌ وَّ تَسْوَدُّ وُجُوۡہٌ ۚ ترجمۂ کنزالایمان : جس دن کچھ منہ اونجالے (روشن)ہوں گے اور کچھ منہ کالے۔”(پ۴،اٰل عمران: ۱0۶)

1۔۔۔۔۔۔مفسِّرِ شہیر، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، صدرُالافاضل سیِّد محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی تفسیر خزائن العرفان میں اس آیتِ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں: ”توبہ و ادائے فرائض و طاعات و اخلاصِ عمل اختیار کرکے۔ یہ جنَّت کی وُسعت کا بیان ہے اس طرح کہ لوگ سمجھ سکیں۔کیونکہ اُنہوں نے سب سے وسیع چیز جو دیکھی ہے وہ آسمان و زمین ہی ہے۔ اس سے وہ اندازہ کرسکتے ہیں کہ اگر آسمان و زمین کے طقبے طقبے اور پرت پرت بنا کر جوڑ دیئے جائیں اور سب کا ایک پرت کر دیا جائے اس سے جنّت کے عرض کا اندازہ ہوتا ہے کہ جنّت کتنی وسیع ہے۔ ہر قل بادشاہ نے سید عالم صلَّی اللہ علیہ وآلہ وسلَّم کی خدمت میں لکھا کہ جب جنَّت کی یہ وسعت ہے کہ آسمان و زمین اس میں آجائیں تو پھر دوزخ کہاں ہے۔ حضورِ اقدس صلَّی اللہ علیہ وآلہ وسلَّم نے جواب میں فرمایا کہ” سُبحانَ اللہ ! جب دن آتا ہے تو رات کہاں ہوتی ہے۔ اس کلام بلاغت نظام کے معنی نہایت دقیق ہیں۔ ظاہر پہلو یہ ہے کہ دورۂ فلکی سے ایک جانب میں دن حاصل ہوتا ہے تو اس کے جانب ِمقابل میں شب ہوتی ہے۔ اسی طرح جنت جانب ِ بالا میں ہے اور دوزخ جہت پستی میں۔یہود نے یہی سوال حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کیا تھا تو آپ نے بھی یہی جواب دیا تھا۔ اس پر انہوں نے کہا کہ توریت میں بھی اسی طرح سمجھایا گیا ہے۔معنی یہ ہیں کہ اللہ کی قدرت و اختیار سے کچھ بعید نہیں، جس شے کو جہاں چاہے رکھے۔ یہ انسان کی تنگئ نظر ہے کہ کسی چیز کی وسعت سے حیران ہوتا ہے تو پوچھنے لگتا ہے کہ ایسی بڑی چیز کہاں سمائے گی حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ، سے دریافت کیا گیا کہ جنّت آسمان میں ہے یا زمین میں۔ فرمایا: کون سی زمین اور کون سا آسمان ہے جس میں جنت سما سکے۔ عرض کیا گیا پھر کہاں ہے؟ فرمایا: آسمانوں کے اوپر زیرِ عرش۔ اس آیت اور اس سے اوپر کی آیت ”وَاتَّقُوالنَّارَالَّتِیْ اُعِدَّتْ لِلْکٰفِرِیْنَ” سے ثابت ہوا کہ جنّت و دوزخ پیدا ہوچکیں موجود ہیں ۔ ”

2۔۔۔۔۔۔مفسِّرِ شہیر، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، صدرُالافاضل سیِّد محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی تفسیر خزائن العرفان میں اس آیتِ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں: ”دنیا کی حقیقت اس مبارک جملہ نے بے حجاب کردی۔ آدمی زندگانی پرمفتوں(یعنی فریفتہ ، شیدا) ہوتا ہے۔ اسی کو سرمایہ سمجھتا ہے اور اس فرصت کو بے کار ضائع کردیتا ہے۔ وقت اخیر اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں بقانہ تھی ۔اس کے ساتھ دل لگانا حیاتِ باقی اور اُخروی زندگی کے لئے سخت مضرت رساں ہوا۔ حضرت سعید بن جبیر نے فرمایا کہ ”دنیا طالبِ دنیا کے لئے متاع غرور اور دھوکے کا سرمایہ ہے۔ لیکن آخرت کے طلب گار کے لئے دولت باقی کے حصول کا ذریعہ اور نفع دینے والا سرمایہ ہے۔”

error: Content is protected !!