معجزات کابیان

سوال:معجزہ کسے کہتے ہیں؟
جواب: وہ عجیب و غریب کام جو عام طورپریعنی عادۃً ناممکن ہوں اورایسی باتیں اگر نبوّت کا دعویٰ کرنے والے سے اس کی تائید میں ظاہر ہوں تو ان کو ’’معجزہ‘‘ کہتے ہیں(1)  جیسے حضرت موسیٰ عَـلَـيْهِ الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَام کے عصا کا اژدھابن جانا، حضرت سلیمان عَـلَـيْهِ الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَام کا میلوں دورسے چیونٹی کی آواز سن لینا،حضرت داؤد عَـلَـيْهِ الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَام کے ہاتھ میں لوہے کا موم کی طرح نرم ہوجانا،حضرت عیسیٰ عَـلَـيْهِ الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَام کامُردوں کو زندہ کرنا ،ہمارے پیارے آقا صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمکا ڈوبے ہوئے سورج کو واپس لوٹانا،چاند کے دو ٹکڑے کرناوغیرہ۔
سوال: انبیاءِ کرام عَـلَـيْهِمُ   الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَام کو معجزات کیوں عطا کئے جاتے ہیں ؟
جواب: معجزات انبیاء عَـلَـيْهِمُ   الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَام کی نبوّت کی دلیل ہیں۔ معجزات دیکھ کر آدمی کا دل نبی کی سچائی کا یقین کر لیتا ہے جس کے ہاتھ سے قُدرت کی ایسی نشانیاں ظاہر ہوتی ہیں  جن کے آگے سب لوگ عاجز و حیران ہیں ضرور وہ خُدا کا بھیجا ہوا ہے چاہے ضِدّی دُشمن نہ مانے مگر دل یقین کر ہی لیتا ہے اورعقل والے ایمان لے آتے ہیں۔
سوال: کیاکوئی نبوّت کاجھوٹا دعویٰ کر کے معجزہ نہیں دکھا سکتا؟
جواب:نبوّت کاجھوٹادعویٰ کر نے والا معجزہ ہرگز نہیں دکھا سکتا اور قُدرت اس کی تائید نہیں فرماتی۔
سوال:ہمارے حضور سیّدُ الانبیاء صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمکے کتنے معجزات ہیں؟
جواب:ہمارے حضور سیّدُ الانبیاء صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّم کے معجزات بہت زیادہ ہیں ان میں سے معراج شریف بہت مشہور معجزہ ہے۔
سوال:معراج کے معجزے کے بارے میں کچھ بتائیے؟
جواب: حضور صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمرات کے تھوڑے سے حصّہ میں مکّۂ معظّمہ سے بیتُ المقدس تشریف لے گئے، وہاں انبیا ء عَـلَـيْهِمُ   الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَام کی امامت فرمائی۔بیتُ المقدس سے آسمانوں پر تشریف لے گئے ۔ اللّٰہ تعالیٰ کے قُرب کا وہ مرتبہ پایا کہ کبھی کسی انسان یا فرشتے ، نبی یا رسول نے نہ پایا تھا ۔ خداوندِ عالَم کا جمالِ پاک اپنی مبارک آنکھوں سے دیکھا، کلامِ الٰہی سنا ، آسمان وزمین کے تمام مُلک ملاحظہ فرمائے یعنی دیکھے، جنّتوں کی سیر کی، دوزخ کا معائنہ فرمایا یعنی اپنی آنکھوں سے دیکھا، مکّۂ معظّمہ سے بیتُ المقدس تک راستے میں جو قافلے ملے تھے صبح کو ان کے حالات بیان فرمائے۔(1)
سوال:کیامعراج کا سفرنیندکی حالت میں ہواتھا؟
جواب:جی نہیں ،بلکہ عین بیداری کی حالت میں ہواتھا۔
سوال:یہ معراج جسمِ اطہر کے ساتھ تھی یا فقط روح کی تھی؟
جواب:یہ معراج جسمِ اطہر اور روح دونو ں کے ساتھ ہوئی تھی۔
سوال:کیا نبی کے علاوہ بھی کسی سے معجزہ ظاہر ہوسکتا ہے؟
جواب:جی نہیں،معجزہ صرف نبی کے ساتھ خاص ہے ۔
سوال:معجزہ اور کرامت میں کیا فرق ہے؟
جواب:وہ عجیب و غریب کام جوعادۃً ناممکن ہو جسے نبی اپنی نبوّت کے ثبوت میں پیش کرے اور اس سے منکرین عاجز ہوجائیں وہ معجزہ ہے اورولی سے ظاہر ہوتو کرامت ہے۔(1)
٭…٭…٭…٭…٭…٭
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
 ۔۔۔کتاب العقائد،ص۱۹
۔۔۔سرکار صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمکی سیرت اور معجزات کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے کتاب ’’سیرتِ مصطفےٰ‘‘ (مطبوعہ مکتبۃ المدینہ) کا مطالعہ فرمائیں۔
۔۔۔قانونِ شریعت،ص۲۵

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!