Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

ملائکہ (فرشتوں) کا بیان

سوال:فرشتے کسے کہتے ہیں؟
جواب:فرشتے اللّٰہ  عَزَّ  وَجَلَّ کے ایمانداراورعزت والے بندے ہیں جواس کی نافرمانی کبھی نہیں کرتے ہیں، ہر قسم کے گناہ سے معصوم ہیں۔ ان کے جسم نورانی ہیں ، وہ نہ کچھ کھاتے ہیں ،نہ پیتے ہیں، ہر وقت اللّٰہ  عَزَّ  وَجَلَّ کی عبادت میں مصروف ہیں۔ اللّٰہ  عَزَّ  وَجَلَّ نے انہیں یہ قدرت یعنی طاقت دی ہے کہ وہ جو شکل چاہیں اختیار کریں۔ 
سوال:فرشتوں کے ذمّہ کیا کیاکام ہیں؟
جواب:وہ جُدا گانہ کاموں پر مقررہیں۔ بعض جنّت پر، بعض دوزخ پر، بعض آدمیوں کے عمل لکھنے پر، بعض روزی پہنچانے پر، بعض پانی برسانے پر، بعض ماں کے پیٹ میں بچہ کی صورت بنانے پر، بعض آدمیوں کی حفاظت پر ،بعض روح قبض کرنے پر، بعض قبر میں سوال کرنے پر، بعض عذاب پر، بعض رسول  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے دربار میں مسلمانوں کے درود و سلام پہنچانے پر، بعض انبیاء عَـلَـيْهِمُ الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَام کے پاس وحی لانے پر ۔


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

سوال:ملائکہ کے پاس کس قدر طاقت ہوتی ہے؟
جواب:ملائکہ کو اللّٰہ  عَزَّ  وَجَلَّ نے بڑی قوت عطا فرمائی ہے، وہ ایسے کام کر سکتے ہیں جسے لاکھوں آدمی مل کر بھی نہیں کر سکتے۔
سوال:مشہور فرشتے کون کون سے ہیں؟
جواب: تمام فرشتوں میں سے یہ چارفرشتے بہت مشہور اور بڑی عظمت رکھتے ہیں: حضرت جبرائیل، حضرت میکائیل، حضرت اِسرافیل، حضرت عِزرائیل عَـلَـيْهِمُ الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَام۔
سوال:کیا فرشتے دیکھنے میں آتے ہیں؟
جواب:ہمیں تو نظر نہیں آتے مگر جنہیں اللّٰہ  عَزَّ  وَجَلَّ چاہتا ہے وہ فرشتوں کو دیکھتے ہیں۔ انبیاء عَـلَـيْهِمُ الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَام انہیں ملاحظہ فرماتے ہیں ،ان سے کلام ہوتا ہے۔ قبروں میں مُردے بھی فرشتوں کو دیکھتے ہیں اور بھی جسے اللّٰہ  عَزَّ    وَجَلَّ چاہے، دیکھ سکتا ہے۔
سوال:ہر آدمی کے ساتھ ایک ہی فرشتہ عُمر بھر اس کے عمل لکھا کرتا ہے یا کئی فرشتے لکھتے ہیں؟
جواب:نیکی اور بدی کے لکھنے والے علیحدہ علیحدہ ہیں اور رات کے علیحدہ اور دن کے علیحدہ ہیں۔
سوال:نامۂ اعمال لکھنے والے ان فرشتوں کوکیا کہتے ہیں؟


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

جواب:کراماً  کاتبین۔

سوال:کُل کتنے فرشتے ہیں؟
جواب:بہت ہیں ہمیں ان کی تعداد معلوم نہیں۔
٭…٭…٭…٭…٭…٭
error: Content is protected !!