Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

سوال و جواب

(از مولیٰنا مولوی حضرت سید مقبول احمد شاہ قادری مدظلہ تعالیٰ )

سوال :-

 میت دفن کرنے کے بعد جو بوریا بچھتا ہے اس کو مسجد میں لاکر ڈال دیتے ہیں ، زید کہتا ہے کہ میت کے بوریوں پر نمازنہیں ہوتی ۔  امیر خان پٹھان ہبلی

جواب :-

الگ جب بوریا صاف پاک کر کے مسجد میں ڈال دے تو اس پر نماز پڑھنا جائز ہے ، زید جو کہتا ہے غلط ہے ۔

سوال :-

حضرت پیران پیر سید عبد القادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نیاز کرنے کے لئے نیاز مندوں کی تکرار ہے ، نر
ہی ذبح کرنا ، مادہ ذبح کرسکتے ہیں یا نہیں برائے مہربانی معلوم کرائیں ۔
عید الضحی میں جو قربانی دی جاتی ہے اس میں گائے ، بیل ، بھینس ، بکری ، بکرا یہ سب جائز ہیں یا نہیں ؟ ( آے، کے ، نالبند ، یلاپور ، ہبلی )

جواب :-

اللہ پاک نے جن جن جانوروں کو مسلمانوں کے لئے حلال کیا خواہ نر ہو یا مادہ ان کو نذر و نیاز کے واسطے ذبح
کرنا جائز ہے ، یہ نذرو نیاز شرعی نہیںبلکہ عرفی یعنی ہدیہ اور تحفہ ہے ، حضرت غوث پاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف ان چیزوں کی نسبت ، نسبتِ تشریفیہ ہے ، یعنی ان چیزوں میں شرافت پیدا ہوگی ، یہ چیزیں متبرک بن گئے ۔
قربانی کے اندر بھی خواہ نر ہویا مادہ ا ن سب جانوروں کو قربان کرنا جائز ہے ، ہاں اگر کسی مادہ کے اندر سے بچہ نکل آئے اور زندہ نکلے تو اس کو ذبح کرنا ، بدوں ذبح اس بچہ کا کھانا جائز نہیں ، یہی کتب فتویٰ میں موجود ہے ،

سوال :-

ایک لڑکا اپنی بیوی سے ہمبستری کرنے کے بعد صبح اس وقت جاگتا ہے جبکہ غسل کر کے نماز فجر ادا کی جائے ، یعنی اگر غسل کے لئے چلاجائے تو نماز فجر قضاء ہوجائے گی ، اس تنگ وقت میں کیا کیاجائے ؟ ( عبد الرحمن پنڈاری گلی ، ہبلی )

جواب:-

اگر وقت اتنا تنگ ہے کہ غسل کرے تو نماز کا وقت نکل جائے تب اس کو لازم ہے تیمم کر کے نماز فجر ادا کرے ، پھر موقعہ ملنے کے بعد غسل کر کے دوبارہ اس نماز کو پڑھے ، ورنہ نماز کو بلاعذر شرعی قصداً ایک وقت کا چھوڑنا بھی گناہ کبیرہ ہے ، اور یہ چھوڑنے والا فاسق اور عذادب کا مستحق ہوگا ، یہی کتب فتویٰ میں موجود ہے ۔

سوال :-

 (1) محرم الحرام میں پنجے پکڑنے والے کیوں بے ہوش ہوجاتے ہیں ؟
(2) رجب شریف کی بائیسویں کی پوریوں کو غیر اللہ کا کھانا کہنا کہاں تک درست ہے ؟ بچی ہوئی غذا کو مٹی میں دفن کرنا کہاں تک درست ہے ؟
(3) بے مرید شخص جاہل کی موت مرے گا ؟ کامل مرشد کی پہچان کیا ہے ؟
( صدر الدین صاحب ملا ، کاگ نلہ

جواب :-

 (1) محرم الحرام میں جو پنجے پکڑتے ہیں ان پر حالت کربلا کا غم طاری ہوتا ہوگا ، اور غم کی زیادتی کے سبب بے ہوش ہوتے ہوں گے ، بعض غم کے سبب مر بھی جاتے ہیں ، اسی واسطے کمزور آدمیوں کو دفعتاً کسی خوشی یا غمی کی خبر نہیں دینا چاہئے بلکہ آہستہ آہستہ خبردار کرنا چاہئے ، بعض خوشی کی خبر سے بھی مرجاتے ہیں ، یہ طب میں موجود ہے ۔
(2) رجب شریف کی بائیسویں پوریوں کی فاتحہ جو ہے اس کی نسبت حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف ہے یہ نسبت نسبتِ تشریفیہ ہے ، ان پوریوں میں نسبت کے سبب شرافت پیدا ہوگئی ، یہ سب چیزیں متبرک ہوئے ، اس نادان سے تو پوچھو کہ غیر اللہ کس کو کہتے ہیں ؟ دنیا کی تمام چیزوں کی نسبت غیر اللہ کی طرف ہے یا اللہ کی طرف ؟ اس سے پوچھو تیرا گھر ، تیرا کپڑا تیرے بدن پر ہے یہ کس کاہے ؟ خدا ہے یا تیرا ہے ؟ تو جو کھاتاہے یہ کیا کھاتا ہے ؟ تیرے نام کا اللہ ہے ،
تو اسی کو حرام کہتاہے اور اسی کو کھاتاہے ؟ جس نے حرام کو حلال سمجھ کر کھایا وہ اسلام سے خارج کافر ہوجاتاہے ، کتب فتویٰ میں موجود ہے ۔

بچی ہوئی غذا کو غربا مساکین کو کھلانا ، اس کو دفن کرنا غذا کو ضائع کرنا ہے ، یہ اصراف ہے ، جو حرام ہے ، البتہ غذا کھانے کے بعد جو ہاتھ دھوتے ہیں ،
غذا کے اجزاء پانی میں پڑجاتے ہیں ، لہٰذا یہ پانی ایک کنارے پر ڈال دیں تاکہ مرغی ، چیونٹی وغیرہ کھالے ، اور لوگوں کے پیروں کے نیچے نہ آنے دیا جائے ، یہ حکم سب غذا کھانے کے بعد کے لئے ہے یہاں تک کہ دانتوں میں بچے ہوئے ذرات جو خلال کر کے دانت سے نکالتے ہیں ان کو بھی کنارے پر ڈالنا چاہئے ، راستہ پر نہ ڈالیں ۔

(3) جس ک ایہ اعتقاد ہو کہ بے مرید شخص جاہل کی موت مرے گا وہ خود جاہل ہے ، جس نے کہا وہ جاہل ہے ، البتہ مسلمانوں کو رہبر کامل کی ضرورت ہے ، رہبر کامل کی نشانی یہ ہے کہ پہلے وہ ظاہری شرع کا پابند رہے ، ظاہری شرع کا اگر کسی ایک بات کا بھی خلاف کرے ، تو وہ شیطان ہے ایسے آدمی کی بیعت ہرگز جائز نہیں ، اگر پیر کامل میسر نہ ہو جیسا یہ زمانہ ہے آج کل ایسا کوئی پیر ملتا نہیں ، لہٰذا ہرمسلمان کے واسطے خواہ عورت ہویا مرد ظاہری شرع کا پابند رہنا ، نماز روزوں کی پابندی کرنا یہی ان کے واسطے رہبر کامل اور پیر کامل ہے ، یہی کتب فتویٰ میں موجود ہے ۔

سوال :-

شادی سے پہلے شکرانہ کرنا جائز ہے یا نہیں ؟
( محمد حسین محمد میراں گنگولی ، سداپور )

جواب : –

 شادی سے پہلے شکرانہ کرنا جائز ہے ، یعنی بچے بالغ ہوجاتے ہیں ، لڑکے والوں کی طرف سے لڑکی والوں کی طرف سے نکاح کا پیغام بھیج دیتے ہیں ، یہ پیغام دونوں کے لئے دینی و دنیوی اعتبار سے بہتر ہے ، اللہ پاک نے ان کے ماں باپ کو یہ نعمت عطا کی ، یہ شکرانہ کرنا اس نعمت کا شکرگذارنا ہے ، اس لئے ایک دوسرے کو دعوت دے کر خوشی اور اس نعمت کا اظہار کرتے ہیں ، اللہ پاک فرماتاہے: واما بنعمۃ ربک فحدث ۔
یعنی اے نبی اپنے رب کی نعمت کو ظاہر ہے ، یہ شکرانہ کرنا اللہ پاک کی نعمت کو اظہار کرنا ہے ، بد یہ کھانا ہے ،تو بھی
تو غیر
مذہب وہابی نے انکار کیا ، تو قرآن کو انکار کیا ۔

سوال :-

(1) ماہ محرم الحرام میں اس اُمید پر کہ عاشورہ ہفتہ ہوگا روزہ رکھاگیا مگر پتہ چلاکہ عاشورہ ہفتہ نہیں اتوار کو ہوگا ، ازراہ احتیاط اتوار کو بھی روزہ رکھا گیا اس بارے میں اطلاع دیجئے کہ کیا اس طرح دو روزے رکھنا حرام ہے؟
(ب) 1) اجرت پر نماز پڑھنا کیسا ہے ؟ اور اجرت پر ذبح کرنا ؟
2) قرآن غلط پڑھتا ہے ۔
3) جو شخص امام ہے وہی مؤذن بھی ہے۔
4) اجرت پر غسل دینا کیسا ہے ؟
5) اجرت پر نکاح پڑھانا کیسا ہے ؟
(ج) ایک قابل اور متشرح سرکاری نوکر کی امامت جائز ہے یانہیں ؟
(د) ایک شخص موسم خریف کے کچھ مہینے پیشتر ایک مسلمان کو کچھ روپیہ اس شرط پر دیتاہے کہ خریف میں اتنا اناج وصول کروں گا ، اطلاع دیجئے کہ کیا یہ جائز ہے ؟
(س) ایک مسلمان نے ایک عورت سے نکاح کیا ، جسے پہلے کے شوہر سے ایک لڑکی ہے اب اس نکاح کئے ہوئے شخص کے بھائی مذکور عورت کی مذکور لڑکی سے نکاح کرنا چاہتے ہیں ، کیا یہ جائزہے ؟
(ط) ایک شخص تانبے کا توڑا پہنتا ہے کیا یہ جائز ہے ؟
(محمد غوث ، امبل گولہ ، شکارپور )

جواب :-

 (1) ماہ محرم الحرام میں آپ نے جو روزے ہفتہ اور اتوار کو رکھا ، بہت ہی اچھا کیا بلکہ محرم کے روزوں کے متعلق یہی حکم آیا ہے کہ نو اور دس تاریخ کو روزہ رکھنا ، اگر ایسا موقع نہ ملے تو دس اور گیارہ کو روزہ رکھنا ، جب حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم مدینہ طیبہ کو تشریف لائے تب یہودی محرم کی دس تاریخ کو روزہ رکھتے تھے ، روزہ اس لئے رکھتے تھے کہ اس دن حضرت موسیٰ علیہ السلام فرعون اور لشکر فرعون سے نجات پائے تھے ، جس کے شکریہ میں یہودی ایک دن یعنی دس تاریخ کو روزہ رکھتے تھے ،
حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے جب یہ سنا ( یہودیوں سے ) تو فرمایا موسیٰ علیہ السلام کی نسبت شکریہ گذارنے کے زیادہ مستحق ہم ہیں ، لہٰذا آپ نے حکم دیا کہ محرم کی ۹ اور ۱۰ تاریخ کو روزہ رکھو ، عرفہ کے دن آٹھ اور نو کو روزہ رکھنا بہتر ہے ، اور یہودیوں کے خلاف کرو ، وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے تم دو روزہ رکھو ۔

جواب (ب)

(1) اس زمانہ میں اسی پر فتویٰ ہے کہ پیش امام اور مؤذن کی تنخواہ لینا جائز ہے ، مگر تنخواہ لینے والے کو چاہئے کہ نیت کرے کہ یہ تنخواہ پابندی وقت کے عوض میں لیتے ہیں ، یہی حکم ہے اس ذابح کو جو ذبح کے بدلے میں لیتا ہے ، اس کو بھی چاہئے کہ نیت کرے وقت کی پابندی کے بدلے میں لیتا ہوں ، اگر ان تنخواہ لینے کی اجازت نہ دی جائے تو بلا تنخواہ یہ کام کون کرے ؟ اس لئے علماء کرام نے اس زمانے میں یہ فتویٰ دیا ہے ۔
(2) اس علاقہ کے اندر کوئی علم تجوید سے واقف ہے ہی نہیں اگر کوئی واقف ہوگا تو اس کی نماز اس آدمی کے پیچھے جائز نہیں ہوتی ، جو علم تجوید سے اور صحیح پڑھنے سے واقف نہ ہو ، باقی سب آدمیوں کی نماز اس کے پیچھے جائز ہے ،کیونکہ ان کو صحیح اور غیر صحیح معلوم ہی نہیں ۔

(۳) ہمارے امام اعظم رضی اللہ عنہ کے نزدیک امام ہی کا مؤذن رہنا بہتر ہے ، امام اعظم کی مسجد میں بھی امام ہی مؤذن ہوتا تھا۔

(۴) اجرت پر غسل دینا جائز ہے ، کیونکہ یہ غسل جو ہے فرض کفایہ ہے ، اس لئے جائز ہے ، جیسا گورکن کو قبر کھودنے کی اجرت لینا جائز ہے یہ بھی کفایہ ہے ۔
(۵) قاضی کو نکاح پڑھنے کے واسطے خصوصیت کے ساتھ کوئی رقم معین نہ کرنی چاہئے ، خوشی کے ساتھ جو جانبین دیں لے لے یہی کتب فتویٰ میں موجود ہے ۔

جواب (ج)

کوئی ملازم کو ملازمت کے وقت میں کوئی دوسرا کام نہیں کرنا چاہئے ، البتہ باقی وقت امامت کرسکتاہے ۔

جواب (د)

اس کو بیع سلم کہتے ہیں ، بیع سلم یہ ہے کہ پہلے قیمت دینا اس کے بعد بیع یعنی خریدی ہوئی چیز وصول کرنا یہ جائز ہے ، اس کے ساتھ شرط ہیں یہاں پر ان شرائط کے ذکر کی کوئی ضرورت نہیں ، اگر بیچنے والے پر کسی طرح کا جبر نہیں ، مقررہ رقم لے کر مقررہ اناج مقرردہ وقت پر دینے کو راضی ہے تو خریدار مقررہ وقت پر مقررہ اناج کا حقدار ہوگا، خواہ اس وقت اس اناج کی قیمت گھٹ جائے یا بڑھ جائے ، اس میں کسی قسم کا سود نہیں ۔

جواب (س)

؂مذکور لڑکی کا نکاح مذکور شخص کے ساتھ جائز ہے ۔

جواب (ط)

مردوں کو ایسا کام کرنا ناجائز ہے ، مردوں کا تمام دھاتوں کا پہننا حرام ہے صرف چاندی کی انگوٹھی جس کی مقدار ساڑھے چار ماشے سے کم ہو پہن سکتا ہے ، اور عورت کو صرف چاندی اور سونا زیب تن کرنا جائز ہے اور باقی تمام دھاتوں کے زیور پہننا حرام ہے ۔

error: Content is protected !!