Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

نبوّت کا بیان

سوال:نبی کسے کہتے ہیں؟
جواب: اللّٰہ تعالیٰ نے مخلوق کی ہدایت اور رہنمائی کے لئے جن پاک بندوں کو اپنے احکام پہنچانے کے  لئے بھیجا ان کو ’’نبی ‘‘کہتے ہیں اور انبیاء عَـلَيْـهِمُ الصَّلٰوۃُ  وَ الـسَّـلَام ہی وہ بشر (انسان )ہیں جن کے پاس اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آتی ہے ۔
سوال:وحی کیا ہوتی ہے؟
جواب:وحی کا لغوی معنی پیغام بھیجنا، دل میں بات ڈالنا، خفیہ بات کرنا۔ شریعت کی اصطلاح میں وحی اس کلام کو کہتے ہیں جو کسی نبی پر اللّٰہ کی طرف سے نازل ہوا ہو۔
سوال:پیغمبروں اور دوسرے انسانوں میں کیا فرق ہے؟
جواب:زمین و آسمان کا فرق  ہوتاہے۔ نبی و رسول خدا کے خاص اور معصوم بندے ہوتے ہیں ، ان کی نگرانی اور تربیت خود  اللّٰہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ صغیرہ کبیرہ گناہوں سے بالکل پاک ہوتے ہیں۔ عالی نسب، عالی حسب(یعنی بلند سلسلہ ٔ خاندان)انسانیت کے اعلیٰ مرتبے پر پہنچے ہوئے، خوبصورت ، نیک سیرت، عبادت گزار، پرہیز گار، تمام اخلاقِ حسنہ سے آراستہ اور ہر قسم کی برائی سے دور رہنے والے ہوتے ہیں، انہیں عقلِ کامل عطا کی جاتی ہے جو اوروں کی عقل سے درجوں بلند و بالا ہوتی ہے۔ کسی حکیم اور کسی فلسفی کی عقل کسی سائنسدان کی فَہْم و فِراست اس کے لاکھویں حصے تک بھی نہیں پہنچ سکتی اور عقل کی ایسی بلندی کیوں نہ ہوکہ یہ اللّٰہ کے لاڈلے بندے اور اس کے محبوب ہوتے ہیں۔ اللّٰہ تعالیٰ انہیں ہر ایسی بات سے دور رکھتا ہے جو باعثِ نفرت ہو، اسی لیے انبیاءِ کرام کے جسموں کا بَرَص (سفید داغ) جُذام ( کوڑھ)وغیرہ ایسی بیماریوں سے پاک ہونا ضروری ہے  جس سے لوگ نفرت کرتے ہیں۔ پھرتمام مخلوق میں سارے نبیوں میں سب سے بڑھ کر عقلِ کامل واکمل ہمارے نبی مکرم حضرت محمد مصطفےٰ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمکو عطا فرمائی گئی ہے چنانچہ  حضرت وَہْب بن مُنَبِّہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں میں نے اکہتر ۷۱ آسمانی کتابوں میں لکھا دیکھا ہے کہ روزِ اول سے قیامت قائم ہونے تک تمام جہان کے لوگوں کو جتنی عقل عطا کی گئی ہے وہ سب ملکر حضرت محمد صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّم کی عقل کے آگے ایسی ہے جیسے  دنیا کے تمام ریگستان  کے سامنے ریت کا ایک دانہ (ذرہ )۔(1)
سوال:جو حضور صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمکو اپنے جیسا بشر یا بھائی برابر کہے وہ کون ہے؟
جواب:حضور سرورِ عالَم صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمکو اپنے جیسا بشر یا بھائی برابر کہنے والے یا کسی اور طرح حضور کا مرتبہ گھٹانے والے مسلمان نہیں، گمراہ ، بددین ہیں۔قرآنِ کریم میں جگہ جگہ کافروں کا یہ طریقہ بیان کیا گیا ہے کہ وہ نبیوں کو اپنے جیسا بشر کہتے تھے اسی لیے گمراہی اور کفر میں پڑے۔(2)
سوال:نبیوں کو غیب کا علم ہوتا ہے یا نہیں؟
جواب: انبیاء عَـلَيْـهِمُ الصَّلٰوۃُ  وَ الـسَّـلَام غیب کی خبر دینے کے لیے ہی آتے ہیں۔ حساب کتاب ، جنت و دوزخ ، ثواب عذاب، حشر نشر، فرشتے وغیرہ غیب نہیں تو اور کیا ہیں؟ یہ وہی بتاتے ہیں جن تک عقل نہیں پہنچتی مگر یہ علمِ غیب کہ ان کو ہے اللّٰہ تعالیٰ کے دئیے سے ہے لہٰذا ان کا علم عطائی(اللّٰہ تعالیٰ کا دیا ہوا)ہےاور اللّٰہ تعالیٰ کا علم ذاتی ہے جس کی کوئی حد نہیں اور اس کی صفت ہے ہمیشہ سے ہے ۔اس طرح علمِ غیب نبیوں اور رسولوں کے لئے ماننے والے کو شِرک کا الزام دینا بھی حماقت اور خود کفر و شِرک کے معنی سے ہی جہالت ہے  اور سخت گمراہی کی بات ہے بلکہ مطلقًا انبیائے  کرام کے لئے علمِ غیب کا انکار کرنا تو  قرآنِ کریم کی نصِّ قطعی کے انکار کی وجہ سے کفر ہے ۔
سوال:کیا کوئی عبادت و ریاضت سے نبوّت حاصل کرسکتا ہے ؟

جواب:ہرگز نہیں،نبوّت بہت بلند اور بڑا مرتبہ ہے۔ کوئی شخص عبادت وغیرہ سے حاصل نہیں کرسکتا، چاہے عمر بھر روزہ دار رہے ،رات بھر سجدوں میں رویا کرے ،تمام مال و دولت خدا کی راہ میں صدقہ کردے، اپنے آپ بھی اس کے دین پر فدا ہو جائے یعنی جان قربان کردے مگر اِس سے نبوّت نہیں پا سکتا۔ نبوّت اللّٰہ تعالیٰ کا فضل ہے جسے چاہے عطا فرمائے ہمارے پیارے آقا و مولیٰ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّماللّٰہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں۔ اب کوئی نبی ہر گز نہ آئے گا جو حضور صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمکو آخری نبی نہ مانے مسلمان نہیں کافر و مرتد ہےبلکہ آخری نبی ہونے میں شک ہی کرے یا کسی نئے نبی کے آنے کو ممکن ہی کہے کھلا کافر ہے کہ اس کا حضور صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّم کے آخری نبی ہونے پر ایمان ہی نہیں اور مسلمان ہونے کے لئے آپ کو اللّٰہ کا آخری نبی صدقِ دل سے قطعیت کے ساتھ تسلیم کرنا ضروری ہے  ۔
سوال:کسی نبی کی تعظیم و توقیر نہ کرناکیسا؟
جواب:انبیاء عَـلَيْـهِمُ الصَّلٰوۃُ  وَ الـسَّـلَام تمام مخلوق سے افضل ہیں، ان کی تعظیم و توقیر یعنی عزت و احترام فرض اور ان کی ادنیٰ توہین یعنی گستاخی یا تکذیب یعنی جھٹلانا کفر ہے۔ آدمی جب تک ان سب انبیاء عَـلَيْـهِمُ الصَّلٰوۃُ  وَ الـسَّـلَام کو نہ مانے مومن نہیں ہوسکتا۔شیطان اللّٰہ تعالیٰ کے پیارے نبی آدم عَـلَيْـهِ الصَّلٰوۃُ  وَ الـسَّـلَام کی بے ادبی اور گستاخی کرنے ہی کی وجہ سے ملعون قرار دیا گیا ۔پتا چلا کہ انبیاءِ کرام عَـلَيْـهِمُ الصَّلٰوۃُ   وَ الـسَّـلَام کی بے ادبی شیطانی کام ہے اب آخری نبی ہمارے نبی مکرم محمد مصطفےٰصَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّم کی لائی ہوئی شریعت کو ماننا مسلمان ہونے کے لئے ضروری ہے اب کوئی نیا نبی اور نئی شریعت نہیں آئے گی ۔
سوال: اللّٰہ عَزَّ  وَجَلَّکی بارگاہ میں انبیاءِ کرام عَـلَيْـهِمُ الصَّلٰوۃُ  وَ الـسَّـلَام کا کیا مقام ہے؟

جواب: اللّٰہ تعالیٰ کے دربار میں انبیاء عَـلَيْـهِمُ الصَّلٰوۃُ  وَ الـسَّـلَام کی بہت عزّت اور بڑامقام ہے۔ وہ اللّٰہ تعالیٰ کے پیارے اس کے محبوب ہوتے ہیں ان پر وحی نازل ہوتی ہے انہیں طرح طرح کے کمالات و معجزات عطا کئے جاتے ہیں ساری مخلوق میں سب سے افضل رُتبہ انبیائے کرام ہی کا ہوتا ہے حتی کہ فرشتوں سے بھی افضل ہوتے ہیں۔
سوال:رسول کسے کہتے ہیں؟
جواب: انبیاء عَـلَيْـهِمُ الصَّلٰوۃُ  وَ الـسَّـلَام میں سے جو نئی شریعت لائے ان کو رسول کہتے ہیں۔
سوال:جو نبی وفات پا چکے انہیں مردہ کہہ سکتے ہیں یا نہیں؟
جواب:تمام انبیاء عَـلَيْـهِمُ  الصَّلٰوۃُ  وَ الـسَّـلَام اپنی قبروں میں ایسے زندہ ہیں جیسے دنیا میں تھے، ایک آن (گھڑی بھر )کے لئے ان پر موت آئی پھر زندہ ہو گئے ۔ جو انہیں مردہ کہے گمراہ بد دین ،شیطان کے راستہ پر چلنے والا ہے اس کے تو سائے سے بھی دور رہنا چاہئے ۔
سوال:کیا سارے انبیاءِ کرام برابر ہیں ؟
جواب:انبیاء عَـلَيْـهِمُ الصَّلٰوۃُ  وَ الـسَّـلَام نبی ہونے میں برابر ہیں البتہ ان کے مَراتِب میں فرق ہے۔ بعض کامرتبہ بعض سے اعلیٰ ہے۔ سب سے بڑا رُتبہ ہمارے آقا ومولیٰ سیّدُ الانبیاء محمد مصطفےٰ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمکا ہے۔
سوال:حضور صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمکا مقام سب سے بلند اوراعلیٰ کیوں ہے؟
جواب:تمام انبیا ء عَـلَيْـهِمُ الصَّلٰوۃُ  وَ الـسَّـلَام کو جو کمالات جدا جدا عنایت ہوئے وہ سب اللّٰہ تعالیٰ نے حضور صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّم کی ذاتِ عالی میں جمع فرمادئیے اور حضور صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمکے خاص کمالات جو دوسرے انبیاء میں نہیں تھے وہ بھی بہت زائد ہیں۔ حضور صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمتمام انبیاءِ کرام کے بھی سردار ہیں، فرشتوں کے بھی سردار ہیں اور ساری مخلوق میں سب سے افضل ہیں ۔
سوال:سب سے آخری نبی کون ہیں؟
جواب:حضورصَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمخاتَمُ النبیّین ہیں یعنی اللّٰہ تعالیٰ نے نبوّت کا سلسلہ حضور صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّم پر ختم فرمادیا۔

سوال:جوکہے کہ حضور صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمکے بعد بھی کو ئی نبی آسکتا ہے،اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟
 جواب:حضور صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمکے بعد کسی کو نبوّت نہیں مل سکتی ۔ جو شخص حضور صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمکے بعد کسی کو نبوّت ملنا جائز سمجھے یا آپ کے آخری نبی ہونے میں شک ہی کرے وہ کافر ہوجاتا ہے ۔سچے دل سے قطعیّت کے ساتھ حضرت محمد مصطفےٰ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمکے آخری نبی ہونے کا عقیدہ رکھنا بھی مسلمان ہونے کے لئے ضروری ہے۔
سوال: اللّٰہ عَزَّ  وَجَلَّتک پہنچنے کا کیا راستہ ہے ؟
جواب:خدا کی راہ انبیاء عَـلَيْـهِمُ الصَّلٰوۃُ  وَ الـسَّـلَام ہی کے ذریعے ملتی ہے اور انسان کی نجات کا دارو مدار (انحصار)انہیں کی فرمانبرداری پر ہے۔
سوال:کیا جِنّ اور فرشتے بھی نبی ہوتے ہیں؟
جواب:نہیں، نبی صرف انسانوں میں سے ہوتے ہیں اور ان میں سے بھی فقط مرد، کوئی عورت نبی نہیں ہوسکتی البتہ رسول انسانوں کے ساتھ ہی خاص نہیں بلکہ فرشتوں میں بھی رسول ہیں۔
سوال:قرآنِ مجید میں کن انبیاء عَـلَيْـهِمُ الصَّلٰوۃُ  وَ الـسَّـلَام کا ذکر ہے ؟
جواب: اللّٰہ عَزَّ  وَجَلَّنے حضرت آدم عَـلَيْـهِ الصَّلٰوۃُ  وَ الـسَّـلَام سے ہمارے آقا حضورسیِّد عالَم صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمتک بہت نبی بھیجے، قرآنِ پاک میں جن کا ذکر ہے، ان کے اسماءِ مبارکہ یہ ہیں:حضرت آدم عَـلَـيْهِ الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَام، حضرت نوح  عَـلَـيْهِ الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَام، حضرت ابراہیم  عَـلَـيْهِ الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَام، حضرت یوسف  عَـلَـيْهِ الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَام، حضرت اسمٰعیل عَـلَـيْهِ الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَام، حضرت اِسحٰق  عَـلَـيْهِ الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَام، حضرت یعقوب  عَـلَـيْهِ الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَام، حضرت موسٰی  عَـلَـيْهِ الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَام، حضرت ہارون  عَـلَـيْهِ الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَام، حضرت شعیب  عَـلَـيْهِ الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَام، حضرت لوط عَـلَـيْهِ الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَام، حضرت ہود  عَـلَـيْهِ الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَام،حضرت داؤد  عَـلَـيْهِ الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَام، حضرت سلیمان  عَـلَـيْهِ الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَام، حضرت ایوب عَـلَـيْهِ الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَام، حضرت زَکَرِیّا  عَـلَـيْهِ الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَام، حضرت یحییٰ عَـلَـيْهِ الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَام، حضرت عیسیٰ  عَـلَـيْهِ الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَام،  حضرت اِلیاس عَـلَـيْهِ الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَام،  حضرت اَلْیَسَع   عَـلَـيْهِ الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَام،  حضرت یونُس  عَـلَـيْهِ الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَام، حضرت ادریس  عَـلَـيْهِ الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَام، حضرت ذُو الکِفْلْ عَـلَـيْهِ الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَام، حضرت عُزَیْر عَـلَـيْهِ الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَام،  حضرت صالِح عَـلَـيْهِ الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَام، حضور سیّدُ المرسلین مُحَمَّدٌرَّسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّم۔
سوال:کیا غیرِنبی(جو نبی نہیں)کے پاس بھی وحی آتی ہے؟
جواب:وحیِ نبوّت غیرِ نبی کے پاس نہیں آتی ، جو اس کا قائل یعنی ماننے والاہو وہ کافر ہے۔
سوال:کیا انبیا ء کے سوا اور کوئی بھی معصوم ہوتا ہے؟
جواب:ہاں ،فرشتے بھی معصوم ہوتے ہیں۔
سوال:معصوم کس کو کہتے ہیں؟

جواب:جو اللّٰہ تعالیٰ کی حفاظت میں ہو اور اس وجہ سے اس کا گناہ کرنا ناممکن ہو۔
سوال:کیا امام اور ولی بھی معصوم ہوتے ہیں؟
جواب: انبیا ء عَـلَـيْهِمُ  الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَام اور فرشتوں کے سوا معصوم کوئی بھی نہیں ہوتا ، اولیاء کو اللّٰہ تعالیٰ اپنے کرم سے گناہوں سے بچاتا ہے مگر معصوم صرف انبیاء اور فرشتے ہی ہیں۔
سوال:دنیا میں سب سے پہلے آنے والے نبی کون ہیں؟
جواب:  دنیا میں سب سے پہلے آنے والے نبی آدم عَـلَـيْهِ الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَام ہیں ان سے پہلے آدمیوں کا سلسلہ نہ تھا۔ سب سے پہلے اللّٰہ تعالیٰ نے اُنہیں اپنی قدرتِ کاملہ سے بغیر ماں باپ کے پیدا کیا اور اپنا خلیفہ یعنی نائب بنایا اور علمِ اسماء عنایت کیا۔ فرشتوں کو ان کے سجدے کا حکم کیا، انہیں سے انسانی نسل چلی، تمام آدمی انہیں کی اولاد ہیں۔
سوال:علمِ اسماء کس کو کہتے ہیں؟
جواب: اللّٰہ تعالیٰ نے جو حضرت آدم عَـلَـيْهِ الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَامکو ہر چیز اور اُس کے ناموں کا علم عطا فرمایا تھا اس کو علمِ اسماء کہتے ہیں ۔
سوال:فرشتوں نے حضرت آدم عَـلَـيْهِ الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَام کو کیسا سجدہ کیا تھا؟
جواب:یہ سجدہ تعظیمی تھا جو خدا کے حکم سے ملائکہ نے کیا اور سجدۂ تعظیمی پہلی شریعتوں میں جائز تھا ہماری شریعت میں جائز نہیں اور سجدۂ عبادت پہلی شریعتوں میں بھی خدا کے سوا کسی اور کے لئے جائز نہیں ہوا۔ جو مخلوق میں سے کسی کو سجدۂ عبادت کرے گا کافر ہوجائے گا اور تعظیماً سجدہ کرے گا توسخت گنہگار اور عذابِ نار کا حقدار ہوگا کہ ہماری شریعت میں سجدۂ تعظیمی بھی حرام ہے۔
٭…٭…٭…٭…٭…٭
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
 ۔۔۔فتاوی رضویہ، ۳۰/ ۱۴۹،ملخصاً
2 ۔۔۔ ہمارا اسلام، حصہ اول،ص۲۰
error: Content is protected !!