نگاہِ مہر جو اس مہر کی اِدھر ہوجائے گنہ کے داغ مٹیں دِل مرا قمر ہوجائے

نگاہِ مہر جو اس مہر کی اِدھر ہوجائے
گنہ کے داغ مٹیں دِل مرا قمر ہوجائے
جو قلب تیرہ پہ تیری کبھی نظر ہوجائے
تو ایک نور کا بقعہ وہ سر بسر ہوجائے
ہماری کشتِ اَمَل میں کبھی تو پھل آئے
کبھی تو شجرئہ امید بار وَر ہوجائے
کبھی تو ایسا ہو یارب وہ دَر ہو اور یہ سر
کبھی تو ان کی گلی میں مرا گزر ہوجائے
ہمارا سر ہو خدایا حبیب کا در ہو
ہماری عمر الٰہی یونہی بسر ہوجائے
جو سچے دل سے کہے کوئی یَارَسُوْلَ اللّٰہ
مصیبتیں بھی ٹلیں ہر مہم بھی سر ہوجائے
مری مصیبتوں کا سلسلہ ابھی کٹ جائے
اِشارہ اَبروئے خم دار کا اگر ہوجائے

تڑپ رہے ہیں فراقِ حبیب میں عاشق
الٰہی راہ مَدینہ کی بے خطر ہوجائے
ترے غضب سے ہوں غارت یہ دَہر کے شیطاں
بنے غلام ہر اک ان میں دَر بدر ہوجائے
جو آپ چاہیں تو ہیزم کو دم میں سبز کریں
کرم جو آپ کا ہو خلد کا شجر ہوجائے
خدا کے فضل سے ہر خشک و تر پہ قدرت ہے
جو چاہو تر ہو ابھی خشک، خشک تر ہوجائے
عیاں ہے دَبدبہ تیرا سماوا ساوہ سے (1)
ہماری کھیتی بھی سوکھی ہے پیارے تر ہوجائے

جو کاسہ تاج کا لے کر تمہارے در پر آئے
تو بادشاہ حقیقت میں تاجوَر ہوجائے
ترے گداؤں کی پاپوش تاجِ سلطاں ہے
وہ جس کے سر پہ رکھیں نعل تاجوَر ہوجائے
جو آپ ہوں مرے پلے پہ پھر مجھے کیا ڈر
جدھر نگاہِ کرم ہو خدا ادھر ہوجائے
جو خوا ب میں کبھی تشریف لائیں جانِ قمر
تو ان کے نور سے معمور سارا گھر ہوجائے
خدا نے قلبِ حقیقت تمہارے ہاتھ کیا
جو شاخ لڑنے کو دو تیغ اور تبر ہوجائے
جو وقتِ وَزْن گراں پلہ ہو گناہوں کا
شفاعت آپ کی اس دم مری سپر ہوجائے
اندھیری شب میں کرم سے تمہارے اے سروَر
عصا صحابہ کا فانوسِ راہبر ہوجائے

خدا نے غیب تمہارے لیے حضور کیا
جو راز دل میں چھپے ہوں تمہیں خبر ہوجائے
وہ آئیں تیرگی ہو دور میرے گھر بھر کی
شبِ فراق کی یارب کبھی سحر ہوجائے
حجاب اٹھیں جو مرقد سے ان کے روضہ تک
اندھیرا قبر کا مٹ جائے دوپہر ہوجائے
ترے حبیب کے دشمن ہیںاور خود تیرے
ہر ایک ان میں کا فِی النَّارِوَالسَّقَر ہوجائے
کنارِ عاطفتِ ہاوِیہ میں اِک اِک جائے
جو ماں کی گود میں بیٹھے تو خوش پسر ہوجائے
سراپا آگ کے دریا میں ڈوب جائیں یہ
اگر حمیم کا دریا کمر کمر ہوجائے
چمک اُٹھے مری قسمت کا تارا اے نوریؔ
اگر وہ غیرت ِ خورشید میرے گھر ہوجائے

________________________________
1 – سامان بخشش کے نسخوں میں یہ مصرعہ یوں ہے: ’’ عیاں ہے دبدبہ تیرا سماوات و ساوہ سے ‘‘ فن عروض کے اعتبار سے یہ غیرموزون ہے جس کی وجہ یقینا کتابت کی غلطی ہے۔ صحیح مصرعہ یوں ہو سکتا ہے : ’’ عیاں ہے دبدبہ تیرا سماوا ساوہ سے ‘‘ لہٰذا ہم نے اسی طرح لکھا ہے۔ المدینۃ العلمیۃ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!