Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

کبيرہ نمبر129: قرض خواہ کا مقروض کو بلا وجہ تنگ کرنا

یعنی قرض خواہ کا تنگدست مقروض کی تنگدستی کو جاننے کے باوجود حرص کے سبب اس کے پيچھے پڑے رہنا يا اسے قيد کرا دينا
(1)۔۔۔۔۔۔حضرت سيدنا ابنِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما روايت فرماتے ہيں کہ تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم مسجد تشريف لائے تو اس طرح ارشاد فر مايا، پھر ابو عبد الرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے زمين کی طرف اشارہ کيا :”جس نے تنگدست کو مہلت دی يا اس کے قرض ميں کمی کر دی اللہ عزوجل اسے جہنم کی تپش سے بچائے گا۔”
(المسندللامام احمد بن حنبل، مسند عبداللہ بن عباس، الحدیث: ۳۰۱۷،ج۱،ص۷۰۰،”بتقدمٍ وتأخرٍ)
(2)۔۔۔۔۔۔مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم يہ ارشاد فرماتے ہوئے مسجد میں داخل ہوئے :”تم ميں سے کسے يہ بات پسند ہے کہ اللہ عزوجل اسے جہنم کی گرمی سے بچائے؟” ہم نے عرض کی،”يا رسول اللہ عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! ہم ميں سے ہر ايک يہ پسند کرتا ہے کہ اللہ عزوجل اسے جہنم کی گرمی سے بچائے۔” تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :”جو تنگدست کو مہلت دے يا اس کا قرض معاف کر دے اللہ عزوجل اسے جہنم کی گرمی سے محفوظ فرمائے گا۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(المسندللامام احمد بن حنبل، مسند عبداللہ بن عباس، الحدیث: ۳۰۱۷،ج۱،ص۷۰۰)
(3)۔۔۔۔۔۔مَحبوبِ رَبُّ العزت عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”جو اپنے مقروض کی پريشانی دور کرے يا اس کا قرض معاف کر دے وہ قيامت کے دن عرش کے سائے ميں ہو گا۔”
     (المرجع السابق،الحدیث:۲۲۶۲۲،ج۸،ص۳۶۷)
error: Content is protected !!