Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

کبيرہ نمبر127: زکوٰۃ ادا نہ کرنا کبيرہ نمبر128: وجوبِ زکوٰۃ کے بعد ادائيگی ميں تاخير کرنا یعنی زکوٰۃ اداہی نہ کرنا یاواجب ہونے کے بعدبلاعذرِ شرعی ادائيگی ميں تاخير کرنا

کبيرہ نمبر127:    زکوٰۃ ادا نہ کرنا 
کبيرہ نمبر128:    وجوبِ زکوٰۃ کے بعد ادائيگی ميں تاخير کرنا
یعنی زکوٰۃ اداہی نہ کرنا یاواجب ہونے کے بعدبلاعذرِ شرعی ادائيگی ميں تاخير کرنا
اللہ عزوجل کا فرمانِ عالیشان ہے :
 (1)وَ وَیۡلٌ لِّلْمُشْرِکِیۡنَ ۙ﴿6﴾الَّذِیۡنَ لَا یُؤْتُوۡنَ الزَّکٰوۃَ
ترجمۂ کنز الایمان: اور خرابی ہے شرک والوں کو وہ جو زکوٰۃ نہيں ديتے ۔(پ24، حم سجدہ:6،7)
(2) وَلَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیۡنَ یَبْخَلُوۡنَ بِمَاۤ اٰتٰىہُمُ اللہُ مِنۡ فَضْلِہٖ ہُوَ خَیۡرًا لَّہُمْ ؕ بَلْ ہُوَ شَرٌّ لَّہُمْ ؕ سَیُطَوَّقُوۡنَ مَا بَخِلُوۡا بِہٖ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ ؕ وَلِلہِ مِیۡرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرْضِ ؕ وَاللہُ بِمَا تَعْمَلُوۡنَ خَبِیۡرٌ ﴿180﴾٪
ترجمۂ کنز الایمان: اور جو بخل کرتے ہيں اس چيز ميں جو اللہ نے انہيں اپنے فضل سے دی ہر گز اسے اپنے لئے اچھا نہ سمجھيں بلکہ وہ ان کے لئے بُرا ہے عنقريب وہ جس ميں بخل کيا تھا قيامت کے دن ان کے گلے کا طوق ہو گا اور اللہ ہی وارث ہے آسمانوں اور زمين کا اور اللہ تمہارے کاموں سے خبر دار ہے۔(پ 4، آل عمران:180)
(3) یَّوْمَ یُحْمٰی عَلَیۡہَا فِیۡ نَارِجَہَنَّمَ فَتُکْوٰی بِہَا جِبَاہُہُمْ وَجُنُوۡبُہُمْ وَظُہُوۡرُہُمْ ؕ ہٰذَا مَاکَنَزْتُمْ لِاَنۡفُسِکُمْ فَذُوۡقُوۡا مَاکُنۡتُمْ تَکْنِزُوۡنَ ﴿35﴾
ترجمۂ کنز الایمان:جس دن وہ تپايا جائے گا جہنم کی آگ ميں پھر اس سے داغيں گے ان کی پيشانياں اور کروٹيں اور پيٹھيں يہ ہے وہ جو تم نے اپنے لئے جوڑ کر رکھاتھا اب چکھو مزا اس جوڑنے کا۔(پ10، التوبہ:35)
(1)۔۔۔۔۔۔حضرت سيدنا ابو ہريرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبئ کريم،رء ُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے کہ ”سونے چاندی کا جو مالک اس کا حق ادا نہيں کرتا قيامت کے دن اس کے لئے آگ کی چٹانيں نصب کی جائيں گی اور انہیں جہنم کی آگ ميں تپا کر اس کے پہلو، پيشانی اور پيٹھ پر داغا جائے گا۔”(مطلب یہ کہ ان کے جسموں کو چٹانوں کے برابر پھيلا ديا جائے گا)
(صحیح مسلم، کتاب الزکاۃ،باب اثم مانع الزکاۃ، الحدیث:۲۲۹۰،ص۸۳۳)
(2)۔۔۔۔۔۔حضرت سيدنا ابن مسعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم، شفيع معظَّم صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم نے ارشاد فرمایا کہ ”جب بھی وہ آگ کی چٹانیں ٹھنڈی ہو ں گی تو انہيں دوبارہ اسی طرح گرم کر ليا جائے گا يہ عمل اس دن ہو گا جس کی مقدارپچاس ہزار (50,000)سال ہے يہاں تک کہ بندوں کا فيصلہ ہو جائے اور يہ اپنا ٹھکانا جنت ياجہنم ميں ديکھ لے۔” عرض کی گئی کہ ”يارسول اللہ عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! اوراگر اونٹ ہوں تو(کیاحکم ہے)؟” تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا کہ ”اسی طرح اگر اونٹوں کا مالک بھی ان کا حق(یعنی زکوٰۃ) ادا نہ کرے اور اونٹوں کا حق یہ ہے کہ جس دن انہیں پانی پلانے لے جايا جائے توان کا دودھ دوہا جائے (اورمساکين کو پلايا جائے) تو(زکوۃ ادانہ کرنے والے) ايسے شخص کو قيامت کے دن اوندھے منہ لٹايا جائے گا اور وہ اونٹ خوب فربہ ہو کر آئيں گے ان کا کوئی بچہ بھی پيچھے نہ رہے گا وہ اسے اپنے قدموں سے رونديں گے اور اپنے مونہوں سے کاٹيں گے جب ان کا ايک گروہ گزر جائے گا تو دوسرا آ جائے گا اور يہ عمل اس پورے دن ہوتا رہے گا جس کی مقدار پچاس ہزار (50,000)سال ہے يہاں تک کہ بندوں کا فيصلہ ہو جائے اوروہ جنت يا جہنم کی طرف اپنا راستہ دیکھ لے۔” 


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    عرض کی گئی :”يا رسول اللہ عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم!اگر گائے اور بکرياں ہوں تو(کیاحکم ہے)؟” تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :” گائے اور بکريوں والا اگر ان کا حق ادانہ کریگا تو قيامت کے دن اسے چٹيل ميدان ميں لٹايا جائے گا اور گائے، بکری ميں کوئی چيز کم نہ ہو گی (يعنی ان کے سب اعضاء سلامت ہوں گے )خواہ اُلٹے سينگوں والی ہو يا بغير سينگوں والی يا ٹوٹے ہوئے سينگوں والی، سب اسے اپنے کھروں سے رونديں گی اور سينگوں سے ماريں گی جب ان کی ايک جماعت گزر جائے گی تو دوسری آجائے گی اور يہ عذاب اس پورے دن ميں ہوتا رہے گا جس کی مقدار پچاس ہزار (50,000) سال ہو گی يہاں تک کہ بندوں کے درميان فيصلہ ہو جائے اور وہ جنت يا جہنم کی طرف اپنا راستہ دیکھ لے۔”
    پھر عرض کی گئی :”يا رسول اللہ عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم!اگر گھوڑے ہوں تو (کیاحکم ہے)؟” تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :”گھوڑے تين قسم کے ہيں: (۱)وہ جو اپنے مالک کے لئے بوجھ(یعنی گناہ) ہيں (۲)وہ جو اس کے چھٹکارے کا سبب ہيں اور (۳)وہ جو اجر و ثواب کا باعث ہيں۔ جو گھوڑے مالک پر بوجھ ہوتے ہيں وہ یہ ہيں: جنہيں مالک نے دکھاوے، تکبر اور مسلمانوں سے دشمنی کے لئے باندھا ہو يہ اس کے لئے بوجھ ہيں، جو گھوڑے مالک کے لئے نجات کا سبب ہيں وہ یہ ہيں:
 جنہيں مالک نے اللہ عزوجل کی راہ ميں باندھا ہو اوروہ ان کی گردنوں اور پشتوں کے حقوق ادا کرتا ہو ايسے گھوڑے مالک کے لئے عذاب سے نجات کا سبب ہيں اورجو گھوڑے اجر و ثواب کا باعث ہيں وہ یہ ہيں: جنہيں کسی نے اللہ عزوجل کی راہ ميں مسلمانوں کی خاطر اپنی چراگاہ يا باغ ميں باندھا ہو، يہ گھوڑے اس چراگاہ يا باغ ميں سے جو کچھ کھائيں گے ان کے مالک کے لئے ان کے کھانے ، ان کی ليد اور پيشاب کی مقدار (یعنی جو گھاس وہ وہاں سے کھائیں گے اور پھرلید وغیرہ کریں گے اس) کے برابر نيکياں لکھ دی جائيں گی، يہ گھوڑے اگر کبھی رسياں توڑ کر ايک يا دو گھاٹيوں کا چکر لگائيں تو اللہ عزوجل ان کے مالک کے لئے ان کے قدموں کے نشانات کی تعداد اور ليد کی مقدار کے برابر نيکياں لکھے گا اور اگر ان کا مالک انہيں لے کر کسی نہر کے قريب سے گزرے اور انہيں پانی پلانے کا ارادہ نہ بھی رکھتا ہو پھر بھی اگر ان گھوڑوں نے کچھ پانی پی ليا تو اللہ عزوجل ا س مالک کے لئے اس کے پئے ہوئے پانی کے قطروں کے برابرنيکياں لکھے گا۔”
     عرض کی گئی، ”يا رسول اللہ عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! گدھوں کے بارے ميں ارشاد فرمائيے؟” تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :” گدھوں کے بارے ميں مجھ پر کوئی حکم نازل نہيں ہوا ليکن يہ آيت بہت جامع ہے :


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

فَمَنۡ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیۡرًا یَّرَہٗ ؕ﴿7﴾وَ مَنۡ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَّرَہٗ ٪﴿8﴾
ترجمۂ کنز الایمان: تو جو ايک ذرہ بھر بھلائی کرے اسے ديکھے گا اور جو ايک ذرہ برائی کرے اسے ديکھے گا۔(پ30، الزلزال:7،8)
(صحیح مسلم، کتاب الزکاۃ،باب اثم مانع الزکاۃ، الحدیث: ۲۲۹۰،ص۸۳۳)
(3)۔۔۔۔۔۔حضورِ نبئ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”قيامت کے دن میں تم ميں سے کسی شخص کو ایسی حالت میں نہ پاؤں کہ اس کی گردن پر بڑبڑانے والا اونٹ ہو اور وہ مجھ سے یہ کہہ رہا ہو،”يا رسول اللہ عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! ميری فرياد رسی فرمائيے۔” تو ميں کہوں گا :” ميں اللہ عزوجل کے مقابلے ميں تيرے لئے کچھ نہيں کر سکتا، ميں نے تمہيں پيغام پہنچا ديا تھا۔” 
    قيامت کے دن میں تم ميں سے کسی شخص کو ایسی حالت میں نہ پاؤں کہ اس کی گردن پر ممیانے والی بھیڑ یا بکری ہو اور وہ مجھ سے یہ کہہ رہا ہو،”يا رسول اللہ عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! ميری فرياد رسی فرمائيے۔” تو ميں کہوں گا :”ميں اللہ عزوجل کے مقابلے ميں تيرے لئے کچھ نہيں کر سکتا، ميں نے تمہيں پيغام پہنچا ديا تھا۔”
    قيامت کے دن میں تم ميں سے کسی شخص کو ایسی حالت میں نہ پاؤں کہ اس کی گردن پر ڈکرانے والی گائے ہو اور وہ مجھ سے یہ کہہ رہا ہو،”يا رسول اللہ عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! ميری فرياد رسی فرمائيے۔” تو ميں کہوں گا ،”ميں اللہ عزوجل کے مقابلے ميں تيرے لئے کچھ نہيں کر سکتا، ميں نے تمہيں پيغام پہنچا ديا تھا۔”
    (پھرارشاد فرمایا)قيامت کے دن میں تم ميں سے کسی شخص کو ایسی حالت میں نہ پاؤں کہ اس کی گردن پر کپڑے کے چیتھڑے ہوں اور وہ مجھ سے یہ کہہ رہا ہو،”يا رسول اللہ عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! ميری فرياد رسی فرمائيے۔” تو ميں کہوں گا ،”ميں اللہ عزوجل کے مقابلے ميں تيرے لئے کچھ نہيں کر سکتا، ميں نے تمہيں پيغام پہنچا ديا تھا۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    (پھرارشاد فرمایا)تم ميں سے کوئی شخص ايسا نہ ہو کہ جو قيامت کے دن اس حال ميں آئے کہ اس کی گردن پرکوئی خاموش شئے (جیسے سوناچاندی) ہو، پس وہ شخص کہے :”يا رسول اللہ عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! ميری مدد فرمائيے۔” تو ميں کہوں گا، ” ميں اللہ عزوجل کے مقابلے ميں تیرے لئے کسی چيز کا مالک نہيں۔” (صحیح مسلم، کتاب الامارۃ،باب غلظ تحریم الغلول، الحدیث: ۴۷۳۴،ص۱۰۰۶)
(4)۔۔۔۔۔۔اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب ، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :”وہی خسارہ پانے والے ہيں ربِّ کعبہ کی قسم! قيامت کے دن وہی خسار ے ميں ہوں گے ربِّ کعبہ کی قسم! وہ کثير مال ودولت والے ہيں مگر ان ميں سے جو ايسے ايسے خرچ کرے اور ايسے لوگ بہت قليل ہيں، اس ذاتِ پاک کی قسم! جس کے قبضۂ قدرت ميں ميری جان ہے جو شخص بکرياں، اونٹ يا گائے چھوڑ کر مرے اور ان کی زکوٰۃ ادا نہ کی ہو قيامت کے دن وہ جانور پہلے سے بڑے اور فربہ ہو کر آئيں گے يہاں تک کہ لوگوں کا فيصلہ ہونے تک اسے اپنے کھروں سے رونديں گے اور اپنے سينگوں سے ماريں گے جب ان ميں سے آخری جماعت گزر جائے گی تو پہلی جماعت دوبارہ لوٹ آئے گی۔”
(المسندللامام احمد بن حنبل ،الحدیث: ۲۱۴۰۹،ج۸،ص۸۱،راوی:ابوذر غفاری)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(5)۔۔۔۔۔۔شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”جو شخص اپنے مال کی زکوٰۃ ادا نہيں کرتا تو قيامت کے دن ايک جہنمی اژدھا  اس پرمسلط کردیا جائےگااور اس کی پيشانی، پہلو اورپيٹھ پر داغا جائے گا يہ عمل اس پورے دن ميں ہوتا رہے گا جس کی مقدار 50,000سال ہو گی يہاں تک کہ بندوں کے درميان فيصلہ ہو جائے۔”
(صحیح ابن حبان، کتاب الزکاۃ،باب الوعید ۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث: ۳۲۴۲،ج۴،ص۱۰۴)
(سنن النسائی،کتاب الزکاۃ،باب التغلیظ فی حبس الزکاۃ،الحدیث:۲۴۴۳،ص۲۲۴۵)
(6)۔۔۔۔۔۔دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”جو اونٹوں والا اپنے اونٹوں کی زکوٰۃ ادا نہيں کرتا وہ اونٹ قيامت کے دن پہلے سے زيادہ تعداد ميں آئيں گے اور اسے ایک چٹيل ميدان ميں بٹھا ديا جائے گا وہ اسے اپنے اگلے اور پچھلے پاؤں سے رونديں گے، جو گائے والا اپنی گائيوں کی زکوٰۃ ادا نہيں کرتا وہ گائيں قيامت کے دن پہلے سے زيادہ تعداد ميں آئيں گی اوراسے اپنے سينگوں سے ماريں گی اور پچھلی ٹانگوں سے رونديں گی ان ميں سے کوئی بھی بغير سينگ والی نہ ہو گی اور نہ ہی ٹوٹے ہوئے سينگ والی ہو گی اور جو خزانے والا اپنے خزانے کی زکوٰۃ ادا نہيں کرتا وہ خزانہ قيامت کے دن اَلشُّجَاعُ الْاَقْرَعُ (یعنی گنجے اژدھے) کی صورت ميں آئے گا، منہ کھولے ہوئے اس کا تعاقب کریگا جب وہ اس کے قريب آئے گا تو يہ اس سے بھاگے گا، وہ سانپ پکارے گا کہ اپنا خزانہ لے جسے تو نے چھپايا تھا کہ ميں تو اس سے غنی ہوں، جب وہ ديکھے گا کہ اس سے بچنے کا کوئی چارہ نہيں تو داخل ہو جائے گا( يعنی اس کے منہ ميں اپنا ہاتھ داخل کردے گا پس وہ اسے سانڈ کی طرح کاٹ ڈالے گا)۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(صحیح مسلم، کتاب الزکاۃ،باب اثم مانع الزکاۃ، الحدیث: ۲۲۹۶،ص۸۳۴)
(7)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”جو بھی اپنے مال کی زکوٰۃ ادا نہیں کرے گا تو اس کا وہ مال قیامت کے دن ایک گنجے سانپ کی شکل میں آئے گا اور اس شخص کی گردن میں ہار بن جائے گا۔” راوی فرماتے ہیں : پھر خاتَم ُالْمُرْسَلین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلمین صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے یہ آیتِ مبارکہ تلاوت فرمائی:
وَلَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیۡنَ یَبْخَلُوۡنَ بِمَاۤ اٰتٰىہُمُ اللہُ مِنۡ فَضْلِہٖ ہُوَ خَیۡرًا لَّہُمْ ؕ بَلْ ہُوَ شَرٌّ لَّہُمْ ؕ سَیُطَوَّقُوۡنَ مَا بَخِلُوۡا بِہٖ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ ؕ وَلِلہِ مِیۡرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرْضِ ؕ وَاللہُ بِمَا تَعْمَلُوۡنَ خَبِیۡرٌ ﴿180﴾٪
ترجمۂ کنز الایمان: اور جو بخل کرتے ہيں اس چيز ميں جو اللہ نے انہيں اپنے فضل سے دی ہر گز اسے اپنے لئے اچھا نہ سمجھيں بلکہ وہ ان کے لئے بُرا ہے عنقريب وہ جس ميں بخل کيا تھا قيامت کے دن ان کے گلے کا طوق ہو گا اور اللہ ہی وارث ہے آسمانوں اور زمين کا اور اللہ تمہارے کاموں سے خبر دار ہے۔(پ 4، آل عمران:180)
(ابن ماجہ،ابواب الزکاۃ، باب ماجاء فی منع الزکاۃ،الحدیث: ۱۷۸۴،ص۲۵۸۳)
(8)۔۔۔۔۔۔سیِّدُ المُبَلِّغِیْن، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”اللہ عزوجل نے غنی مسلمانوں پر ان کے اموال ميں قدرت کے مطابق مسلمان فقراء کا حصہ مقرر کيا ہے اور فقراء اگر بھوکے يا ننگے ہوں تو غنی لوگوں کے برباد کئے ہوئے مال کو ہی پاتے ہيں، خبردار! یقینا اللہ عزوجل ان لوگوں کا شديد حساب لے گا اور انہيں درد ناک عذاب دے گا۔” (المعجم الاوسط،الحدیث: ۳۵۸۹،ج۲،ص۳۷۴)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(9)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما ارشاد فرماتے ہیں :”بروزِ قیامت سودلینے اوردینے والوں اور اس کے گواہوں جبکہ سود کو جانتے ہوں، گودنے اور گدوانے والی عورتوں، صدقہ روک لينے والوں يا اس ميں ٹال مٹول کرنے والوں اورہجرت کے بعد اَعرابی بن جانے والے لوگوں پر شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی زبانِ اقدس سے لعنت کی جائے گی۔”  (المسند للامام احمد بن حنبل ، الحدیث:۴۰۹۰،ج۲،ص۱۲۱)
(10)۔۔۔۔۔۔مَحبوبِ ربُّ العٰلمین، جنابِ صادق و امین عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے سود لینے اور دینے والوں، اس کے گواہوں، سودی دستا ویزلکھنے والوں اور گودنے و گدوانے والی عورتوں، صدقہ روکنے والوں اور حلالہ کرنے والوں اور حلالہ کروانے والوں ان سب لوگوں پر لعنت فرمائی ہے۔”
    (المرجع السابق،الحدیث:۶۶۰،ج۱،ص۱۸۹)
(11)۔۔۔۔۔۔رحمتِ کونين، ہم غريبوں کے دلوں کے چین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”قيامت کے دن فقراء سے منہ پھيرنے والے اغنياء کے لئے ہلاکت ہو گی، فقراء کہيں گے :”انہوں نے ہمارے ان حقوق کے معاملے ميں ہم پر ظلم کيا جو ان پر فرض تھے۔” تو اللہ عزوجل فرمائے گا :”مجھے اپنی عزت وجلال کی قسم! ميں تمہيں ضرور( اپنی رحمت کے )قريب اور انہيں (اس سے )دور کروں گا۔” پھر تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے يہ آيت کريمہ تلاوت فرمائی:


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

۪ۙوَ الَّذِیۡنَ فِیۡۤ اَمْوَالِہِمْ حَقٌّ مَّعْلُوۡمٌ ﴿24﴾۪ۙلِّلسَّآئِلِ وَ الْمَحْرُوۡمِ ﴿25﴾
ترجمہ کنزا لايمان:اور وہ جن کے مال ميں ايک معلوم حق ہے اسکے لئے جو مانگے اور جو مانگ بھی نہ سکے تو محروم رہے۔(پ29، المعارج:24،25) (المعجم الاوسط،الحدیث: ۴۸۱۳،ج۳،ص۳۴۹)
(12)۔۔۔۔۔۔مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :”سب سے پہلے جنت اور جہنم ميں داخل ہونے والے تين تين افراد کو ميرے سامنے پيش کيا گيا، جنت ميں پہلے داخل ہونے وا لے تین افراد يہ تھے: (۱)شہيد (۲)وہ غلام جس نے اپنے رب کی اچھی طرح عبادت کی اور اپنے دنيوی آقا کی خير خواہی چاہی اور (۳)پاکدامن متوکل۔”
(المسند للامام احمد بن حنبل ، الحدیث:۹۴۹۷،ج۳،ص۴۱۲)
(13)۔۔۔۔۔۔جبکہ ايک روايت میں آخری دو کے بارے میں یہ الفاظ ہیں کہ مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا : ”وہ غلام جسے دنيا کی غلامی نے اپنے رب عزوجل کی اطاعت سے نہ روکا اورپاک دامن عيالدار فقير۔جبکہ سب سے پہلے جہنم ميں داخل ہونے والے تين افراد يہ تھے: (۱)زبردستی مسلط ہوجانے والا حاکم (۲)وہ مال دار جو اپنے مال سے اللہ عزوجل کا حق ادا نہيں کرتا اور (۳)متکبر فقير۔” (المصنف لابن ابی شیبۃ،کتاب الاوائل،باب اول مافعل ومن فعلہ،الحدیث: ۲۳۷،ج۸،۳۵۱)
(15)۔۔۔۔۔۔جبکہ ایک اورروایت میں ہے :”جس نے نماز قائم کی اور زکوٰۃ ادا نہ کی تو وہ ايسامسلمان نہيں جسے اس کا عمل نفع دے۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

 (شرح اصول اعتقاد اھل السنۃوالجماعۃ ،الجزء الرابع،باب جماع الکلام فی الایمان، الحدیث:۱۵۷۴،ج۱،ص۷۴۳)
(16)۔۔۔۔۔۔سرکار مدينہ، راحت قلب و سينہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے :”جس نے اپنے پيچھے کنز چھوڑا (کنز ايسے خزانے کو کہتے ہيں جس کی زکوٰۃ ادا نہ کی گئی ہو) اسے قيامت کے دن ايک گنجے سانپ ميں بدل ديا جائے گا اس کی آنکھوں پر دو سياہ دھبے ہوں گے، وہ اس شخص کے پيچھے دوڑے گا، وہ شخص پوچھے گا ،”تو کون ہے؟”سانپ کہے گا،”ميں تيرا وہ خزانہ ہوں جسے تواپنے پيچھے چھوڑ کر آيا تھا۔” پھر وہ اس کا پيچھاکرتا رہے گا يہاں تک کہ اس کا ہاتھ چبا ڈالے گا، پھر اس کو کاٹے گا اور اس کا سارا جسم چبا ڈالے گا ۔ ”
(المستدرک،کتاب الزکاۃ،باب التغلیظ فی منع الزکاۃ،الحدیث:۱۴۷۴،ج۲،ص۶،بدون”من أنت”خلقت بدلہ”ترکتہ بعدک” )
(17)۔۔۔۔۔۔شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے :”جو شخص اپنے مال کی زکوٰۃ ادا نہيں کرتا قيامت کے دن اس کے مال کو گنجے سانپ کی صورت ميں بدل ديا جائے گا، اس کی آنکھوں پر دو سياہ نکتے ہوں گے،وہ اس سے چمٹ جائے گا يا اس کے گلے کا طوق بن جائے گا اور کہے گا :”مَیں تيرا خزانہ ہوں، مَیں تيرا خزانہ ہوں۔”
(سنن النسائی، کتاب الزکاۃ،باب مانع زکاۃ مالہ ،الحدیث: ۲۴۸۳،ص۲۲۴۸)
(18)۔۔۔۔۔۔ سرکارِمدینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :”اللہ عزوجل جس کو کسی مال سے نوازے لیکن وہ اس کی زکوٰۃ نہ دے تو قیامت کے دن اس کا وہ مال ایک ایسے گنجے اژدھے کی مثل اس کی گردن میں طوق بنا کر ڈال دیا جائے گا کہ جس کی آنکھیں محض دو نکتے ہوں گی، پھر وہ اژدھا اس شخص کے جبڑے پکڑ کر اس سے کہے گا :”میں تیرا مال ہوں میں تیرا خزانہ ہوں۔” راوی فرماتے ہیں کہ پھرآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے یہ آیتِ مبارکہ تلاوت فرمائی:


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

وَلَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیۡنَ یَبْخَلُوۡنَ بِمَاۤ اٰتٰىہُمُ اللہُ مِنۡ فَضْلِہٖ ہُوَ خَیۡرًا لَّہُمْ ؕ بَلْ ہُوَ شَرٌّ لَّہُمْ ؕ سَیُطَوَّقُوۡنَ مَا بَخِلُوۡا بِہٖ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ ؕ وَلِلہِ مِیۡرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرْضِ ؕ وَاللہُ بِمَا تَعْمَلُوۡنَ خَبِیۡرٌ ﴿180﴾٪ (پ 4، آل عمران:180)
ترجمۂ کنز الایمان: اور جو بخل کرتے ہيں اس چيز ميں جو اللہ نے انہيں اپنے فضل سے دی ہر گز اسے اپنے لئے اچھا نہ سمجھيں بلکہ وہ ان کے لئے بُرا ہے عنقريب وہ جس ميں بخل کيا تھا قيامت کے دن ان کے گلے کا طوق ہو گا اور اللہ ہی وارث ہے آسمانوں اور زمين کا اور اللہ تمہارے کاموں سے خبر دار ہے۔
(صحیح البخاری،کتاب الزکاۃ،باب اثم مانع الزکاۃ،الحدیث: ۱۴۰۳،ص۱۱۰)
(19)۔۔۔۔۔۔دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”چارچيزيں اللہ عزوجل نے اسلام ميں فرض فرمائی ہيں جو ان ميں سے تین لے کر آئے گا وہ اسے کچھ کام نہ آئيں گی جب تک کہ ان سب کو لے کر نہ آئے: (۱)نماز (۲)زکوٰۃ (۳)ماہ ِرمضان کے روزے اور (۴) بَيت اللہ شریف کا حج۔”
(المسند للامام احمد بن حنبل ، الحدیث: ۱۷۸۰۴،ج۶،ص۲۳۶)
(20)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا ابو ہريرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے (سفرکے ) لئے ایک ایسا گھوڑا (یعنی براق) لایا گیا جواپنا قدم تاحدِ نگاہ رکھتا، حضرت سیدنا جبرائيل عليہ السلام بھی آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے ہم سفر تھے، آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کچھ ایسے لوگوں کے پاس تشريف لائے جو ايک دن کھيتی بوتے اوردوسرے دن فصل کاٹتے وہ جب بھی فصل کاٹ ليتے تو وہ پہلے کی طرح اُگ آتی۔” آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے دریافت فرمایا کہ ”اے جبرائيل!يہ کون لوگ ہيں؟” انہوں نے عرض کی:”يہ راہِ خدا عزوجل کے مجاہدين ہيں، ان کی نيکيوں ميں 700 گنا اضافہ کر ديا گیا ہے، يہ جو خرچ کیا کرتے تھے وہ انہیں اب بھی بہتر اَجر کی صورت میں بعد میں بھی ملتا رہتا ہے۔” پھر آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ايک ايسی قوم کے پاس سے گزرے جن کے سر پتھروں سے پھوڑے جا رہے تھے، جب وہ پھٹ جاتے تو پہلے کی طرح درست ہو جاتے اور اس معاملے ميں ان سے کوئی کوتاہی نہ برتی جاتی، آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے دریافت فرمایا:”اے جبرائيل!يہ کون لوگ ہيں؟” انہوں نے عرض کی ،”يہ وہ لوگ ہيں جن کے سر نماز سے بوجھل ہو جاتے تھے۔” 


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    پھرآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ايک ايسی قوم کے پاس سے گزرے جن کے آگے اور پيچھے کاغذ کے پرچے تھے (جن پر وہ حقوق لکھے تھے جو ان کے ذمہ تھے) وہ ضريع ،زقوم (یعنی جہنم کے نہايت کڑوے درخت) اور جہنم کے پتھر اس طرح چرتے تھے جيسے چوپائے چرتے ہيں، آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے دریافت فرمایا :”اے جبرائيل! يہ کون لوگ ہيں؟” تو انہوں نے عرض کی:”يہ وہ لوگ ہيں جو اپنے مال کی زکوٰۃ ادا نہيں کرتے تھے اور اللہ عزوجل نے ان پر ظلم نہيں کيا اورنہ ہی اللہ عزوجل اپنے بندوں پر ظلم کرنے والا ہے۔”
(الترغیب والترہیب،کتاب الصدقات،باب الترہیب من منع الزکاۃ،الحدیث:۱۱۴۵،ج۱،ص۳۶۶)
 (21)۔۔۔۔۔۔شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختارباذنِ پروردگار، حبیبِ پروردگارعزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا : ”خشکی اور تری ميں جو مال بھی ضائع ہوتا ہے،وہ زکوٰۃ روک لينے کی وجہ سے ہوتا ہے ،زکوٰۃ روک لينے والا قيامت کے دن جہنم ميں ہو گا۔”
     (المرجع السابق،الحدیث:۴۷/۱۱۴۶،ج۱،ص۳۶۷)
 (22)۔۔۔۔۔۔حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرعزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :”صدقہ يا زکوٰۃ جس مال ميں بھی مل جائے اسے بربادکر ديتا ہے۔”
(شعب الایمان،باب فی الزکاۃ،الحدیث:۳۵۲۲،ج۳،ص۲۷۳)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    مراد يہ ہے کہ جس مال کا صدقہ ادا نہ کيا جائے وہ صدقہ اس مال کو برباد کر ديتا ہے اس کی دليل گذشتہ حدیثِ پاک ہے يا يہ مراد ہے کہ جو غنی ہونے کے باوجود زکوٰۃ لے کر اسے اپنے مال کے ساتھ ملالے وہ صدقہ اس مال کو تباہ کر دے گا يہ تشریح امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بيان فرمائی ہے۔
(23)۔۔۔۔۔۔سرکار ابدِ قرار، شافعِ روزِ شمار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”جن لوگوں پر نماز ظاہر کی گئی تو انہوں نے اسے قبول کر ليا اور زکوٰۃ پوشيدہ رکھی گئی تو وہ اسے کھا گئے وہی لوگ منافق ہيں۔”
 (الترغیب والترہیب،کتاب الصدقات،باب الترہیب من منع الزکاۃ،الحدیث:۱۱۴۹،ج۱،ص۳۶۸)
 (24)۔۔۔۔۔۔شاہِ ابرار، ہم غريبوں کے غمخوار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”جو لوگ زکوٰۃ روک ليتے ہيں اللہ عزوجل ان سے بارش روک ليتا ہے۔”
 (المستدرک،کتاب الجھاد،باب مانقض قوم العھد۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث: ۲۶۲۳،ج۲،ص۴۶۱)
 (25)۔۔۔۔۔۔ايک صحيح روايت ميں ہے :”جولوگ زکوٰۃ ادا نہيں کرتے اللہ عزوجل انہيں قحط سالی ميں مبتلا فرما ديتا ہے۔”  (المعجم الاوسط،الحدیث:۶۷۸۸،ج۵،ص۱۲۳)
 (26)۔۔۔۔۔۔رسولِ انور، صاحبِ کوثر صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:”اے گروہ مہاجرين !پانچ خصلتيں ايسی ہيں کہ اگر تم ان ميں مبتلا ہو گئے تو تم پر مصیبتيں نازل ہوں گی، ميں اللہ عزوجل سے پناہ چاہتا ہوں کہ تم انہيں پاؤ: (۱)جب بھی کسی قوم ميں فحاشی ظاہر ہوئی اور وہ اسے اعلانيہ کرنے لگے تو ان ميں ايسے امراض پھوٹ پڑے جو ان سے پہلے لوگوں ميں نہ تھے (۲)جو لوگ ناپ تول ميں کمی کرنے لگے تو ان کی پکڑ قحط سالی، سخت تکلیف اور حکمرانوں کے ظلم سے کی گئی(۳)جن لوگوں نے اپنے اموال کی زکوٰۃ ادا کرنا چھوڑ دی ان سے آسمان کی بارش روک لی گئی اور اگر چوپائے نہ ہوتے تو ان پر بارش نہ ہوتی (۴)جن لوگوں نے اللہ عزوجل اور اس کے رسول صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا عہد تو ڑا ان پر غير قوم سے دشمن کو مسلط کر ديا گيا تو اس نے ان کا مال چھين ليا اور (۵)جس قوم کے حکمرانوں نے اللہ عزوجل کی کتاب کے خلاف فيصلے کئے اللہ عزوجل نے ان کے درمیان آپس کے جھگڑے ڈال دئيے۔’


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

   (سنن ابن ماجہ،ابواب الفتن ، باب العقوبات ،الحدیث: ۴۰۱۹،ص۲۷۱۸)
 (27)۔۔۔۔۔۔نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ معظم ہے :”پانچ چیزیں پانچ چیزوں کا سبب ہیں۔” عرض کی گئی يارسول اللہ عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم!پانچ چیزوں کے پانچ چیزوں کا سبب ہونے سے کیا مراد ہے؟” تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:”(۱)جس قوم نے عہد توڑا تو اس پر اُس کے دشمن کو مسلط کر دیا گیا (۲)جس قوم کے حکمرانوں نے اللہ عزوجل کی کتاب کے خلاف فيصلے کئے تو اُس میں موت پھیل گئی (۳)جس قوم نے زکوٰۃ ادا نہ کی تو اُس سے بارش روک لی گئی اور (۴) جس قوم نے ناپ تول میں کمی کی تو اُس سے سبزہ کو روک لیا گیا اوراُسے قحط سالی نے آلیا۔”
 (الترغیب والترہیب،کتاب الصدقات،باب الترہیب من منع الزکاۃ۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۱۱۵۱،ج۱،ص۳۶۹)
 (نوٹ:یہاں پراس حدیثِ پاک میں ۵ کی بجائے ۴ قوموں کا تذکرہ ہے شاید کتابت کی غلطی ہے )
(28)۔۔۔۔۔۔حضرت سيدنا ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ مانعين زکوٰۃ کے بارے ميں نازل ہونے والے اللہ عزوجل کے اس فرمانِ عالیشان:
یَّوْمَ یُحْمٰی عَلَیۡہَا فِیۡ نَارِجَہَنَّمَ فَتُکْوٰی بِہَا جِبَاہُہُمْ وَجُنُوۡبُہُمْ وَظُہُوۡرُہُمْ ؕ ہٰذَا مَاکَنَزْتُمْ لِاَنۡفُسِکُمْ فَذُوۡقُوۡا مَاکُنۡتُمْ تَکْنِزُوۡنَ ﴿35﴾
ترجمۂ کنز الایمان:جس دن وہ تپايا جائے گا جھنم کی آگ ميں پھر اس سے داغيں گے ان کی پيشانياں اور کروٹيں اور پيٹھيں يہ ہے وہ جو تم نے اپنے لئے جوڑ کر رکھا تھا اب چکھو مزا اس جوڑ نے کا۔(پ10، التوبہ:35)
    کی تفسير ميں ارشاد فرماتے ہيں :”جب مال جمع کر کے رکھنے اور زکوٰۃ ادا نہ کرنے والے کو داغا جائے گا تو کوئی درہم دوسرے درہم سے اور کوئی دينار دوسرے دينا رسے نہ چھوئے گا بلکہ اس کے جسم کو اتنا وسيع کر ديا جائے گا کہ اس پر ہر درہم و دينار کو رکھا جا سکے۔”
    (تفسیر الدرالمنثور،تحت الآیۃ:۳۵(یوم یحمی علیہا۔۔۔۔۔۔الخ)ج۴،ص۱۷۹،مفہومًا)
وضاحت:اللہ عزوجل نے اس شخص کی پيشانی، پہلو اور پيٹھ کو داغنے کے ساتھ اس لئے مخصوص فرمايا کہ بخيل مالدار جب کسی فقير کو ديکھتا ہے تو ترش روئی دکھاتا ہے اور اس کے ماتھے پر شکنيں پڑ جاتی ہيں اور وہ اس سے پہلو تہی اختيار کرتا ہے پھر جب فقير اس کے قريب آتا ہے تو وہ اس سے پيٹھ پھير ليتا ہے لہٰذاان اعضاء کو داغ کر سزا دی جائے گی تاکہ عمل کی سزا اسی کی جنس سے ہو۔” 


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(29)۔۔۔۔۔۔حضرت سيدنا ابن مسعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہيں :”جس نے مالِ حلال کمايا اور زکوٰۃ روک لی تو يہ(روکاہوا)مال حلال مال کوبھی گندا کر دے گا اور جس نے مالِ حرام کمايا توزکوٰۃ کی ادائيگی بھی اسے پاک وحلال نہ کرے گی۔”  (المعجم الکبیر،الحدیث:۹۵۹۶،ج۹،ص۳۱۹)
 (30)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدناا حنف بن قيس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ارشاد فرماتے ہيں :” ميں قريش کے کچھ لوگوں کے پاس بيٹھا ہوا تھا کہ سخت بالوں، کُھردرے لباس اوربارُعب صورت والے ايک شخص نے ان کے قريب آکرسلام کيا پھر کہا:”خزانے جمع کر کے رکھنے والوں کو جہنم ميں دہ کائے ہوئے پتھر کی بشارت دے دو، جسے ان ميں سے کسی کی چھاتی کی نوک پر رکھا جائے گا تووہ اس کی پيٹھ سے نکل جائے گا اور اس کی پيٹھ پر رکھا جائے گا تو وہ اس کے چھاتی کی نوک سے نکلے گا۔” يہ کہہ کر وہ شخص کانپنے لگا پھر پلٹ کر ايک ستون کے پاس بيٹھ گيا، ميں بھی اس کے پيچھے چل ديا اور اس کے قريب جا کر بيٹھ گيا حالانکہ ميں نہيں جانتا تھا کہ وہ کون ہے، پھر ميں نے کہا: ”ميرا خيال ہے کہ لوگوں نے آپ کی بات کا برا منايا ہے۔” اس نے کہا :”ميرے خليل نے مجھ سے ارشاد فرمايا تھا:”يہ لوگ کچھ عقل نہيں رکھتے۔” (راوی فرماتے ہیں کہ) ميں نے پوچھا: ”آپ کے خليل کون ہيں؟”تو انہوں نے بتایا :” نبئ کريم،رء ُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم۔”(پھر مجھ سے پوچھا)”کيا تمہيں اُحدپہاڑ نظر آرہا ہے؟”ميں نے سورج کی طرف ديکھا کہ کتنا دن باقی رہ گيا ہے، ميرا خيال تھا کہ حضور نبئ کریم صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم مجھے اپنے کسی کام بھیجيں گے،(یہ سوچ کر)ميں نے جواب دیا: ”جی ہاں۔” تو اس نے کہا: ”ميں يہ بات پسند کرتا ہوں کہ ميرے پاس اُحد پہاڑ جتنا سونا ہوتوميں تین ديناروں کے علاوہ سب کچھ خرچ کردوں اور بے شک يہ لوگ کچھ عقل نہيں رکھتے،يہ دنيا جمع کرنے ميں مصروف ہيں ،خدا عزوجل کی قسم!ميں ان سے دنيا نہيں مانگوں گا اور نہ کوئی دينی مسئلہ پوچھوں گا یہاں تک کہ اللہ عزوجل سے ملاقات کر لوں۔”
 (صحیح البخاری،کتاب الزکاۃ،باب ماادِّی زکاتہ فلیس ۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۱۴۰۷/۱۴۰۸،ص۱۱۰)
 (31)۔۔۔۔۔۔جبکہ مسلم شریف کی روايت ميں ہے :”خزانے جمع کر کے رکھنے والوں کو بشارت دے دو کہ ان کی پيٹھ پر داغے جانے سے وہ خزانہ ان کے پہلوؤں سے نکلے گا اور کنپٹیوں پر داغے جانے سے ان کی پيشانيوں سے نکلے گا۔” راوی فرماتے ہیں: ”پھر وہ جھک کر بيٹھ گئے تو ميں نے پوچھا :”يہ کون ہيں؟” لوگوں نے مجھے بتايا:”يہ حضرت سيدناابوذررضی اللہ تعالیٰ عنہ ہيں۔” ميں نے ان کے پاس جا کر پوچھا :”ابھی ميں نے آپ کو جو بات کہتے سنا وہ کيا ہے؟” تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمايا :”ميں نے تو وہی بات کہی ہے جسے ميں نے ان کے رسول اکرم، شفيع معظم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم سے سنا تھا۔” ميں نے پوچھا :”آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ عطيہ( یعنی تحفہ) کے بارے ميں کيا کہتے ہيں؟” تو انہوں نے ارشاد فرمايا :”لے لو کيونکہ آج يہ معونت (یعنی امداد) ہے، پھر جب يہ تمہارے دِين کی قيمت بننے لگے تو اسے چھوڑ دينا۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

 (صحیح مسلم ،کتاب الزکاۃ ، باب فی الکنازین للاموال ۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث: ۲۳۰۷،ص۸۳۵)
error: Content is protected !!