بہترین زادِ راہ کیا ہے ؟

بہترین زادِ راہ کیا ہے ؟

حضرت سیدنا علی بن محمد مدائنی علیہ رحمۃ اللہ القوی سے منقول ہے، ایک مرتبہ شیرِ خدا حضرت سیدنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم ایک جگہ کھڑے ہوئے اور روتے ہوئے یوں نصیحت فرمائی:”اے لوگو! یہ دنیا اس کے لئے حقائق اور سچائیوں کا گھر ہے جو اس کی حقیقت کو پہچان لے ،یہ اس کے لئے دارِ عافیت ہے جو اسے اچھی طرح سمجھ جائے ، جو یہاں سمجھداری سے تجارت کرتا ہے اسے نفع ملتا ہے،اس دنیا میں اللہ عزوجل کی مساجد ہیں ، دنیا میں ہی انبیاء کرام علیہم السلام پر وحی نازل ہوئی ، اللہ عزوجل کے ملائکہ دنیا میں بھی اس کی عبادت کرتے ہیں ،یہ دنیا اولیاء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ سے مزین ہے ۔اس دنیا میں رہ کر خوب نیک عمل کرو اور عافیت حاصل کرو ۔ جو شخص دنیا کی خواہ مخواہ مذمت کرتا ہے وہ اذیت میں مبتلارہتا ہے، وہ اپنے نفس اور اہل دنیا کی تعریف کرتا رہتا ہے دنیا اپنی

تمام ترمصیبتوں کے ساتھ بلاؤں کی صورت اختیار کرکے اس کے پاس آجاتی ہے ، او ریہی دنیا اپنی خوشیوں اور آرائشو ں کے ساتھ مزین ہے ،پس اس دنیا سے خوف زدہ بھی رہنا چاہے ، اس سے بچنابھی چاہے اور (بقد رِ ضرورت ) اس کی طرف رغبت کرنی چاہے ۔
کچھ لوگ دنیا کی مذمت کرتے ہیں اور کچھ لوگ اس کی تعریف کرتے ہیں اور دنیا تو عبرت اور نصیحت کی جگہ ہے ، جوچاہے اس سے عبرت ونصیحت حاصل کرے۔
اے دنیا کی دھوکے بازیوں کی وجہ سے دنیا کو ملامت کرنے والے !کیا دنیا نے تجھے زبر دستی ذلت میں ڈالا ہے ؟ اس نے کب تجھے تیری منزل مقصود سے دور کیا؟ کیا اس نے تیرے آبا ؤاجداد کو مصیبت میں گرفتار نہ کیا ؟اے انسان !تو خود اپنے ہی ہاتھوں بیماری میں مبتلا ہے اگر تو چاہے تو مرضِ دنیا کا علاج خود ہی کرسکتا ہے ،تجھے اطبّاء کے پاس جانے کی حاجت نہیں، آج جو کرنا ہے کرلے ،دنیا میں غرق ہونے سے بچ، بقدرِ کفایت اس سے نفع حاصل کرلے، کل تجھے تیری تدابیر کام نہ آئیں گے۔ آج جو کرنا ہے کر لے ، یہ دنیانئے نئے رنگوں والی اورپچھا ڑنے والی ہے۔
حضرت سیدنا علی بن محمد مدانی علیہ رحمۃاللہ القوی فرماتے ہیں، اس نصیحت آموز تقریر کے بعد آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ قبر ستان والوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا:”اے اہل قبور! تمہارے مرنے کے بعد تمہارے مال تقسیم ہوگئے ، تمہاری عورتوں نے شادی کر لی،اے اہل قبور! تمہارے مرنے کے بعد تمہارے مال تقسیم ہوگئے، عورتوں نے نئے نکاح کرلئے، یہ تو تمہارے بعد ہماری خبر ہے ،اب تم بتا ؤ کہ تمہارے ساتھ کیا معاملہ ہوا ؟”پھر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا:” اے لوگو ! اگر انہیں کلام کرنے کی اجازت ہوتی تو اس طر ح کہتے :”بے شک بہترین زادِ راہ تقوی ہے۔”
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی عليہ وسلم)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!