Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

کبيرہ نمبر210:پڑوسی کورہائش کے معاملے ميں تکلیف پہنچانا

پڑوسی کے گھر سے اونچا گھر بنانا يا ايسی عمارت بنانا يا ايسی طرز پرعمارت بنانا
جس سے اسےتکليف پہنچتی ہو اگرچہ پڑوسی ذمی اور کافر ہی کيوں نہ ہو۔
(1)۔۔۔۔۔۔حضرت سيدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:”جو اللہ عزوجل اور قيامت کے دن پر ايمان رکھتا ہے وہ اپنے پڑوسی کو ہر گز تکليف نہ دے، جو اللہ عزوجل اور قيامت کے دن پر ايمان رکھتا ہے اسے چاہے کہ اپنے مہمان کی عزت کرے اورجو اللہ عزوجل اور قيامت کے دن پر ايمان رکھتا ہے اسے چاہے کہ اچھی بات کہے يا خاموش رہے۔”
( صحیح مسلم ،کتاب الایمان ، باب الحث علی اکرام الجار والضیف۔۔۔۔۔۔الخ ،الحدیث: ۱۷۴ ، ص ۶۸۸ )
(2)۔۔۔۔۔۔ مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:”جو اللہ عزوجل اور قيامت کے دن پر ايمان رکھتا ہے اسے چاہے کہ اپنے پڑوسی سے اچھا سلوک کرے۔”
(المرجع السابق،الحدیث:۱۷۶ ، ص ۶۸۸)
(3)۔۔۔۔۔۔جبکہ ایک روایت میں یہ الفاظ ہيں:”اسے چاہے کہ اپنے پڑوسی کی عزت کرے۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

( صحیح البخاری ، باب الادب ، باب من کان یومن باللہ والیوم۔۔۔۔۔۔الخ، الحدیث: ۶۰۱۹، ص ۵۰۹)
(4)۔۔۔۔۔۔مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے صحابہ کرام علیہم الرضوان سے ارشاد فرمایا:”تم زنا کے بارے ميں کيا کہتے ہو؟” صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کی:”حرام ہے، اسے اللہ عزوجل اور اس کے رسول صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے قيامت تک کے لئے حرام فرما ديا ہے۔” تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:”آدمی کا 10عورتوں سے زنا کرنا اپنے پڑوسی کی بيوی سے زنا کرنے سے کم گناہ ہے۔” پھر دریافت فرمایا:”تم چوری کے بارے ميں کيا کہتے ہو؟” انہوں نے عرض کی:”اللہ عزوجل اور اس کے رسول صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے اسے حرام قرار ديا ہے لہذا يہ قيامت تک کے لئے حرام ہے۔” تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمايا:”آدمی کا 10گھروں سے چوری کرنا اپنے پڑوسی کے گھر سے چوری کرنے سے کم گناہ ہے۔”
  ( المسند للامام احمد بن حنبل ، حدیث المقداد بن الأسود ، الحدیث: ۲۳۹۱۵ ، ج۹ ، ص ۲۲۶)
(5)۔۔۔۔۔۔سرکار مدينہ، راحت قلب و سينہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:”اللہ عزوجل کی قسم! وہ مؤمن نہيں، اللہ عزوجل کی قسم! وہ ايمان والا نہيں، اللہ عزوجل کی قسم! وہ مؤمن نہيں ہو سکتا۔” صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کی:”يا رسول اللہ عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! وہ (بد نصيب) کون ہے؟” تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمايا:”جس کی برائيوں سے اس کا پڑوسی محفوظ نہ رہے۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

 ( صحیح البخاری ،کتاب الادب ، باب اثم من لایامن جارہ بوائقہ ، الحدیث: ۶۰۱۶ ، ص۵۰۹)
( المسند للامام احمد بن حنبل ،حدیث ابی شریح الخزاعی،الحدیث: ۱۶۳۷۲ ، ج۵ ،ص ۵۱۴)
(6)۔۔۔۔۔۔شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:”جس کے شر سے اس کا پڑوسی محفوظ نہ رہے وہ مؤمن نہيں۔”
    ( مسند ابی یعلٰی الموصلی ، مسندانس بن مالک، الحدیث: ۴۲۳۶ ، ج ۳ ، ص ۴۴۲)
(7)۔۔۔۔۔۔سرکار ِمدینہ، راحت قلب وسینہ،باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:”آدمی اس وقت تک مؤمن نہيں ہو سکتا جب تک کہ اس کا پڑوسی اس کے شر سے محفوظ نہ ہو جائے، جب وہ(پڑوسی) شب باشی کرےتو اس کے شر سے محفوظ ہو،بے شک مؤمن تو وہ ہے جو خود پريشانی ميں ہواور دوسرے لوگ اس کی طرف سے راحت ميں ہوں۔”
(الترغیب والترہیب،کتاب البروالصلۃ،باب الترہیب من اذی۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۳۹۰۱،ج۳،ص۴۰،۲۳۹)
(8)۔۔۔۔۔۔نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:”اس ذاتِ پاک کی قسم جس کے قبضۂ قدرت ميں ميری جان ہے! بندہ اس وقت تک مؤمن نہيں ہو سکتا جب تک کہ اپنے پڑوسی يا بھائی کے لئے وہی پسند نہ کرے جو اپنے لئے پسند کرتاہے۔”
( صحیح مسلم ،کتاب الایمان ، باب الدلیل علی ان من خصال الایمان ۔۔۔۔۔۔الخ ، الحدیث: ۱۷۱ ، ص۶۸۸)
(9)۔۔۔۔۔۔دو جہاں کےتاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بارگاہ ميں ايک شخص نے حاضر ہو کر عرض کی:”يا رسول اللہ عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! ميں نے فلاں قبيلے کے محلے ميں رہائش اختيار کی ہے لیکن ان ميں سے جو مجھے سب سے زيادہ تکليف ديتا ہے وہ ميرا سب سے زیادہ قريبی پڑوسی ہے۔” تو سرکارِ والا تَبار، بے کسوں کے مددگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے حضرت سيدنا ابو بکر صديق اور حضرت سيدنا عمر فاروق اور حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کوبھیجا وہ مسجد کے دروازے پر کھڑے ہو کر زورزورسے يہ اعلان کرنے لگے کہ بے شک چالیس گھرپڑوس ميں داخل ہيں اور جس کے شر سے اس کا پڑوسی خوفزدہ ہو وہ جنت ميں داخل نہ ہو گا۔”       ( المعجم الکبیر ، الحدیث: ۱۴۳ ، ج۱۹ ، ص ۷۳)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(10)۔۔۔۔۔۔شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختارباِذنِ پروردگار عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:”جب تک بندے کا دل سيدھا نہ ہو جائے اس کا ايمان درست نہيں ہو سکتا اور جب تک اس کی زبان سيدھی نہ ہو جائے اس کا دل سيدھا نہيں ہو سکتا اور وہ اس وقت تک جنت ميں داخل نہیں ہوسکتاجب تک اس کا پڑوسی اس کے شر سے بے خوف نہ ہو جائے۔”
(المسندللامام احمدبن حنبل،مسندانس بن مالک بن النضر،الحدیث:۱۳۰۴۷،ج۴،ص۳۹۵)
error: Content is protected !!