Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

کبيرہ نمبر229: حرمت کے قائل کے نزديک عرفہ،

باب احياء الموات

بے جان اشیاء کابیان
   ضرورت سے زائدپانی روک ليناکبيرہ گناہ ہے جيسا کہ حديثِ پاک نے اس کی تصريح فرمائی، اس کابیان گزرچکاہے۔


کبيرہ نمبر229:        حرمت کے قائل کے نزديک عرفہ،
مزدلفہ يا منیٰ ميں عمارت بنانا

    جس نے عرفہ،مزدلفہ يا منیٰ ميں عمارت بنانا حرام قرار ديا ہے اس کے نزديک يہ کبيرہ گناہ ہے، اس کی حرمت کی بناء پر اسے کبيرہ گناہ قراردينا بالکل ظاہر ہے کيونکہ اس قول کے مطابق يہ زمين غصب کرنے کے زمرے ميں آتا ہے اور ہم بيان کر چکے ہيں کہ زمين غصب کرنا کبيرہ گناہ ہے اور اس کی وعيد بھی بيان ہو چکی ہے اور جو شخص اس عمل کی حرمت کا اعتقاد رکھتے ہوئے ايسا کریگا يہ وعيديں اسے شامل ہوں گی۔

کبيرہ نمبر230: مباح اشياء کے استعمال سے لوگوں کوروکنا


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

خواہ وہ اشیاء عام ہوں يا خاص۔لوگوں کو ان کے استعمال سے روکنا مثلاً ايسی بنجر زمين جسے آباد کرنا
ہر ايک کے لئے جائز ہو اسی طرح شاہراؤں، مسجدوں، گھوڑے باندھنے کی جگہوں 
اور ظاہری و باطنی معدنيات سے روکنا۔
    ان ميں سے ہر ايک کے جائز استعمال سے روکنا کبيرہ گناہ ہونا مناسب ہے کيونکہ يہ غصب کے مشابہ ہے اور آدمی کو اس کی ملکيت ميں تصرف سے روکنے کے مترادف ہے کيونکہ ا س کے لئے اس طرح کی چيزوں سے نفع اٹھانا اپنی ملکيت سے نفع اٹھانے کی طرح ہے پس جس طرح جيسے ملکيت سے روکنا کبيرہ گناہ ہے اسی طرح اس سے روکنا بھی کبيرہ گناہ ہے۔
error: Content is protected !!