کبیرہ نمبر61: دِل کاسخت ہوجانا

    یعنی دل اتنا سخت ہو جائے کہ وہ کسی مجبور انسان کو کھانا تک کھلانے سے رُک جائے۔
Advertisement
(1)۔۔۔۔۔۔امیرالمؤمنین حضرت سیدنا علی بن ابی طالب کَرَّمَ اللہُ تَعَالیٰ وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے مروی ہے کہ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”میری اُمت کے رحمدل لوگوں سے بھلائی طلب کرو، ان کے قریب رہا کرو اور سنگدل لوگوں سے بھلائی نہ مانگو کیونکہ ان پر لعنت اُترتی ہے۔اے علی! اللہ عزوجل نے بھلائی کو پیدا فرمایا تو اس کے اہل (يعنی  افراد) کو بھی پیدا فرمایا، پھر بھلائی کو ان کا محبوب کر دیا اور اس پر عمل کرنا انہیں محبوب بنا دیا نیز انہیں اس کی طلب میں یوں لگا دیا جیسے وہ پانی کو قحط زدہ زمین کی طرف پھیر دیتا ہے کہ اس پانی کے ذریعے وہاں والوں کو جِلا بخشے اور بے شک جو لوگ دنیا میں بھلائی والے ہوں گے وہی آخرت میں بھی بھلائی والے ہوں گے۔”
 (المستدرک،کتاب الرقاق،باب اشقی الاشقیاء من اجمتع۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث: ۷۹۷۸،ج۵،ص۴۵۸)
 (2)۔۔۔۔۔۔دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”میری اُمت کے رحمدل لوگوں سے اپنی مرادیں مانگو، ان کے قریب رہا کرو کیونکہ میری رحمت انہیں میں ہے اور سنگدل لوگوں سے مرادیں نہ مانگو کیونکہ وہ میری ناراضگی کے منتظر ہیں۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(کنزالعمال،کتاب الزکاۃ،قسم الاقوال ،الحدیث: ۱۶۸۰۲،ج۶،ص۲۲۰”الفضل ”بدلہ” الحوائج”

تنبیہ:

    اس کا کبیرہ گناہوں میں شمار ہونا دونوں حدیثوں میں صراحتًابیان کیا گیا ہے کیونکہ لعنت اور ناراضگی سخت وعید ہونے کی بناء پر کبیرہ گناہ کی علامتوں میں سے ہیں لیکن اس سنگدلی کو اس کیفیت پر محمول کرنا چاہے جسے ہم نے عنوان میں ذکر کیا ہے اور یہ بالکل ظاہر ہے اگرچہ میں نے کسی کو اس کی صراحت یا اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے نہیں پایا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!