Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

کبیرہ نمبر64: بدکاری وفحش گوئی کا عادی ہو جانا

یعنی کسی کا اس طرح اِن کا عادی ہو جانا کہ لوگ اس کے شرسے بچنے کے لئے اس سے ڈرنے لگیں۔
(1)۔۔۔۔۔۔اُم المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ارشاد فرماتی ہیں کہ رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:”قیامت کے دن اللہ عزوجل کے نزدیک مرتبہ کے لحاظ سے سب سے بُرا شخص وہ ہو گا جس کی فحش کلامی سے بچنے کے لئے لوگ اسے چھوڑ دیں۔”
(صحیح مسلم،کتاب البروالصلۃ،باب مدارۃ من یتقی فحشہ،الحدیث:۶۵۹۶،ص۱۱۳)
(2)۔۔۔۔۔۔خاتَمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلَمین صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”حیا ء ایمان کاحصہ ہے اور ایمان جنت میں لے جانے والا ہے جبکہ بے حیائی ظلم میں سے ہے اور ظلم جہنم میں لے جانے والا ہے۔”
(جامع الترمذی ، ابواب البر والصلۃ ، باب ماجاء فی الحیاء ،الحدیث: ۲۰۰۹،ص۱۸۵۳)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(3)۔۔۔۔۔۔سیِّدُ المبلِّغین، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”بے شک فحش گوئی اور بد اخلاقی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں اور لوگوں میں سب سے اچھا اسلام اس شخص کا ہے جو سب سے اچھے اخلاق والا ہے۔”
(المسندللامام احمد بن حنبل،الحدیث:۲۰۹۹۷،ج۷،ص۴۳۱)
error: Content is protected !!