Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

اذان واقامت کا جواب دینا

اذان واقامت کا جواب دینا

(۱) امیر المومنین حضرتِ سیدنا عمر بن خطا ب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رحمتِ عالم صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا” جب مؤذن اَللہُ اَکْبَرُ اَللہُ اَکْبَرُ کہے تو تم میں سے کوئی اَللہُ اَکْبَرُ اَللہُ اَکْبَرُ کہے، پھر مؤذن اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلاَّاللہُ کہے تووہ شخص اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ کہے، پھر مؤذن اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللہِ کہے تووہ شخص اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًارَّسُوْلُ اللہِ کہے ،پھر مؤذن حَیَّ عَلَی الصَّلٰوۃِ کہے تووہ شخص لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ کہے ،پھر مؤذن حَیَّ عَلَی الْفَلاَحِ کہے تو وہ شخص لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ کہے ، پھرجب مؤذن اَللہُ

اَکْبَرُ اللہُ اَکْبَرُ کہے تو وہ شخص اَللہُ اَکْبَرُ اَللہُ اَکْبَرُ کہے اور جب مؤذن لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ کہے اور یہ شخص دل سے لَااِلٰہَ اِلَّا اللہُ کہے تو جنت میں داخل ہوگا۔”

(صحیح مسلم ، کتا ب الصلوۃ ، باب استجاب القول مثل قول الموذن الخ، رقم ۳۸۵، ص ۲۰۳)

(۲) ایک مرتبہ رسول ِ اکرم صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا،” اے خواتین کے گروہ! جب تم بلال رضی اللہ عنہ کی اذان اور اقامت سنوتو جیسے یہ کہے تم بھی اسی طرح کہہ لیاکرو کہ اللہ عزوجل تمہارے لئے ہر کلمہ کے بدلے ایک لاکھ نیکیاں لکھے گا اور ایک ہزار درجات بلند فرمائے گا اور ایک ہزار گناہ مٹائے گا۔”یہ سن کر عرض کی ،”یہ فضیلت تو عورتوں کے لئے ہے مردوں کیلئے کیاہے؟ ”تو نبی کریم صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا” مردوں کیلئے اس سے دگنا ثواب ہے ۔”(کنزالعمال، رقم۲۱۰۰۶ ، ج ۷ ،ص ۲۸۷)
(۳) حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک صاحب جن کا بظاہر کوئی بہت بڑا نیک عمل نہ تھا ، وہ فوت ہوگئے تو رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے صحابہ کرام علیہم الرضوان کی موجودگی میں فرمایا :”کیا تمہیں معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے جنت میں داخل کردیا ہے ۔” اس پر لوگ متعجب ہوئے کیونکہ بظاہر ان کا کوئی بڑا عمل نہ تھا ۔ چنانچہ ایک صحابی رضی اللہ عنہ ان کے گھر گئے اور ان کی بیوہ رضی اللہ عنہاسے پوچھا کہ ان کا کوئی خاص عمل ہمیں بتائيے۔ انہوں نے جواب دیا :”اور تو کوئی خاص بڑا عمل مجھے معلوم نہیں ، صرف اتنا جانتی ہوں کہ دن ہویا رات ، جب بھی وہ اذان سنتے تو جواب ضرور دیتے تھے۔ ”(ملخص من ابن عساکر ،ج۴۰،ص۴۱۲)
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی زبان اذان واقامت کا جواب دینے میں استعمال کرنے

کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ عليہ وسلم

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!