Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

(۲۵) درود شریف

درود شریف پڑھنابھی جنت میں لے جانے والاعملِ خیرہے اوردرودشریف کے برکات و فضائل کے بارے میں بکثرت احادیث موجود ہیں۔ اس میں سے چند حدیثیں ہم تبرکاًذکر کرتے ہیں:
حدیث:۱
عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَوْلَی النَّاسِ بِیْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ اَکْثَرُھُمْ عَلَیَّ صَلٰوۃً۔رواہ الترمذی(1)  (مشکوٰۃ،ج۱،ص۸۶)
    حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ تمام لوگوں میں مجھ سے سب سے زیادہ قریب قیامت کے دن وہ شخص ہوگا جو سب سے زیادہ مجھ پر درود شریف پڑھتا ہوگا۔(ترمذی)
حدیث:۲
    عَنْ اَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ صَلَّی عَلَیَّ صَلاَۃً وَّاحِدَۃً صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ عَشَرَ صَلَوَاتٍ وَحُطَّتْ عَنْہُ عَشَرُ خَطِیَّاتٍ وَرُفِعَتْ لَہٗ عَشَرُ دَرَجَاتٍ۔(2)
 (مشکوٰۃ،ج۱ص۸۶)
    حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایاہے کہ جو مجھ پر ایک مرتبہ درود شریف پڑھتاہے اللہ تعالیٰ اس پر دس درودیں بھیجتاہے اوراس کے دس گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں اوراس کے لیے دس درجے بلند کردیئے جاتے ہیں۔(نسائی)
حدیث:۳
    عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ اَحَدٍ یُسَلِّمُ عَلَیَّ اِلَّا رَدَّ اللہُ عَلَیَّ رُوْحِیْ حَتّٰی اَرُدَّ عَلَیْہِ السَّلَامَ۔رواہ ابوداود(3)
                      (مشکوٰۃ،ج۱،ص۸۶)
    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایاہے کہ جو شخص بھی مجھ پرسلام عرض کرتاہے تواللہ تعالیٰ میری روح کومجھ پرلوٹا دیتا ہے یہاں تک کہ میں اس کے سلام کا جو اب دیتا ہوں۔(ابو داود)
حدیث:۴
    عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَغِمَ اَنْفُ رَجُلٍ ذُکِرْتُ عِنْدَہٗ فَلَمْ یُصَلِّ عَلَیَّ وَرَغِمَ اَنْفُ رَجُلٍ دَخَلَ عَلَیْہِ رَمَضَانُ ثُمَّ انْسَلَخَ قَبْلَ اَنْ یُّغْفَرَ لَہٗ وَ رَغِمَ اَنْفُ رَجُلٍ اَدْرَکَ عِنْدَہٗ اَبَوَاہُ الْکِبَرَ اَوْاَحَدُہُمَا فَلَمْ یُدْخِلاَہُ الْجَنَّۃَ۔رواہ الترمذی(1)  (مشکوٰۃ،ج۱،ص۸۶)
    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا کہ اس شخص کی ناک مٹی میں مل جائے کہ جس کے پاس میراذکرکیاگیاتواس نے میرے اوپردرودنہیں پڑھااوراس مردکی ناک مِٹی میں مل جائے کہ اس پررمضان کامہینہ داخل ہواپھراس کی مغفرت ہونے سے قبل ہی رمضان گزر گیااور اس آدمی کی ناک مِٹی میں مل جائے کہ جس کے پاس اس کے والدین نے بڑھاپے کو پالیا اور اس کے والدین نے اس کو جنت میں نہیں داخل کیا۔(ترمذی)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

حدیث:۵
    عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ اِنَّ الدُّعَاءَ مَوْقُوْفٌ بَیْنَ السَّمَاءِ وَالْاَرْضِ لَا یَصْعَدُ مِنْھَا شَیْءٌ حَتّٰی تُصَلِّیَ عَلٰی نَبِیِّکَ۔رواہ الترمذی(2)
                      (مشکوٰۃ،ج۱،ص۸۷)
    حضرت عمربن الخطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے،انہوں نے کہاکہ دعا آسمان وزمین کے درمیان ٹھہری رہتی ہے دعاؤں میں سے کوئی دعابھی اوپرنہیں چڑھتی یہاں تک کہ تو اپنے نبی پر درود شریف پڑھ لے۔(ترمذی)
حدیث:۶
    عَنْ اَبِیْ الدَّرْدَاءِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَکْثِرُوا الصَّلٰوۃَ عَلَیَّ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ فَاِنَّہٗ مَشْھُوْدٌ یَشْھَدُہُ الْمَلٰئِکَۃُ وَاِنَّ اَحَدًا لَمْ یُّصَلِّ عَلَیَّ اِلَّا عُرِضَتْ عَلَیَّ صَلٰوتُہٗ حَتّٰی یَفْرُغَ مِنْھَا قَالَ قُلْتُ وَبَعْدَ الْمَوْتِ قَالَ اِنَّ اللہَ حَرَّمَ عَلَی الْاَرْضِ اَنْ تَأْکُلَ اَجْسَادَ الْأَنْبِیَاءِ فَنَبِیُّ اللہِ حَیٌّ یُّرْزَقُ۔ رواہ ابن ماجہ(1)
                      (مشکوٰۃ،ج۱،ص۱۲۱)
    حضرت ابوالدرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ تم لوگ جمعہ کے دن مجھ پربکثرت درودشریف پڑھو۔ کیونکہ جمعہ کادن فرشتوں کی حاضری کا دن ہے کہ اس دن میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور جو کوئی بھی مجھ پر درود شریف پڑھتا ہے اس کا درود میرے سامنے پیش کیا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ درود پڑھنے سے فارغ ہوجائے ۔ابوالدرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا کہ کیا آپ کی وفات کے بعد بھی؟ تو آپ نے فرمایا کہ بے شک اللہ عزوجل نے زمین پر حرام فرمادیا ہے کہ وہ انبیاء علیہم السلام کے بدنوں کو کھائے۔ اس لیے اللہ عزوجل کا نبی زندہ ہے اور اس کو روزی ملتی ہے۔(ابن ماجہ)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

تشریحات و فوائد

 (۱)اس عنوان کی حدیث نمبر ۱کامطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن سب سے زیادہ میرے قریب وہ شخص رہے گاجودنیامیں سب سے زیادہ درودشریف پڑھتارہاہوگا۔
    حضور رحمت عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم قیامت کے دن کبھی مقام محمود یعنی شفاعت کبریٰ کے مقام میں ہوں گے، کبھی حوض کوثر کے پاس رہیں گے، پھر آخر میں فردوس اعلیٰ کی اُس منزل اعلیٰ میں تشریف فرماہوں گے جو رب العالمین نے خاص طور پر اپنے محبوب صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے لیے تیار کررکھا ہے، بہرحال حدیث کا حاصل یہ ہے کہ حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم قیامت کے دن جہاں بھی اور جس مقام پر بھی ہوں گے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم سے سب سے زیادہ قُرب اس خوش نصیب کو حاصل رہے گا جو دنیا میں سب سے زیادہ درود شریف پڑھتا رہا ہوگا۔
درودشریف کی کثرت کے بارے میں ترمذی شریف کی ایک حدیث بہت زیادہ رقت خیز وعبرت انگیز ہے۔
حدیث:
     حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے عرض کیا کہ یارسول اللہ !صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم میں بہت زیادہ آپ پر درود پڑھا کرتا ہوں تو آپ بتادیجئے کہ دن رات کا کتنا حصہ میں درود خوانی کے لیے مقرر کردوں؟ تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا کہ جس قدر تم چاہو مقرر کرلو ۔تو میں نے کہا کہ دن رات کا چوتھائی حصہ میں درود خوانی کے لیے مقرر کرلوں؟ توحضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا کہ جس قدر چاہو مقرر کرلو اگر تم چوتھائی سے زیادہ مقرر کرلو گے تو تمہارے لیے بہترہی ہوگا۔ توحضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا کہ میں دن رات کا نصف حصہ درود خوانی کے لیے مقرر کرلوں؟تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا کہ جس قدر تم چاہو مقرر کرلو اور اگر تم اس سے زیادہ وقت مقرر کرلو گے تو تمہارے لیے بہتر ہی ہوگا۔ توحضرت ابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ دن رات کا دو تہائی مقرر کرلوں؟تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایاکہ تم جتنا چاہو وقت مقررکرلو اور اگر تم اس سے زیادہ وقت مقرر کرلو گے تو تمہارے لیے بہتر ہی ہوگا۔ تو حضرت ابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ میں دن رات کا کل حصہ درود خوانی ہی میں خرچ کروں گا۔ تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا کہ اگر ایسا کرو گے تو درود شریف تمہاری تمام فکروں اور غموں کو دور کرنے کے لیے کافی ہو جائے گااور تمہارے تمام گناہوں کے لیے کفارہ ہوجائے گا۔(1)(مشکوٰۃ،ج۱،ص۸۶)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(۲)حدیث نمبر۳ کامطلب ہے کہ جب میرا کوئی اُمتی مجھ پر سلام عرض کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ میری روح کو اُس سلام کرنے والے کی طرف متوجہ فرمادیتا ہے اور میں اس کے سلام کے جواب دیتا ہوں۔روح کو لوٹانے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ کی روح جو آپ کے بدن سے جدا ہوچکی ہے وہ دوبارہ آپ کے بدن میں داخل کی جاتی ہے۔ بلکہ روح کو لوٹانے کا مطلب یہ ہے کہ آپ کی روح رب العزۃجل جلالہ کے مشاہدہ میں ہر دم مستغرق رہتی ہے۔ مگر جب کوئی امتی سلام کرتا ہے تو اللہ تعالی آپ کی روح کو عالم استغراق سے سلام کرنے والے کی طرف متوجہ فرمادیتا ہے اور آپ متوجہ ہو کر اس کے سلام کا جواب عطا فرماتے ہیں۔چنانچہ حضرت شیخ محقق علامہ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمۃ نے فرمایاکہ

    لَیْسَ الْمُرَادُ بِعَوْدِ الرُّوْحِ عَوْدُھَا بَعْدَ الْمُفَارَقَۃِ عَنِ الْبَدْنِ وَاِنَّمَا الْمُرَادُ اَنَّہٗ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی الْبَرْزَخِ مَشْغُوْلٌ حَوْلَ الْمَلَکُوْتِ فِی مُشَاہَدَۃِ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَزَّوَجَلَّ کَمَا کَانَ فِی الدُّنْیَا فِیْ حَالَۃِ الْوَحْیِ وَفِی الْاَحْوَالِ الْاُخْرِ فَعُبِّرَعَنْ اِفَاقَتِہٖ مِنْ تِلْکَ الْمُشَاھَدَۃِ وَ ذٰلِکَ الْاِسْتِغْرَاقِ بِرَدِّالرُّوْحِ (1)
                        (لمعات شرح مشکوٰۃ)
    روح کے لوٹنے سے یہ مراد نہیں ہے کہ بدن سے جدا ہونے کے بعد پھر روح بدن میں آئی بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم عالمِ برزخ میں ملکوت کے ماحول میں رب العزۃ عزوجل کے مشاہدہ میں مشغول ہیں جیسا کہ دنیا میں نزول وحی اور دوسرے خاص احوال میں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم اس قدر مشغول و مستغرق ہو جایا کرتے تھے کہ آپ کی توجہ دوسری چیزوں کی طرف نہیں ہوا کرتی تھی تو اس مشاہدہ واستغراق سے افاقہ ہونے اور آپ کی توجہ دوسری طرف مبذول و متوجہ ہونے کو روح لوٹانے کے لفظ سے بیان کردیا گیا ہے۔(لمعات، مصنفہ حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی علیہ الرحمۃ)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(۳) حدیث نمبر ۴ کا یہ مطلب ہے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے تین شخصیتوں کے لیے یہ دعا فرمائی کہ ”ان کی ناک مٹی میں مل جائے۔” ناک مٹی میں مل جائے اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ ذلیل و خوار اور ناکام و نامراد ہوجائیں۔ عرب کے لوگ جب کسی آدمی کو انتہائی ذلیل کرتے تھے تو اس کو مجبور کرتے تھے کہ وہ اپنی ناک کوزمین پر رگڑ کر اُس کو خاک آلود کرے۔ یہیں سے”رَغِمَ اَنْفُہ، ”کا محاورہ چل پڑا کہ جب کسی کو انتہائی ذلیل کردیا جاتا ہے تو یہ کہا جاتا ہے:”رَغِمَ اَنْفُہ،” یعنی اس کی ناک مٹی میں مل گئی ۔فرمان حدیث کا حاصل یہ ہے کہ تین شخصوں کے لیے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے ذلیل و خوار ہونے کی دعا فرمائی ہے۔
(۱) جس کے سامنے حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کاذکرہو اور وہ درود شریف نہ پڑھے۔
(۲)جس نے رمضان کا مہینہ پایا اور رمضان میں عبادت کرکے اپنے کو مغفرت کے لائق نہ بنایا۔
(۳) وہ شخص کہ جس کے والدین بڑھاپے کی حالت میں اُس کے پاس رہے اور اس نے والدین کی خدمت کرکے اپنے کو جنت کا اہل نہ بنایا۔
    اللہ اکبر!ان تینوں کی منحوسیت میں کیا شبہ کیا جاسکتا ہے؟ جبکہ رحمت عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم ان تینوں سے اِس قدر خفا ہیں کہ ان لوگوں کی ذلت و خواری کی دعا فرمارہے ہیں۔  (معاذ اللہ تعالیٰ)
 (۴) حدیث نمبر ۵ کا مضمون بالکل ظاہر ہے کہ کوئی دعا دربارِ الٰہی میں پہنچتی ہی نہیں بلکہ زمین و آسمان کے درمیان معلق ہی رہتی ہے جب تک درود شریف نہ پڑھا جائے اس لیے مستحب ہے کہ ہر دعا کے اول وآخر میں درود شریف پڑھ لیا جائے جیسا کہ اہلِ سنت وجماعت کا طریقہ ہے۔
(۵)حدیث نمبر ۶سے ثابت ہوگیاکہ حضرات انبیاء علیہم الصلاۃوالسلام بالخصوص حضرت سیدالانبیاء صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم اپنی اپنی قبروں میں لوازمِ حیات جسمانی کے ساتھ زندہ ہیں اور ہر گز ہرگز ان کے جسموں کو مِٹی نہیں کھاسکتی کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے زمین پر حرام ٹھہرادیا ہے کہ وہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے جسموں کو کھاسکے۔


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    اس حدیث کا آخری فقرہ کہ ” فَنَبِیُّ اللہِ حَیٌّ یُّرْزَقُ” یعنی اللہ عزوجل کے نبی زندہ ہیں اور انہیں روزی دی جاتی ہے۔اس کا کیا مطلب ہے؟ تو اس بارے میں صاحبِ مرقاۃ کا بیان ہے کہ

    یُرْزَقُ اَیْ رِزْقًا مَعْنَوِیًّا فَاِنَّ اللہَ تَعَالٰی قَالَ فِیْ حَقِّ الشُّھَدَاءِ مِنْ اُمَّتِہٖ بَلْ اَحْیَآءٌ عِنْدَ رَبِّھِمْ یُرْزَقُوْنَ (1)فَکَیْفَ سَیِّدُھُمْ بَلْ رَئِیْسُھُمْ وَلَا یُنَافِیْہِ اَنْ یَکُوْنَ ھُنَاکَ رِزْقٌ حِسِّیٌّ اَیْضًا وَھُوَالظَّاھِرُ الْمَتَبَادِرُ(2)(مرقاۃ ملخصًا)
یعنی انہیں رزقِ معنوی دیا جاتا ہے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی امت کے شہیدوں کے بارے میں فرمایا کہ ” بلکہ وہ زندہ ہیں اور روزی دیئے جاتے ہیں۔” تو پھر کیا حال ہوگا ان شہیدوں کے سردارکابلکہ رئیس کا اور یہ جو ہم نے لکھ دیا ہے کہ رزق معنوی دیاجاتا ہے تو یہ اسکے منافی نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں رزق حسی بھی عطا فرمائے اور یہاں یہی رزق حسی مراد لینا ظاہر ہے جو جلد ذہنوں میں آجاتا ہے۔ (یعنی ظاہری طور پر کھانا پینا)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    بہرحال درود شریف کی کثرت اعمال جنت میں سے ایک بہت ہی امید افزا عمل ہے لہٰذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ درود شریف کا وظیفہ ضرور پڑھتا رہے تاکہ قیامت کے دن حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کا قرب نصیب ہو جو دونوں جہان کی نعمتوں میں سب سے زیادہ عظیم نعمت اوردارین کی دولتوں میں سب سے بڑھ کرانمول دولت ہے۔
           اَللّٰہُمَّ صَلِّ وَسَلِّمْ وَبَارِکْ عَلٰی سَیِّدِنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہٖ وَصَحْبِہٖ اَجْمَعِیْنَ۔
error: Content is protected !!