Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

رَسْموں میں پیسوں کالین دین کیسا؟

رَسْموں میں پیسوں کالین دین کیسا؟

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!یاد رکھئے!جُوتا چُھپائی ، سُرمہ لگائی ، دُودھ پلائی  اور کار رُکوائی  وغیرہ رَسْموں میں ہنسی مذاق اور تفریح کے نام پر جہاں ایک دوسرے کی دل آزاری کی جاتی ہے ، ایک دوسرے کی عزّت نیلام کی جاتی ہے ، مُروّت کو بالائے طاق رکھا جاتا ہے ، نئے رشتوں کی بُنیاد کھوکھلی کی جاتی ہے اور اسلامی تعلیمات کے خِلاف بہت سے نامناسب بلکہ ناجائز و حرام کام کئے جاتے ہیں وہیں اُن رسموں میں سے جس جس رَسْم میں پیسوں کا لین دین ہوتا ہے خواہ باقاعدہ مُطالَبہ کرکے پیسے لئے جائیں یا مُروّتاً دئیے جائیں ، پیسوں کا یہ لین دین بعض صورتیں میں رشوت کے حکم میں ہے  لہذا اس قسم کی لین دین میں انتہائی احتیاط کی حاجت ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم جانے انجانے میں رشوت جیسے حرام اور جہنم میں لے جانے والے کام کے مرتکب ٹھہریں ۔ آئیے رُسومات میں پیسوں کے لین دین کے بارے میں دارُ الافتاء اہلسنت کا ایک اہم فتوی مُلاحظہ کیجئے :
error: Content is protected !!