Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

جس کے مکان میں باغ ہو!

جس کے مکان میں نصاب کی قیمت کا باغ ہو اور باغ کے اندر ضروریات مکان باورچی خانہ، غسل خانہ وغیرہ نہیں تو اسے زکوٰۃ لینا جائز نہیں۔
 (الفتاوی الھنديۃ، کتاب الزکاۃ، الباب السابع في المصارف، ج۱، ص۱۸۹)
کیا مالدار کے لئے صدقہ لینا جائز ہے ؟
    صدقہ2قسم کا ہوتا ہے ،صدقہ واجبہ اور نافلہ ۔ صدقہ واجبہ مالدار کو لینا حرام اور اس کو دینا بھی حرام ہے اور اس کو دینے سے زکوٰۃ بھی ادا نہ ہوگی ۔ رہاصدقہ نافلہ تو اس کے لئے مالدار کو مانگ کر لینا حرام اور بغیر مانگے ملے تو مناسب نہیں جبکہ دینے والا مالدار جان کر دے اور اگر محتاج سمجھ کر دے تو لینا حرام اور اگر لینے کے لئے اپنے آپ کو محتاج ظاہر کیا تو دوسراحرام ۔ ہاں وہ صدقاتِ نافلہ کہ عام مخلوق کے لئے ہوتے ہیں اور ان کو لینے میں کوئی ذِلت نہ ہو تو وہ غنی کو لینا بھی جائز ہے جیسے ،سبیل کا پانی ، نیاز کی شیرینی وغیرہ ۔(فتاویٰ رضویہ مُخَرَّجہ ،ج۱۰، ص۲۶۱)
غیر مستحق نے زکوٰۃ لے لی تو؟
    غیر مستحق نے زکوٰۃ لے لی ، بعد میں پشیمانی ہوئی تواگر دینے والے نے غوروفکر کے بعد زکوٰۃ دی تھی اور اُسے اس کے مستحق نہ ہونے کا معلوم نہیں تھا تو زکوٰۃ بہرحال ادا ہوگئی لیکن اس کو لینا حرام تھا کیونکہ یہ زکوٰۃ کا مستحق نہیں تھا۔ غیر مستحق مال پر حاصل ہونے والی ملکیت ”ملک ِ خبیث”کہلاتی ہے اور اس کا حکم یہ ہے کہ اُتنا مال صدقہ کر دیا جائے ۔
error: Content is protected !!