Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

روضئہ رسولﷺ

۞ اب سنت کے مطابق الٹا قدم مسجد سے باہر رکھتے ہوئے مسجد سے باہر آجائیے اور مسجد نبوی کے دروازے ’’باب البقیع‘‘ کے پاس آجائیے۔
۞ اب یہاں باادب ٹھہر کر نظریں جھکائے آہستہ آہستہ درود شریف کا نذرانہ پیش کرنے کے بعد سرکار دو عالمﷺ سے حاضری کی اجازت طلب کیجیے پھر دل کو مطمئن کر لیجیے کہ اجازت مل گئی اور سیدھا قدم مسجد میں رکھتے ہوئے مسجد میں داخل ہو جائیے۔
۞ اب ادب و شوق میں ڈوبے ہوئے، گردن جھکائے، آنکھیں نیچی کیے، اپنے گناہوں پر شرمندہ ہوتے، سرکارﷺ کی رحمت و فضل سے امید لگائے آہستہ آہستہ آگے بڑھیے۔
۞ اب سراپا ادب بنے سنہری جالیوں کے دروازہ مبارکہ میں لگی ہوئی چاندی کی کیلوں کے سامنے آجائیے جو دروازے میں جانب مشرق لگی ہوئی ہیں اور قبلہ کو پیٹھ کیے کم از کم چار ہاتھ (دو گز) دور نماز کی طرح ہاتھ باندھ کر سرکارﷺ کے چہرۂ انور کی طرف رخ کر کے کھڑے ہو جایئے۔
۞ جالی مبارکہ کو بوسہ دینے یا ہاتھ لگانے سے پرہیز کیجیے کہ یہ خلاف ادب ہے کیونکہ ہمارے ہاتھ اس قابل نہیں ہیں کہ جالی مبارکہ کو چھو سکیں کیا یہ کم شرف ہے کہ سرکارﷺ نے آپ کو اپنے مواجہہ اقدس کے قریب بلایا اور سرکارﷺ کی نگاہ کرم اب خصوصیت کے ساتھ آپ پر ہے۔
۞ اب دل کو ہر قسم کے خیال غیر سے پاک کر کے مکمل توجہ کے ساتھ اپنے محسن و کریم آقاﷺ کی بارگاہ بے کس پناہ میں درمیانی آواز سے اس یقین و اطمینان کے ساتھ سلام عرض کیجیے کہ میرے آقا عین حیات ظاہری کے ساتھ مجھے ملاحظہ فرما رہے ہیں بلکہ میرے دل میں آنے والے خیالات سے بھی آگاہ ہیں۔ یاد رکھیے یہاں آواز قطعاً بلند نہ ہونے پائے نہ بالکل پست کہ یہ بھی سنت کے خلاف ہے معتدل اور درد بھری آواز میں یوں سلام عرض کیجیے۔
error: Content is protected !!