Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

دوسری حدیثِ پاک

 امام نسائی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ(303-215ھ) فرماتے ہیں: سلمان بن سلم مصاحفی بلخی ، نضر بن شمیل سے ، وہ حماد سے ، وہ یوسف بن سعد سے اور وہ حضرت سيدناحارث بن حاطب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روا یت کرتے ہیں کہ بارگاہِ رسالت علی صاحبہاالصلوۃ والسلام میں ایک چورلایاگیاتو امام المُرْسَلِیْن صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اسے قتل کردو۔”صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کی: ”يارسولَ اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم!اس نے تو فقط چوری کی ہے ۔”سرکارِ دو عالم ، نورِ مجسَّم، شاہِ بنی آدم صلي اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے پھرارشاد فرمایا:”اسے قتل کر دو۔”صحابہ کرام علیہم الرضوان نے پھر عرض کی: ”یارسولَ اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم! اس نے فقط چوری کی ہے ۔”تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:” اس کا ہاتھ کاٹ دو ۔”
    راوی فرماتے ہیں کہ اس نے دوسری مرتبہ پھر چوری کی تو اس کا پاؤں کاٹ دیا گیا ۔ پھراس نے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں تیسری بار چوری کی یہا ں تک کہ(باربارچوری کے سبب) اس کے تمام اعضاء کا ٹ دیئے گئے۔ اور جب اس نے پانچویں مرتبہ چوری کی تو حضرت سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا:” اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ ٌعَنِ الْعُیوب عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ا س کے معاملے میں سب سے زیادہ جاننے والے تھے اسی لئے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشادفرمایا تھا کہ اسے قتل کردو۔”
    چنانچہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسے قریش کے جوانوں کی طر ف بھیج دیاتا کہ وہ اسے قتل کردیں، ان میں حضرت سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی تھے جواُس گروہ قریش پرامیر بنناچاہتے تھے توانہوں نے قریش سے فرمایا:”مجھے اپنے اُوپر امیربنالو۔”توگروہ قریش نے انہیں اپنا امیر بنالیاچنانچہ جب آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسے مارا تو وہ نوجوان بھی اسے مارنے لگے یہاں تک کہ انہوں نے اس شخص کو قتل کردیا۔
(سنن النسائی،کتاب قطع السارق،باب قطع الرجل من السارق۔۔۔۔۔۔الخ،ج۸،ص۹۰)
    امام حاکم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ۱؎ اسے مستدرک ۲؎میں نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں: مجھے ابوبکر محمد بن احمد بن بالویہ ، ان کو اسحاق بن حسن بن حربی ، ان کو عفان بن مسلم ، ان کو حماد بن سلمہ نے اور ان کو یوسف بن سعد نے یہ حدیث بیان کی۔ اورامام حاکم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:” یہ حدیث صحیح ہے۔”
    یوسف بن سعد جمحی کے علاوہ اس کے تمام راوی صحیح حدیث کے معیار کے ہیں اور یوسف بھی ثقہ ہے جیساکہ علامہ ذہبی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ۳ ؎ (748-673ھ)نے ”الکاشف۴ ؎” میں ذکر فرمایا۔
 اورامام طبرانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ۱ ؎ (360-260ھ) نے اس حدیثِ پاک کو ایک سندسے حماد بن سلمہ سے روایت کیا اور دوسری سندسے خالدحذاء سے اورا نہوں نے یوسف سے روایت کیا۔امام ابو یعلی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ۲ ؎ (307-210ھ) اور ھَیثم بن کُلیب الشاشی نے اسے اپنی اپنی مسند میں روایت کیا اور علامہ مقدّسی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ۳ ؎ (643-569ھ)نے اسے ” المختارۃ۴ ؎” میں روایت کرکے صحیح قراردیااوریہ حدیثِ پاک حقیقت وباطن کے مطابق فیصلہ فرمانے سے متعلق ہے۔
    اوراس سے اتفاق کرتے ہوئے علامہ خطابی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ ۵؎ (388-319ھ)نے نقل فرمايا:”چور کو کسی حال میں قتل نہیں کیاجاسکتا۔اورحضورنبئ پاک،صاحبِ لولاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا اس چورکے بارے ميں قتل کا فیصلہ فرمانا اس بات پر دلالت کرتاہے کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم شریعت کے ظاہراور حقیقت وباطن کے مطابق فیصلہ کرنے میں مختارہیں پس آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے پہلے بتقاضائے حقیقت اس کے قتل کا حکم فرمایاتوصحابہ کرام علیہم الرضوان نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے(ظاہری حکم کے مطابق حدلگانے کے بارے ميں ) عرض کی توآپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے دوبارہ اس کے قتل کا حکم فرمایا ،صحابہ کرام علیہم الرضوان نے پھروہی عرض کی ، پس آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے شریعت کے ظاہری حکم کے مطابق ہاتھ کاٹنے کا حکم فرمادیا پھرجب اس چور نے(نبئ پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے وصالِ ظاہری کے بعد) پانچویں مرتبہ چوری کی توامیرالمؤمنین حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کے متعلق حضورنبئ مکرم،شفیعِ معظم صلي اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا فیصلہ نافذفرمادیاجیساکہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس حکم کی نسبت آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی طرف فرمائی۔”
 اگر کوئی جاہل یہ گمان کرنے لگے کہ امیرالمؤمنین حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اِسے اپنے اجتہاد(يعنی رائے )سے قتل کیا تھا تو اس سے بڑھ کر اور کوئی جہالت نہیں ہوسکتی۔کیونکہ اس کے اس وہم وگمان کو دو اُمور رَد کرتے ہیں۔
 (۱)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی طرف نسبت کر کے تصریح فرماناکہ” آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اسے قتل کرنے کاحکم فرمایا تھا یہ صريح حکم ہے توپھراجتہادکیسا؟(یعنی یہ اپنی رائے واجتہادسے قتل کرنانہیں تھا)
 (۲)۔۔۔۔۔۔ علامہ خطابی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ فقہاء میں سے کسی نے یہ مؤقِف
اختيارنہیں کیاکہ چور کو قتل کیاجائے گا،یہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ امیرالمؤمنین حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اجتہاد کے ذریعے ایسانہیں کیاتھا بلکہ اس نص کے مطابق فیصلہ فرمایا تھا جو اس شخص کے ساتھ خاص تھی۔
۱ ؎ الحافظ، المحدث ، ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ بن محمد بن حمد ویہ الطمھانی ، النیشاپور ی ، الشافعی الشہیر بالحاکم ، المعروف بابن البیع (405-321ھ) آپ3ربیع الاول نیشا پور میں پیدا ہوئے اور 8صفرالمظفرنیشاپور ہی میں وفات پائی ،علم فقہ آپ نے ابن ابی ہریرہ اور ابی سھل الصعلو کی وغیرہ ہم سے سیکھا ،آپ کی چند مشہور کتب یہ ہیں : المستدرک علی الصحیحین ، تراجم شیوخ ، فضائل فاطمۃ الزھراء ، معرفۃ علوم الحدیث وغیرہ ۔
(معجم المؤلفین،ج۳،ص۴۵۳،الاعلام للزرکلی،ج۶،ص۲۲۷)
۲ ؎ مستدرک علی الصحیحین فی الحدیث للشیخ الامام ابی عبداللہ محمد بن عبداللہ المعروف بالحاکم النیشاپوری ۔
(کشف الظنون،ج۲،ص۳۲۶)
۳ ؎ الحافظ ، المحدث،المحقق شمس الدین ابو عبداللہ محمد بن احمد بن عثمان الترکمانی ، الدمشقی ، الذہبی ، الشافعی ، آپ ربیع الاول کے مہینے دمشق میں پیدا ہوئے اور 3ذی القعدہ دمشق ہی میں وفات ہوئی آپ کی چند مشہور کتب یہ ہیں: تاریخ الاسلام ، الکبیر ، میزان الاعتدال فی نقد الرجال ، سیر النبلاء ، الکاشف وغیرہ۔
(معجم المؤلفین،ج۳،ص۸۰،الاعلام للزرکلی،ج۵،ص۳۲۶)
۴ ؎ فی اسماء الرجال للشیخ شمس الدین ابی عبداللہ محمد بن عبداللہ المعروف بالحاکم۔ 
(کشف الظنون،ج۲،ص۱۳۶۸)
 ۱؎ الحافظ ، المحدث ابو القاسم سلیمان بن احمد بن ایوب بن مطیر اللخمی ، الطبرانی ، الشامی آپ ماہ صفر میں مقام عکا میں پیدا ہوئے ،آپ نے کثیر کتب تصانیف فرمائیں،چند یہ ہیں : معجم الکبیر والاوسط ، والصغیر، دلائل النبوۃ ، تفسیر کبیر ، مختصر مکارم الاخلاق وغیرہ ۔     (معجم المؤلفین،ج۱،ص۷۸۳،الاعلام للزرکلی،ج۳،ص۱۲۱)
۲ ؎ الامام الھمام ، الحافظ ، المحدث احمد بن علی بن المثنی بن یحیی التمیمی الموصلی المعروف ابی یعلٰی آپ شوال المکرم کی 3تاریخ کوپیدا ہوئے ، موصل میں آپ نے وفات پائی ، آپ کی چند مشہور کتب یہ ہیں: مسند کبیر وصغیر ، المعجم فی الحدیث وغیرہ۔    (معجم المؤلفین،ج۱،ص۲۰۸،الاعلام للزرکلی،ج۱،ص۱۷۱)
۳ ؎ الامام ، الحافظ ، المحدث ابو عبداللہ ضیاء الدین محمد بن عبدالواحد بن احمد بن عبدالرحمن ، السعد ی ، المقد سی الصالحی الحنبلی آپ 5جمادی الآخر دمشق میں پیدا ہوئے آپ کا وصال 18جمادی الآخر میں ہوا، مقام سفح میں دفن کئے گئے آپ کی چند مشہور کتب یہ ہیں: الاحادیث المختارۃ، مناقب اصحاب حدیث ، مناقب جعفر بن ابی طالب ، فضائل القرآن ۔     (معجم المؤلفین،ج۳،ص۴۶۸،الاعلام للزرکلی،ج۶،ص۲۵۵)
۴ ؎ فی الحدیث للحافظ ضیاء الدین محمد بن عبدالواحد المقدسی الحنبلی ۔    (کشف الظنون،ج۲،ص۱۶۲۴) 
۵ ؎ الامام ، المحدث ، الفقیہہ ، الادیب ابو سلیمان احمد بن محمد بن ابراھیم بن الخطاب الخطابی ، البستی ،آپ حضرت عمر بن خطاب کے بھائی زید بن خطاب کی اولاد میں سے ہیں، آپ کی پیدائش ووفات مقام بست میں ہوئی ، آپ کی چند مشہور کتب یہ ہیں: معالم السنن فی شرح کتاب السنن لابی داؤد ، غریب الحدیث ، شرح البخاری، اعلام الحدیث وغیرہ ۔    (معجم المؤلفین،ج۱،ص۲۳۸)
error: Content is protected !!