Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.
islam

پانچویں حدیثِ پاک

    سیدناامام احمدبن حنبل رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ(241-164ھ)اپنی”مُسْنَد۱؎”میں فرماتے ہیں :”رَوْح،عثمان الشحام سے،وہ مسلم بن ابو بکرہ سے اور وہ اپنے والد حضرت سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضورنبئ پاک،صاحبِ لَوْلاک، سیّاحِ اَفلاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نماز کی طرف جاتے وقت ایک شخص کے قریب سے گزرے جوسجدہ میں تھا۔آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے نماز ادافرمائی اورواپس تشریف لائے تووہ شخص ابھی تک سجدہ میں ہی تھا۔آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم وہاں ٹھہرگئے اور ارشاد فرمایا:”اسے کون قتل کریگا؟”ایک شخص کھڑا ہوا اس نے اپنی آستینیں چڑھائیں، تلوار سونتی اور اسے لہرایاپھرعرض کرنے لگا :”یارسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم!میرے ماں باپ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم پر قربان!میں سجدہ کرنے والے ایسے شخص کوکیسے قتل کرو ں جو یہ گواہی دیتا ہے کہ اللہ عزوجل کے سوا کوئی معبود نہیں اور( حضرت )محمدصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اس کے خاص بندے اوررسول ہیں؟”
    حضور نبئ کریم،رء وف رحیم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے دوبارہ ارشاد فرمایا: ”اس شخص کو کون قتل کرے گا؟”ایک دوسرے شخص نے کہا:”مَیں قتل کروں گا۔”اس نے بھی اپنی آستینیں چڑھائیں ، تلوار سونتی ، اسے لہرایا مگر اس کے ہاتھ کانپنے لگے،عرض کرنے لگا:”یارسولَ اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم !میں سجدہ کرنے والے ایسے شخص کو کیسے قتل کردو ں جو یہ گواہی دیتا ہے کہ اللہ عزوجل کے سوا کوئی معبود نہیں اور(حضرت)محمدصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اس کے خاص بندے اور رسول ہیں؟”
    سرکارِ مدینہ،راحتِ قلب و سینہ،باعث نزولِ سکینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشادفرمایا:”اس ذات کی قسم جس کے قبضہ ـ  قدرت میں میری جان ہے!اگرتم اسے قتل کردیتے تو وہ پہلا اور آخری فتنہ ہوتا۔”
(المسند للامام احمدبن حنبل،حدیث ابی بکرۃ،الحدیث:۲۰۴۵۳،ج۷،ص۳۱۷)
    یہ سندبھی امام مسلم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی شرط کے مطابق ہے ۔”رَوْح” صحیحین کے راویوں میں سے ہے اور عثمان الشحام اورمسلم بن ابوبکرہ دونوں مسلم شریف کے راویوں میں سے ہیں ۔گذشتہ روايت میں حضرت سیدناجابررضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روايت سے مغایرت (یعنی فرق)ہےشایدیہ کوئی اور واقعہ ہوجو کسی او رشخص کے ساتھ پیش آیا ہو پس حضرت سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روايت ان احادیث مبارکہ میں سے پانچویں حدیث ہے جن پر ہم نے اعتمادکیاہے۔
۱؎ مسند الامام احمد بن محمد بن حنبل مسند احمد ۳۰ ہزار احادیث اور ۱۴ جلدوں پر مشتمل ہے۔
(کشف الظنون،ج۲،ص۱۶۸۰)

Related Articles

Back to top button
error: Content is protected !!