Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

نفع ونقصان دینے والے حیوانات اور ان کے احکام

٭۔۔۔۔۔۔جوحيوان نقصان ديتے ہيں اور نفع نہيں ديتے جيسے سانپ، بچھو، چوہا، چيل، کاٹنے والا کتا ۱؎ ، کوا، بھيڑيا، شير، چيتا اور تمام (چيرنے پھاڑنے والے)درندے، ريچھ، گدھ، عقاب ، پسو، چھوٹی چيونٹی، چھپکلی، دھبوں والی چھپکلی، کھٹمل اوربھڑ وغيرہ۔يہ اور اس طرح کے جانوروں کو قتل کرنا سنت ہے اگرچہ حرم ميں احرام باندھا ہوا ہو۔
٭۔۔۔۔۔۔جو نفع بھی ديتے ہيں اور نقصان بھی جيسے تيندوا(چيتے کی طرح کا جانور)، شکرا اور باز۔ پس ان کے نفع کی وجہ سے انہيں قتل کرنا سنت نہيں اور ان کے نقصان کی وجہ سے انہيں قتل کرنا مکروہ نہيں۔
٭۔۔۔۔۔۔اور وہ جونہ تو نفع ديتے ہيں نہ نقصان جيسے بڑابھونرا(پتنگا)، کالے کيڑے، دس پيروں والا بحری جانور(کيکڑا)،سفيد سراور بقيہ کالے جسم والا گھوڑا۔ہاں وہ کتاجو نہ نفع ديتا ہے نہ نقصان، اس کے قتل کے جائز ہونے ميں اختلاف ہے اور زيادہ قابلِ اعتماد بات يہ ہے کہ يہ حرام نہيں اور اس کے اور مذکورہ حیوانات کے درميان فرق کيا جائے گا کيونکہ وہ حشرات کے ضمن ميں آتے ہيں، پس ان ميں اس قدر معاف ہے جو دوسروں ميں نہيں اور بڑی چيونٹی کو قتل کرنا حرام ہے حالانکہ اس ميں نہ نفع ہے نہ نقصان۔اسی طرح شہد کی مکھی، ابابيل کی طرح کا ايک پرندہ، لٹورا(کيڑوں کو کھانے والا اور چڑيا کا شکارکرنے والاپرندہ)، مينڈک اور وہ کتا جو شکار یا حفاظت کے لئے ہو اگرچہ کالاہی ہووغيرہ۔ان سب کو قتل کرنا حرام ہے۔


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

۱؎:حکیم الامت مفتی احمدیارخان نعیمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ شرح مشکوٰۃ میں نقل فرماتے ہیں:”اب حکم یہ ہے کہ بے ضررکتوں کے قتل کاحکم منسوخ ہے خواہ کالے ہوں یاکچھ اور،اورضرروالے خصوصاًدیوانے کتے کاقتل ضروری ہے اوربلاضرورت کتاپالنامنع ہے۔” (مرأۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ،ج۵، ص ۶۸)
error: Content is protected !!