Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

اپنے بچّوں کی شادی دینداروں میں کیجئے

اپنے بچّوں کی شادی دینداروں میں کیجئے

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!بچّوں کو پُرسُکون اِزْدِواجی زندگی مُہَیّا کرنے کیلئے جہاں اور بہت سی چیزوں کو پیشِ نظر رکھا جاتا ہے وہیں دین داروں میں رشتہ کرنے کو بھی ملحوظ رکھنا چاہئے بلکہ اسے مرکزی حیثیّت دینی چاہئے یعنی اگر لڑکی کا رشتہ کیا جائے تو بھی دیندار لڑکے سے اور اگر لڑکے کا رشتہ کیا جائے تو بھی دین دار لڑکی سے ہی کیا جائے۔ بدقسمتی سے آج کل لڑکی کی شادی کرنی ہو تو لڑکے کا اِنتخاب کرتے ہوئے دُنیا داری کا تو لحاظ رکھا جاتا ہے کہ لڑکا کتنا پڑھا ہوا ہے ، کیا کرتا ہے ، کتنا کماتا ہے وغیرہ وغیرہ مگر دینداری کی طرف کوئی توجّہ نہیں دی جاتی کہ آیا لڑکا صحیحُ العقیدہ ، نیک ، نمازی ، پرہیزگار اور سنَّتوں کا عادی بھی ہے یا نہیں ، اس کی آمدنی حلال ہے یا حرام ، بلکہ آج کل تو بہت سے لوگ اپنی بچیوں کی شادی کیلئے لڑکے کا اِنتخاب کرتے ہوئے صرف اور صرف مالداری ہی کو اہمیَّت دیتے ہیں کیونکہ ایسے لوگ مالدار گھرانے اور اچھا کمانے والے لڑکے کو اپنی بچّی کے بہتر مستقبل کا ضامن سمجھتے ہیں ، حالانکہ اسلامی نقطۂ نظر سے اِن چیزوں کے بجائے دینداری پیشِ نظر رکھنی چاہئے ، لڑکا دین دار ہونا چاہئے ، البتہ والدین اپنی بچّی کی شادی کیلئے نان نفقہ اور سُکنٰی وغیرہ حُقوقِ واجبہ کی ادائیگی پر قدرت رکھنے والے دیندارلڑکے کے اِنتخاب کو اوّلین ترجیح دیتے ہوئے ثانوی طور دیگر خُصُوصِیَّات کا بھی خیال رکھیں تو کوئی حرج نہیں ۔ یونہی لڑکے والوں کو چاہئے کہ لڑکی کا اِنتخاب کرنے میں اچھی صورت ، اونچا خاندان اور پیسے والے لوگ دیکھنے کے بجائے اچھی سیرت اور دین داری کو مرکزی   حیثیّت دیں کیونکہ حدیثِ پاک میں لڑکے یا لڑکی کے اِنتخاب میں دین داری ہی کا لحاظ رکھنے کی تاکید فرمائی گئی ہے۔
error: Content is protected !!