Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

قوتِ غضب میں افراط:

    اس قوت میں افراط یعنی اضافہ بھی نہایت مذموم ہے کیونکہ یہ قوت انسان پر غلبہ پاتی ہے تو وہ معقول و منقول ہر دو چیزوں کی سوجھ بوجھ سے عاری ہوجاتا ہے اور اس کے پاس کسی قسم کی دانش وفکر اور اختیار نہیں رہتا بلکہ وہ ایک مضطر(یعنی بے چین) اور مجبور قسم کا انسان بن جاتا ہے جس کا اِضطرار یا تو اس کی اپنی طبیعت کا نتیجہ ہوتا ہے یا پھر دوسروں کی وجہ سے وہ اضطرار کا شکار ہوتا ہے اور یا پھر یہ دونوں وجہیں ہو سکتی ہیں، وہ اس طرح کہ اس کی طبیعت اور فطرت ہی میں غضب وغصہ بھرا ہوا ہو، یا اس کا کسی ایسے شخص سے اختلاف ہوجائے جو اسے بڑا جانتا ہو اور اس کی شجاعت اورکمال کا معترف ہو یہاں تک کہ وہ اس شخص سے صرف اپنی تعریف ہی کی توقع کرتا ہو۔ جب کبھی آتشِ غضب شدید ہو کر بھڑک جائے تو وہ اس شخص کو جس کے اندر یہ آگ بھڑک رہی ہوتی ہے، ہر قسم کی نصیحت سننے، سمجھنے سے اسے اندھا اور بہرہ کر دیتی ہے بلکہ اس حالت میں اس کے نورِ عقل کے بجھ جانے اور ختم ہو جانے کی وجہ سے نصیحت اس کے اِشتعال میں مزید اضافہ کرتی ہے کیونکہ دماغ جو کہ فکر کاسرچشمہ ہے غصے کے بخارات اس تک پہنچ کر محسوس کرنے کے معادن کو ڈھانپ لیتے ہیں، جس سے اس کی بصارت(یعنی سمجھ بوجھ) تاریک ہوجاتی ہے یہاں تک کہ اسے سیاہی کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا، بلکہ بعض اوقات تو اس کی آتشِ غضب میں اتنا اضافہ ہو جاتا ہے کہ اس کے دل کی وہ رطوبت جس سے دل زندگی پاتا ہے، ختم ہوجاتی ہے تونتیجتًاوہ شخص غصے کی زیادتی کی وجہ سے مر جاتا ہے۔
error: Content is protected !!