Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

زمانہ کفر کی زکوٰۃ

    اگر پہلے کوئی کافر تھا پھر مسلمان ہواتو اس پر حا لتِ کفر کی زکوٰۃ کی ادائیگی فرض نہیں ہے کیونکہ زکوٰۃ مسلمان پر فرض ہوتی ہے کافر پر نہیں۔  (الفتاوی الھندیہ، کتاب الزکوٰۃ،ج۱،ص۱۷۱۔۱۷۵ )
نابالغ اور پاگل پر زکوٰۃ
نابالغ پر زکوٰۃ فرض نہیں ۔مجنون کی چند صورتیں ہیں :
    (۱) اگر جنون پورے سال کو گھیرلے تو زکوٰۃ واجب نہیں، اور
    (۲) اگر سال کے اوّل آخر میں افاقہ ہوتا ہے، اگرچہ باقی زمانہ جنون میں گزرتا ہے توزکوٰۃ واجب ہے۔ (ماخوذ از بہارشریعت ،ج۱،حصہ ۵،،ص۸۷۵)
مجنون کے سالِ زکوٰۃ کا آغاز
    جنون دوقسم کا ہوتا ہے :
(۱)جنونِ اصلی     (۲)جنونِ عارضی 
    (1) اگرجنون اصلی ہو یعنی جنون ہی کی حالت میں بالغ ہوا تو اس کا سال ہوش آنے سے شروع ہوگا۔ 
    (2)اور اگر عارضی ہے مگر پورے سال کو گھیر لیا تو جب افاقہ ہوگا اس وقت سے سال کی ابتدا ہوگی۔ (ماخوذ از بہارشریعت ،ج۱،حصہ ۵،،ص۸۷۵)
اَموالِ زکوٰۃ
زکوٰۃ تین قسم کے مال پر ہے۔ 
    (۱) سونا چاندی۔(کرنسی نوٹ بھی انہی کے حکم میں ہیں بشرطیکہ ان کارواج اور چلن ہو۔)
    (۲) مالِ تجارت۔ 
    (۳) سائمہ یعنی چرائی پر چُھوٹے جانور۔
 (الفتاوی الھندیۃ”، کتاب الزکاۃ، الباب الأول، ج۱، ۱۷۴. فتاویٰ رضویہ مُخَرَّجَہ، ج۱۰، ص۱۶۱،. بہارشریعت ،ج۱،حصہ۵،ص۸۸۲،مسئلہ ۳۳)
سونے چاندی کا نِصاب
    سونے کا نصاب بیس مثقال یعنی ساڑھے سات تولے ہے،جبکہ چاندی کا نصاب دو سودرہم یعنی ساڑھے باون تولے ہے۱؎ ۔(بہارشریعت،ج۱،حصہ ۵،ص۹۰۲ )
    اللہ عَزَّوَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ عَنِ الْعُیوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا :”جب تمہا رے پاس دوسو درہم ہو جا ئیں اور ان پر سال گزر جائے تو ان پر پا نچ درہم ہیں اور سونے میں تم پر کچھ نہیں ہے یہاں تک کہ بیس دینار ہو جا ئیں ۔جب تمہا رے پاس بیس دینا ر ہو جا ئیں اور ان پر سال گزر جا ئے تو ان پر نصف دینا ر زکوٰۃ ہے ۔”
 (سنن ابی داؤد ،کتاب الزکاۃ،باب فی زکاۃ السائمۃ،الحدیث۱۵۷۳،ج۲،ص۱۴۳)
کتنی زکوٰۃ دینا ہوگی؟
    نصاب کا چالیسواں حصہ (یعنی 2.5%) زکوٰۃ کے طور پر دینا ہوگا۔
 (فتاوٰی امجدیہ ،ج۱،ص ۳۷۸)
نصاب سے زائدکاحکم
     اگر کسی کے پاس تھوڑا سا مال نصاب سے زائد ہو تو دیکھا جائے گا کہ نصاب سے زائد مال نصاب کا پانچواں حصہ(خُمْس) بنتا ہے یا نہیں ؟
    ٭اگر بنتا ہو تو اس پانچویں حصے (خُمْس)کا بھی اڑھائی فیصد یعنی چالیسواں
حصہ زکوٰۃ میں دینا ہوگا ۔
    ٭اگرزائد مقدار پانچوں حصے (خُمْس)سے کم ہے تو وہ عَفْوہے اس پر زکوٰۃ نہیں ہوگی ۔
    مثلاً کسی کے پاس آٹھ تولے سونا ہے تو صرف ساڑھے سات تولے سونے کی زکوٰۃ دینا ہوگی کیونکہ زائد مقدار (یعنی آدھا تولہ)نصاب کے پانچویں حصے(یعنی ڈیڑھ تولہ) کونہیں پہنچتی ہے اور اگر کسی کے پاس9تولے سونا ہو تو وہ 9تولے کی زکوٰۃ دے گا ، کیونکہ یہ زائد مقدار(یعنی ڈیڑھ تولہ) سونے کے نصاب کا پانچواں حصہ بنتی ہے۔علی ھذاا لقیاس
 (ماخوذازفتاویٰ رضویہ مُخَرَّجَہ،ج۱۰، ص۸۵)
نصاب اور خُمس سے زائد پر زکوٰۃ
     جو نصاب اور خُمس سے زائد ہو مگر دوسرے خُمس سے کم ہو تو عَفْو ہے اس پر زکوٰۃ نہیں ۔مثلاً اگرکسی کے پاس10 تولے سونا ہوتو وہ صرف9 تولے کی زکوٰۃ دے گا ، دسواں تولہ معاف ہے۔اور اگر کسی کے پاس ساڑھے دس تولے سونا ہو تو وہ ساڑھے دس تولے کی زکوٰۃ دے گا کیونکہ دوسرا خُمس مکمل ہوگیا۔  (ماخوذازفتاویٰ رضویہ مُخَرَّجَہ،ج۱۰، ص۸۵)
ایک ہی جنس کے مختلف اموال اور زکوٰۃ کا حساب
    اگر مختلف مال ہوں اور کوئی بھی نصاب کو نہ پہنچتا ہو تو تمام مال مثلاً سونا ، چاندی یا مالِ تجارت یاکرنسی کو مِلا کر اس کی کل مالیت نکالی جائے گی اور اس کی زکوٰۃ
کاحساب اُس نصاب سے لگایا جائے گا جس میں فقراء کا زیادہ فائدہ ہو مثلاً اگر تمام مال کو چاندی شمار کرکے زکوٰۃ نکالنے میں زکوٰۃ زیادہ بنتی ہے تو یہی کیا جائے اور اگر سونا شمار کرنے میں زکوٰۃ زیادہ بنتی ہے تو اسی طرح کیا جائے گا اور اگر دونوں صورتوں میں یکساں بنتی ہے تو اس سے حساب لگائیں گے جس سے زکوٰۃ کی ادائیگی کا رواج زیادہ ہو ،پھر اگر رواج یکساں ہو تو زکوٰۃدینے والے کو اِختیار ہے کہ چاہے تو سونے کے حساب سے زکوٰۃ دے یا چاندی کے حساب سے ۔
    فتاویٰ شامی میں ہے :”نصاب کو پہنچانے والی قیمت ضم کے لئے متعین ہوگی دوسرے کی نہیں ،اور اگر دونوں سے نصاب پورا ہوتا ہو جبکہ ایک کا زیادہ رواج ہو تو جو زیادہ رائج ہو اسی کے حساب سے قیمت لگائی جائے گی۔ ”(ردالمحتار،کتاب الزکوٰۃ،باب زکوٰۃ المال،ج۳،ص۲۷۱ ملخصاً)شرح نقایہ میں ہے:” اگر دونوں (کا رواج) یکساں ہو تو مالک کو اختیار ہوگا۔”
(شرح نقایہ،کتاب الزکوٰۃ ،ج۱،ص۳۱۳)
    اگر مختلف مال ہوں اور ہرایک نصاب کوپہنچتا ہو تواس میں 3صورتیں ممکن ہیں:
    پہلی : ہر ایک مال محض مکمل نصاب پر مشتمل ہو ،اس سے کچھ زائد نہ ہو ، (مثلاً ساڑھے سات تولے سونا اور ساڑھے باون تولے چاندی ہو)تو ایسی صورت میں اگر ملاناچاہیں تو وہ حساب لگایاجائے گاجس میں زکوٰۃ زیادہ بنتی ہو۔
 (ماخوذ از بدائع الصنائع ،فصل وامامقدار الواجب فیہ ،ج ۲، ص۱۰۸)
    دوسری: نصاب کو پہنچنے کے بعد تمام اقسام کے مال کی کچھ مقدارِ عَفْو (یعنی معاف شدہ مقدار)زائد ہو گی توہر مال کی محض اس زائد مقدارِ عفو کو آپس میں ملاکر اُس نصاب کے مطابق حساب لگایا جائے گا جس میں زکوٰۃ زیادہ بنے ۔(مثلاً 8 تولے سونا اور 53تولے چاندی ہو تو دونوں میں آدھا آدھا تولہ مقدارِعفو ہے ان دونوں کو ملا کر حساب لگایا جائے گا ۔ )
    تیسری: نصاب کو پہنچنے کے بعد ایک مال کی کچھ مقدارِ عَفْو (یعنی معاف شدہ مقدار)زائد ہو گی جبکہ دوسرا مال بغیر عفو کے ہوتو پہلے مال کی محض اس زائد مقدارِ عفو کو دوسرے مال (بغیر عفووالے )میں ملائیں گے مثلاً سونے کا نصاب مع عفو ہے اور چاندی کا نصاب بغیر عفو کے توسونے کے محض عفو کو چاندی میں ملائیں گے ۔( 8 تولے سونا اور ساڑھے باون تولے چاندی ہو تو سونے کی زائد مقدار(عفو)کو چاندی میں ملاکر حساب لگایا جائے گا ۔ )
 (ماخوذازالفتاویٰ الھندیہ،کتاب الزکوٰۃ، الباب الاول ،الفصل الاول فی زکوٰۃ الذھب والفضۃ ، ج۱، ص۱۷۹وفتاوٰی رضویہ مُخَرَّجَہ ج۱۰،ص۱۱۶)
error: Content is protected !!