Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

شیخ الاسلام امام محمد انوار اللہ فاروقی کا اعلیٰ ذوقِ شعر و سخن

شیخ الاسلام امام محمد انوار اللہ فاروقی
کا اعلیٰ ذوقِ شعر و سخن

تحقیق و تبصرہ  :  پروفیسر ڈاکٹر محمد عبدالحمید اکبر،

 صدر شعبہ فارسی و اردوگلبرگہ یونیورسٹی، گلبرگہ(کرناٹک)

حضرت شیخ الاسلام مولانا انوار اللہ فاروقیؒ کی زندگی علوم اسلامی کی تحصیل سے لے کر ان کی وفات تک اسی شہر حیدرآباد میں گزری، جس کا بانی محمد قلی قطب شاہ ہے جو خود اُردو کا پہلا صاحب دیوان شاعر کہلاتا ہے۔ اس شہر کو آغاز سے لے کر آج تک بڑے ادیبوں اور شاعروں سے سابقہ رہا۔ جن لوگوں نے اس شہر کو آباد کیا اور گولکنڈہ اور اس کے اطراف و اکناف سے آکر اس میں بس گئے وہ خود بھی شعر و سخن اور علم و ادب کے اعلیٰ ذوق سے متصف تھے۔ 
قلی قطب شاہ کے دور میں ملا وجہیؔ کا نام اُردو شعراء میں اور اس کی کتاب ’’قطب مشتری‘‘ اُردو شاعری میں معروف ہوئے۔ اس کے بعد ملاّ غواصیؔ اور اس کی کتاب ’’سیف الملوک‘‘ کا نام لیا جاتا ہے۔ حیدرآباد کے دوسرے دور میں ابن نشاطیؔ ایسا صاحب کمال شاعر اُٹھا جس کو غواصیؔ اور وجہیؔ کی طرح شاہی دربار سے کوئی تعلق نہ تھا۔ اس نے اپنی مثنوی ’’پھولبن‘‘ کے ذریعے عوامی شہرت حاصل کی۔ اس کے علاوہ حیدرآباد میں ’’شاہ راجوؔ ، میراںؔ جی حسن خدانما وغیرہ نے علم تصوف کے ساتھ ساتھ شعر و ادب میں بھی نام کمایا۔ (۲)
گیارہویں صدی ہجری میں ابوالحسنؔ تانا شاہ کی شکست اور قید کے بعد شہر کی مرکزیت ختم ہوگئی اور بہت سے شاعر و ادیب یہاں سے نکل گئے۔ اس دور انتشار میں جو شعراء یہاں باقی رہ گئے تھے، ان میں قاضی محمود بحریؔ کا نام قابل ذکر ہے۔ بحریؔ نے تصوف و عرفان سے متعلق اُردو میں ’’من لگن‘‘ اور فارسی میں ’’عروسِ عرفان‘‘ لکھی لیکن ’’من لگن‘‘ کافی مقبول ہوئی۔ اس عہد کا ایک بڑا شاعر سید محمد خاں عشرتیؔ بھی ہے۔ جس نے اردو میں دیوان غزلیات کے علاوہ دو مثنویاں یادگار چھوڑی تھیں جو ’’دیپک پتنگ‘‘ اور ’’چت لگن‘‘ کے نام سے مشہور ہوئیں۔ اس دور کے آخری چند سالوں میں نظام الملک آصف جاہ اول کی علم دوستی کی وجہ سے کچھ اور شاعر و ادیب حیدرآباد آئے اور اپنے فضل و کرم سے شعر و ادب کو یہاں پھر سے زندہ کیا۔ آصف جاہ اول فارسی کے علاوہ اُردو میں بھی لکھا کرتے تھے۔ آصفؔ اور شاکرؔ ان کے تخلص تھے۔ انھیں ملاّ عبدالقادر بیدلؔ سے تلمذ حاصل تھا۔ (۳)
آصف جاہی دور کے اردو شاعروں میں میر بخشی علی خاں ایماؔ اور غضنفر ؔحسین بطور خاص قابل ذکر ہیں۔ آصف جاہ دوم کی تخت نشینی کے بعد ۱۱۸۴ھ میں اورنگ آباد کی جگہ شہر حیدرآباد سلطنت آصفیہ کا دارالحکومت بنا تو جملہ دکن کے علاقوں کی علمی چہل پہل اور شعر و سخن کی سرگرمیاں یہاں منتقل ہوئیں۔ اس دور کے سب سے مشہور شاعر نوازش علی شیداؔ تھے جنھوں نے حیدرآباد کو دوبارہ آباد کرنے اور قطب شاہی خصوصیات کے احیاء میں بڑا حصہ لیا تھا۔ اس دور کی آخری بڑی شخصیت شاہ تجلیؔ کی تھی جو اُردو زبان کے اچھے شاعر تھے۔ 
تیرہویں صدی ہجری کے آغاز میں ارسطو جاہ کا عہد اردو زبان کی ترقی و ترویج میں بہت مبارک ثابت ہوا۔ شاعروں اور ادیبوں کی ہر طرح سرپرستی کی گئی۔ اس زمانے میں میر اسد علی خاں تمناؔ کو بڑی شہرت ملی۔ (۴) ۱۲۲۰ھ کے بعد ماہ لقا ؔچندا بائی اُردو کی پہلی شاعرہ ہے جس نے ایک مکمل دیوان اپنی یادگار چھوڑا اور ارسطوؔ جاہ اور میر ؔعالم کے بعد حیدرآباد کی علمی و ادبی مرکزیت کو برقرار رکھنے میں اس نے نمایاں حصہ لیا۔ چندا کے آخری قدرداں مہاراجہ چندو لالؔ تھے جو اس کی بہت تعظیم کرتے تھے۔ مہاراجہ کا تخلص شاداںؔ تھا۔ فارسی کے علاوہ اُردو میں بھی کلام موزوں کرتے تھے۔ اس دور میں شاہ نصیرؔ اور شیخ حفیظؔ بہت مقبول ہوئے۔ اسی عہد میں حافظ میر شجاع الدین حسین جو مولانا انوار اللہ کے چچا پیر تھے فارسی کے علاوہ اردو میں بھی ایک مذہبی مثنوی ’’کشف الخلاصہ‘‘ کے نام سے لکھی جس کو اس زمانے کی عورتیں زبانی یاد کرتی تھیں(۵) ۔ یہ دور اُردو شعر و سخن کی ترقی کا دور کہلاتا ہے۔ فقیر اللہ شاہ حیدرؔ ، محمد علی الفتؔ حیدرآبادی اس دور کے قابل ذکر شعراء ہیں۔
شمس الامراء شمس الدین فیضؔ کے دور میں بھی بے شمار شعراء اُبھرے۔ فیضؔ نے چار آصفی بادشاہوں نظام علی خاں ، سکندر جاہ ، ناصرالدولہ اور افضل الدولہ کا زمانہ دیکھا ہے۔ انہی کے عہد میں غلام حسین خاں اُردو اور فارسی کے اچھے شاعر تھے۔ حیدر علی حیدرؔ بھی ایک بلند پایہ استاد سخن تھے جو فیضؔ کے مد مقابل سمجھے جاتے تھے۔ 
۱۲۸۰ھ تا ۱۳۲۰ھ کے اس چالیس سالہ دور میں شعر و ادب کی کافی ترقی ہوئی اور مظفرالدین مزاجؔ ، بہاری لال رمزؔ ، میر احمد علی عصرؔ اردو شاعری میں نامور ہوئے۔ شمس الدین فیضؔ کے بعد سب سے زیادہ مرزا داغؔ دہلوی حیدرآباد کے مشاعروں میں چھائے ہوئے تھے۔ ان کے اس دور میں محمد نعیمؔ ، مسکینؔ شاہ ، اصغر حسین نامیؔ ، سجاد حسین سجادؔ وغیرہ مشہور ہوئے۔ داغؔ دہلوی نے تو حیدرآباد کی دنیائے سخن میں انقلاب پیدا کردیا۔ چنانچہ محبوب علی خاں نظام ششم ان کے شاگرد ہوئے اور آصفؔ تخلص کرتے تھے(۶)۔ مختار الملک سالارجنگ اول نے نظم و نسق کے سلسلے میں جن اصحاب کو باہر سے حیدرآباد بلایا تھا ان میں مہدی علی خاں، محسن الملک ، نواب آغا مرزا سرور الملک ، مشتاق حسین وقار الملک ، چراغ علی اعظم یار جنگ ، ڈپٹی نذیر احمد ، سید حسین عمادالملک جیسے مشاہیر شامل تھے جنھوں نے اپنے قیام حیدرآباد کے زمانے میں علم و ادب کی بھی ناقابل فراموش خدمات انجام دی ہیں۔ ۱۳۰۰ھ میں مختار الملک کا انتقال ہوا اور ان کے فرزند لائق علی خاں سالار جنگ دوم کے عہد کی یہ خصوصیت اُردو تاریخ میں اہمیت رکھتی ہے کہ انھوں نے ۱۳۰۱ھ میں نظام ششم محبوب علی خاں آصفؔ کے ذریعے جریدہ غیر معمولی میں یہ حکم جاری کروایا کہ حیدرآباد کی سرکاری درباری زبان فارسی کے بجائے اُردو رہے گی۔ اس طرح اُردو نظم و نثر کا رواج بڑھنے لگا(۷) ہندوستان کے مختلف علاقوں سے علماء کو حیدرآباد بلایا جانے لگا ، گویا حیدرآباد دکن نے چھوٹے پیمانے پر سہی ، حقیقت میں قرطبہ اور بغداد کی علمی و ادبی مجلسوں کی یاد تازہ کردی تھی۔ ملک کے گوشے گوشے سے ارباب کمال کھنچ کھنچ کر سر زمین دکن میں پہنچ گئے تھے(۸)  علامہ شبلی بھی اسی زمانے میں حیدرآباد آئے تھے۔ انھوں نے بھی شعر و ادب کی قابل قدر خدمات انجام دیں۔ اس عہد کے دیگر حیدرآبادی شعراء میں معین الدین اقبال یار جنگ اقبالؔ ، وزیر علی جوشؔ ، میر محمد علی رنجؔ ، میر قادر حسین فرقؔ، میر تراب علی زورؔ ، محمد حسین سامانؔ ، فیض الدین فیضؔ ، میر حسین علی خاں امیرؔ ، مخدوم حسینی رفعتؔ ، خیرات علی خاں سخیؔ کے نام اور کام بھی تاریخ حیدرآباد میں یاد رہیں گے۔ (۹) ۔ ۱۳۲۰ھ کے بعد میر محبوب علی خان نے کشن پرشاد کو وزیراعظم بنایا۔ کشن پرشاد شاعر اور ادیب بھی تھے، اپنی دیوڑھی میں مشاعرے کرواتے اور سب سے پہلے آصفؔ (میر محبوب علی خاں) کی غزل سنائی جاتی اور شادؔ (کشن پرشادؔ) ہر ماہ جو گلدستہ ’’محبوب الکلام‘‘ شائع کرتے تھے وہ بھی آصف کی غزل ہی سے شروع کیا جاتا تھا (۱۰) شادؔ نے حیدرآباد کے شعراء و مصنفین کی آخری وقت تک سرپرستی اور امداد کی۔ ہندوستان کے جملہ مشاہیر علم و ادب سے ان کے ذاتی تعلقات بھی تھے۔ شاعرؔ نے بچولال تمکینؔ کے بعد مظفرالدین معلیؔ (شاگرد شیخ الاسلام مولانا انوار اللہ فاروقیؒ) سے بھی استفادہ کیا۔ اسی زمانے میں امیر مینائیؔ ، داغؔ دہلوی ، عزیز جنگ ولاؔ ، امیر حمزہؔ ، منتخب الدین تجلیؔ (تمکین کاظمیؔ کے والد) ، اقبال یار جنگ اقبالؔ ، غلام صمدانی خاں گوہرؔ ، مولاناانوار اللہ فضیلت جنگ انورؔ اور عثمان علی خاں عثمانؔ نامی شعراء تھے۔ 
حیدرآباد شعر و ادب کے اس تاریخی تسلسل کے پس منظر کے بعد جس میں مولانا انوار اللہ کی شاعری کا آغاز ہوا تھا اب ان کی شاعری موضوعات کا انتخاب ، بحور و اوزان کا استعمال اور شعری خصوصیت کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ 
شعر گوئی کا آغاز
حضرت شیخ الاسلام مولانا محمد انوار اللہ فاروقیؒ کے علمی ادبی کارناموں میں ان کی شاعری بھی اہمیت کی حامل ہے۔ مولانا انوار اللہ نے شعر گوئی کا آغاز ’’انوار احمدی‘‘ کے منظوم متن سے کیا جو باسٹھ (۶۲) مسدسات پر مشتمل ہے جس میں حضور اکرم ا کے فضائل معجزات اور میلاد شریف کے موضوعات شامل ہیں۔ مولانا نے مدینہ طیبہ میں قیام کے دوران ان موضوعات کو احادیث اور سیرت کی کتابوں سے منتخب کرکے منظوم کیا تھا جس کی تشریح خود مولانا موصوف نے سادہ اُردو نثر میں کی اور اپنے پیر و مرشد حاجی امداد اللہ صاحبؒ مہاجر مکی کو حرف بہ حرف سنایا۔ حاجی صاحبؒ  نے کمال مسرت سے اس کتاب کا نام ’’انوار احمدی‘‘ تجویز کیا اور توصیفی کلمات سے نوازا۔ حیدرآباد میں مولانا انوار اللہ انورؔؒ کی اہلیہ انور بی صاحبہ کا انتقال ۲۶؍ رمضان ۱۳۰۴ ھ میں ہوا اور ۱۳۰۴ھ میں مولانا نے حجاز کا سفر کیا۔ مدینہ منورہ پہنچ کر حرم پاک سے متصل ایک مقدس جگہ قیام کیا۔ سوائے چند ضروری حاجتوں کے ہمیشہ حرم محترم یا کتب خانوں میں اپنا وقت گزارتے۔ اس تیسرے سفر حج میں مولانا نے تین سال مدینہ طیبہ میں گزارے۔ ممکن ہے کہ اہلیہ کے انتقال کے بعد ایک کرب کی سی کیفیت پیدا ہوئی ہو اور اسی حالت کرب میں مولانا ، حضور اکرم ا کے تعلق قلبی کو مزید بڑھایا ہو ، جس کے اظہار کے لئے مولانا نے شاعری کا سہارا لیا۔ چنانچہ اس عرصے میں آپ نے اہل اسلام کے فائدے کے پیش نظر چند اشعار لکھے جن کا ہر لفظ حب رسول ا کی صدا دیتا ہے۔ انہی چند اشعار کی نثری وضاحت کا نام ’’انوار احمدی‘‘ ہے۔ اس کے علاوہ مولانا نے فارسی میں بھی چند نعتیہ غزلیں اسی زمانے میں کہی تھی جن کو آپ نے ’’انوار احمدی‘‘ کے ساتھ شامل کرکے مظفرالدین معلیٰؔؒ کے قطعہ تاریخ کے مطابق ۱۳۲۳ھ میں طبع کروایا تھا۔ مولانا شاعری میں اپنا تخلص انورؔ استعمال کرتے ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ مولانا نے تخلص کے استعمال  میں اپنی اہلیہ انور بی سے اس رشتہ محبت کی رعایت رکھی ہو اور انور تخلص فرماکر تسکین و مسرت محسوس کی ہے۔ 
مسدسات کے ان اشعار کی تکمیل اور چند اشعار کی تشریح کے پندرہ سال بعد ’’انوار احمدی‘‘ کی طباعت ہوئی۔ اس تاخیر کی وجہ بتلاتے ہوئے خود مولانا انوار اللہ اپنے تمہیدی کلمات میں عرض کرتے ہیں:
’’وہ ا جزاء (انوار احمدی) اب تک یوں ہی رکھے ہوئے تھے اور مشاغل ضروریہ سے اس قدر فرصت نہ ملی کہ ان کی طباعت ہوسکے۔ ان دونوں بعض اصحاب خیر خواہ قوم و ملت نے اس بات پر زور دیا کہ جس قدر شرح لکھی جاچکی ہے وہی طبع کروادی جائے، چونکہ حضرت ممدوح (حاجی امداد اللہ صاحبؒ) کا ارشاد بھی اس کے چھپوانے کے لئے تھا اس لئے امتثالاً للامر (تعمیل حکم) میں اس کتاب کے طبع کا ارادہ کیا گیا اور چند قصائد غزلیات بھی اس کے ساتھ ملحق کردیئے گئے۔ اگرچہ وہ اس قابل نہیں کہ اہل کمال کے روبرو پیش کئے جائیں مگر چونکہ زمانہ حضوری میں عرض کئے گئے تھے اس لئے خالی از مناسبت نہیں‘‘۔ (۱۱)
’’انوار احمدی‘‘ کے شعری متن کے علاوہ مولانا کا ایک مجموعہ کلام ’’شمیم الانوار‘‘ کے نام سے مولانا کے انتقال کے بعد ’’اشاعت العلوم‘‘ سے طبع ہوا۔ اس مجموعے میں فارسی کی چوبیس (۲۴) نعتیہ غزلیں ایک قصیدہ نعتیہ (۱۰) غزلیں شامل ہیں، جن میں مولانا نے تصوف و اخلاق کے موضوعات کو شعری لوازمات کے ساتھ پیش کیا ہے۔ اس کے علاوہ کلام انورؔ (قلمی نسخے) میں فارسی غزلوں کے ساتھ اردو کی (۲) غزلیں بھی شامل ہیں جو مطبوعہ کلام سے علاحدہ ہیں۔
حضرت مولانا محمد انواراللہ فضیلت جنگ انورؔ کے شعری ذوق کے متعلق محمد رکن الدین ؒلکھتے ہیں:
’’مولانا علیہ الرحمہ (باضابطہ) شاعر نہیں تھے ، تصوف سے لگاؤ کے باعث جو خیالات اور جذبات اٹھتے تھے ان کو کبھی کبھی نظم فرمادیا کرتے تھے آپ کا کلام یقینا عام مذاق کے مطابق نہ ہوگا، البتہ وہ لوگ جو صوفیانہ مذاق رکھتے ہیں ضرور اس سے حظ (لطف) اٹھائیں گے ، کلام کا اکثر حصہ توحید و نعت میں ہے‘‘۔ (۱۲)
پروفیسر محمد اکبرالدین صدیقی بھی کچھ اسی طرح اظہار خیال کرتے ہیں۔ 
مولانا کہنہ مشق شاعر نہ تھے لیکن جذبات کے اظہار کے لئے (جو تصوف میں ڈوبا ہوا ہو) بہترین ذریعہ اشعار ہیں اور اسی بناء پر وہ مجبوراً شعر کہتے تھے‘‘۔ (۱۳) 
حضرت انورؔ شعری مزاج رکھنے والوں سے اشعار سننے کے علاوہ خود بھی شعر سناتے اور جو کچھ سناتے صاف  اور بے عیب شعر سناتے لیکن کسی مشاعرے یا محفل شعر میں آپ نے اپنا کلام نہیں سنایا البتہ شعر و ادب کا ذوق رکھنے والے دوست احباب سے ملاقات کے وقت ماحول کی مناسبت سے شعر سنتے اور سناتے تھے۔ اس سلسلے میں سید مصباح الدین تمکینؔ کاظمی لکھتے ہیں:
’’مرے والد مرحوم (سید منتجب الدین تجلیؔ) سے مولانا (انوار اللہ) کے مراسم بڑے قدیم اور پرخلوص تھے جس کی وجہ سے مجھ پر بڑی شفقت و عنایت فرمایا کرتے تھے اور جب بھی حاضر خدمت ہوتا مجھ سے بڑی بے تکلفی کے ساتھ مخاطبت فرماتے، چونکہ میں بچپن ہی سے شعر و سخن کا ذوق رکھتا اور اساتذہ کا کلام مجھے بہت یاد تھا اس لئے مجھ سے فرمائش کرکے شعر سنتے تھے اور اگر موڈ اچھا ہوتا تو اپنے شعر مجھے سناتے… اس میں شک نہیں کہ مولانا صاف اور بے عیب شعر کہتے تھے‘‘۔ (۱۴)
جن شعراء کے ساتھ حضرتؔ انورکے مراسم تھے ان میں تمکین کاظمیؔ کے والد تجلی ؔکے علاوہ اقبال یار جنگ اقبالؔ اور مظفرالدین معلیٰؔ کے ساتھ بھی ان کے مراسم گہرے تھے۔ مظفرالدین معلیٰؔ ، کشن پرشاد کے استاد سخن ہیں اور علوم اسلامی کی تحصیل میں حضرت مولانا انوار اللہ انورؔ کے شاگرد رشید ہیں۔ حضرت انورؔ کی شعری حس میں جہاں ان کے تصوف سے لگاؤ کو دخل ہے وہیں ان کے اظہار میں ان مذکورہ شعراء کے مراسم کا اثر بھی شامل ہے۔ اس لئے حضرت انورؔ کا کلام فکر کے علاوہ فن میں بھی ممتاز حیثیت کا حامل قرار پاتا ہے۔
حضرت انورؔ کی شعر گوئی کا مقصد 
حضرت انورؔ کی شاعری کا مقصد حضور اکرم ا کی مدح سرائی کے ساتھ ان کی عظمت و رفعت کو اُجاگر کرنا ہے۔ اس کے علاوہ اصلاح معاشرہ اور اشیاء کی حقیقت بیان کرنا ہے۔ بہ الفاظ دیگر حضرت انورؔ کی شاعری برائے شاعری نہیں بلکہ عبادت تھی۔ اپنے اس مقصد کا ذکر ایک نعتیہ مسدس میں آپ اس طرح کرتے ہیں۔ 
لکھا اس کونظم میں ہر چند میں شاعر نہیں
کیونکہ خوش ہوتے تھے اکثر نظم ہی سے شاہ دیں
تھا یہی لِم جو ممد حسّان  کے تھے روحُ الامیں
کعب اور ابنِ رواحہ کو اسی کاتھا یقیں
ذکرِ ختم المرسلیں اس نظم سے مقصود ہے
جو ازل سے تا ابد ممدوح اور محمود ہے (۱۴)
حضرت انورؔ کی یہ شاعرانہ انکساری ہے جو یہ کہتے ہیں کہ میں شاعر نہیں ہوں اس طرح کا انکسار ہمیں مولانا رومؔ کے یہاں بھی ملتا ہے جیسے : 
’’من نہ دانم فاعلاتن فاعلات‘‘
یعنی یہ فاعلاتن فاعلات کیا بحر ہے اور کیا وزن ہے نہیں جانتا۔ مجھے صرف اپنے مقصد و مدعا کو پیش کرنا ہے۔ ردیف قافیے کا اہتمام اصل مقصد نہیں۔ مقصد تو صرف یہ ہے کہ اپنے منشاء کی تکمیل اور اس کی صحیح تبلیغ و ترسیل ہو۔ شعری اظہار بیان میں چونکہ اثر پذیری کا امکان زیادہ ہے اس لئے اپنے موضوعات کو پیش کرنے کے لئے شعری لباس اپنایا گیا ہے۔ کچھ یہی خیال حضرت انورؔ کے یہاں بھی موجود ہے جو مذکورہ مسدس میں ’’ہر چند میں شاعر نہیں‘‘ سے واضح ہوتاہے۔
فن شاعری میں حضرت انورؔ کسی کے شاگرد نہیں تھے۔ عاشق رسول ا تھے ، انھیں تصوف کی راہ بھی بڑی راس آئی اور اپنے دلی جذبات کے اظہار کے لئے اشعار کہہ گئے۔ بقول شخصے کہ ’’تصوف برائے شعر گفتن خوب است‘‘ یعنی شعر گوئی کے لئے تصوف کا میدان بہت موزوں ہے۔ اسی لئے تاریخ میں کئی ایسے صوفی بزرگوں کا ذکر ملتا ہے جو اشعار تو خوب کہتے تھے مگر کسی کے شاگرد نہیں تھے۔ ایک سوال پر حضرت رضا بریلویؒ ؔنے بھی کہا تھا کہ عاشق کسی کا شاگرد نہیں ہوتا۔ ڈاکٹر اقبالؔ نے عبدالمجید خاں سالکؔ کو ان کے ایک عریضے کے جواب میں لکھا تھا کہ :
’’ہر شخص کو طبیعت آسمان سے ملتی ہے اور زبان، زمین سے۔ اگر آپ کی طبیعت شعر گوئی کے لئے موزوں ہے تو آپ خود بخود اس پر مجبور ہوں گے۔ میرے نزدیک یہ حقیقت ہے کہ شاعری میں کسی پیر و استاد کی ضرورت نہیں‘‘۔ (۱۵)
حضرت انورؔ کی طبیعت ، مزاج ، فکر ، شعر گوئی کے لئے موزوں تھی یہی وجہ تھی کہ فارسی، عربی کے علاوہ اُردو زبان میں پختہ کلام انھوں نے یادگار چھوڑا۔ طبیعت کی موزونیت کی وجہ سے ممکن ہے کہ کسی سے مشورہ سخن کئے بغیر ہی شعر کہے ہوں۔ یہ ان کے کمال سخن کی علامت ہے۔ اب تک کی گفتگو سے یہ معلوم ہوا کہ حضرت انورؔ فن شاعری میں کسی استاد کے شاگرد نہیں رہے لیکن ڈاکٹر سید محی الدین قادری زورؔ نے اپنی کتاب ’’داستانِ ادب حیدرآباد‘‘ میں حضرت انورؔ کو حیدر حسین حیدرؔ کا شاگرد بتایا ہے۔ لکھتے ہیں :
’’(انوار اللہ فضیلت جنگ) اُردو فارسی کے شاعر بھی تھے ، انور تخلص کرتے تھے اور حیدر حسین خاں حیدرؔ فرزند شیخ حفیظ کے شاگرد‘‘۔ (۱۶)
پتہ نہیں ڈاکٹر زورؔ نے حضرت انورؔ کو حیدر کا شاگرد کس بنیاد پر لکھ دیا۔ خود حضرت انورؔ اپنی کتاب ’’انوار احمدی‘‘ کی تمہید میں یوں رقمطراز ہیں :
’’ہر چند فن شاعری میں (مجھے) کسی سے نہ تلمذ ہے نہ مہارت نہ اہل ہند کے محاورات سے واقفیت ، مگر صرف اس لحاظ سے کہ یہ خدمت غالباً مناسب مقام ہے اور تعجب نہیں کہ اہل اسلام کو اس سے کچھ فائدہ بھی حاصل ہو، چند اشعار لکھے‘‘۔ (۱۷)
محولہ بالا الفاظ مولانا انوار اللہ انورؔ نے اس وقت لکھے جبکہ ان کی کتاب انوار احمدی کی طباعت ۱۳۲۳ھ میں ہورہی تھی اور اس وقت حضرت انورؔ کی عمر اُنسٹھ برس تھی اور ڈاکٹر زورؔ نے حیدر کا زمانہ ۱۲۵۰ تا ۱۲۸۰ھ لکھا ہے اور ۱۲۸۰ھ میں حضرت انور صرف سولہ سال کے تھے جبکہ حیدرؔ کا یہ بالکل آخری زمانہ ہے۔ ڈاکٹر زورؔ کے بموجب حیدرؔ کے والد شیخ حفیظؔ کا انتقال ۱۲۴۷ھ میں ہوا۔ (۱۸) اور اس وقت ان کے فرزند حیدرؔ کی عمر اگر دس سال بھی فرض کرلی جائے تو ۱۲۸۹ھ میں حیدر کی عمر ۴۳ سال قرار پاتی ہے۔ حیدر کے اس آخری دور میں بھی حضرت انورؔ کی حیدرآباد میں آمد کا ثبوت نہیں ہے۔ حضرت انورؔ ۱۲۸۱ھ میں اپنے والد ماجد کے ہمراہ حیدرآباد آئے اور ۱۲۸۲ھ میں مولانا عبدالحلیم فرنگی محلی اور ان کے فرزند مولانا عبدالحی فرنگی محلی سے علوم اسلامی کی تحصیل فرمائی۔ اگر واقعتاً حضرت انورؔ حیدر کے شاگرد ہوتے تو انوار احمدی کی تمہید میں ضرور ذکر کرتے۔ مذکورہ قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی ملاقات حیدرؔ سے نہیں ہوئی لہذا حضرت انورؔ ، حیدرؔ کے شاگرد نہیں بلکہ حضرت انورؔ کے تمہیدی کلمات جو انوار احمدی میں شامل ہیں، ان کی روشنی میں ڈاکٹر زورؔ کا قول درست قرار نہیں پاتا البتہ حضرت انورؔ کے قول کا اعتبار قائم ہوجاتا ہے کہ وہ فن شاعری میں کسی کے شاگرد نہیں رہے۔
اب رہی بات محاورے اور روز مرہ کی، کہ حضرت انور کے دور میں حضرت داغ اور حضرت امیرؔ مینائی وغیرہ بھی تھے۔ چونکہ محاورے اور روز مرہ کی بحثیں ان دونوں بزرگ شعراء کے علاوہ دیگر ہم عصروں میں بھی خوب چلتی تھیں، اسی لئے ممکن ہے اس فنی نوک جھونک کی وجہ سے حضرت انورؔ نے یہ کہہ دیا کہ مجھے نہ تو محاورات اہل ہند سے واقفیت اور نہ ہی فن شاعری میں مہارت حاصل ہے۔ لیکن شیخ الاسلام حضرت علامہ انورؔ حیدرآبادی کے فارسی اور اردو کلام کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ وہ شاعری کے تمام رجحانات سے واقف تھے اور ان کا اسلوب سخن بھی ان کے اپنے دور کا ترجمان دکھائی دیتا ہے۔ 
کلام انورؔ میں بحور اور اوزان کا استعمال
حضرت انورؔ نے اپنی غزلوں کے لئے عموماً ان بحروں کا انتخاب کیا ہے جن سے کلام میں روانی اور ترنم پیدا ہوتا اور ایسے موزوں الفاظ کا بھی استعمال کیا جس سے شعر میں موسیقیت پیدا ہوجاتی ہو۔ ترنم اور موسیقیت کی اس خصوصیت کو ڈاکٹر اقبالؔ نے بھی رواج دیا ہے اور ان کے بعد دوسرے شعراء نے بھی عام طور پر اس کو اختیار کیا۔ مگر حضرت انورؔ نے اس خصوصیت کو جس خوبی سے برتا ہے دوسروں میں یہ وصف کم ہی نظر آتا ہے۔
حضرت انورؔ کی شاعری کی آواز ، آوازِ ربانی کا احساس دلاتی ہے۔ یہاں پروفیسر نورالحسن نقوی کا قول درست معلوم ہوتا ہے کہ یہ بات حقیقت سے دور نہیں کہ جو شاعر کلام اللہ کی تشریح و تفسیر کررہا ہو، اگر اس کا اسلوب قرآنی اسلوب سے متاثر ہوجائے تو اس میں کوئی حیرت کی بات نہیں۔ (۱۹) چنانچہ حضرت انورؔ کے کلام میں یہ قرآنی طرز کہیں لفظوں کے آہنگ سے پیدا ہوا ہے کہیں ردیف و قافیے سے اور کہیں بحروں کے حسن انتخاب سے واضح ہوا ہے۔ اس مقصد کے حصول میں حضرت انورؔ نے بحر متقارب کا استعمال کیا ے۔ بحر ہزج ، بحر مضارع اور بحر رمل کی مختلف شکلوں سے انھوں نے اپنے کلام میں موسیقی اور ترنم بھی پیدا کیا ہے۔ 
حضرت انورؔ کے کلام کا مجموعہ ’’شمیم الانوار‘‘ کے نام سے شائع ہوچکا ہے۔ جس میں فارسی کی (۲۴) چوبیس غزلیں ایک قصیدہ نعتیہ اور ایک مثنوی کے علاوہ اردو کے دس (۱۰) غزلیں بھی شامل ہیں۔ حضرت انورؔ کے غیر مطبوعہ کلام میں (۲) اردو کی غزلیں بھی دستیاب ہوئی ہیں۔ اسی طرح حضرت انورؔ کے موجودہ اُردو شعری سرمائے میں جملہ بارہ (۱۲) غزلیات اور باسٹھ (۶۲) بندھوں پر مشتمل نعتیہ مسدس (جو انوار احمدی کا منظوم متن کہلاتا ہے) شامل ہیں۔ اب حضرت انورؔ کے اشعار میں بحروں کا انتخاب اور ان کے اشعار کی تقطیع ملاحظہ ہو۔ 
حضرت انورؔ کے مطبوعہ کلام ’’شمیم الانوار‘‘ کی پہلی اور چوتھی غزل میں ’’بحر متقارب‘‘ مثمن سالم کا استعمال ہوا ہے فعولن ایک مصرع میں چار بار اور پورے شعر میں آٹھ بار پہلی غزل کا مطلع اور مقطع اس طرح ہے۔
مطلع :
جہاں میں ہیں جلوے عیاں کیسے کیسے
ہیں اسر ار دل میں نہاں کیسے کیسے
مقطع : 
ذرا دیکھو انورؔ کہ انوار غیبی
نہاں کس قدر ہیں عیاں کیسے کیسے
بحر:
فعولن
فعولن
فعولن
فعولن
مطلع: 
جہاں میں 
ہیں اسرا
ہیں جلوے 
ردل میں 
عیاں کیہ
نہاں کیہ
سے کیسے
سے کیسے
مقطع: 
ذرادے
عیاں کس 
کھو انور 
قدر ہیں 
کہ انوا 
نہاں کیہ
رغیبی
سے کیسے
چوتھی غزل
مطلع: 
رہے خو
عدم میں 
ب لطف و
بھی تھے مح
 کرم پہہ
ترم پہہ
لے پہلے
لے پہلے
مقطع: 
ہوا نے 
وگرنہ 
کیاہم 
تھے ثابت 
کوبربا
قدم پہہ
د انورؔ
لے پہلے
دوسری غزل بحر مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف میں ہے
بحر: 
مفعول
 فاعلات 
مفاعیل 
فاعلن؍فاعلات
مطلع: 
 مژگاں ہیں 
اور تار 
عاشقوں 
موئے زلف 
کے لئے تیر
ہے زنجیر 
 ایک ایک
ایک ایک
مقطع: 
 وعدوں پہ 
میں جان 
انورؔ اک 
تاہوں نفس 
ہیں اس کے نہ
کی تزویر 
 بھولئے
ایک ایک
تیسری غزل کا وزن: بحر خفیف مسدس مجنون محذوف یا مقصود ہے۔ خواجہ حالیؔ کی مثنوی ’’حب وطن‘‘ اسی بحر میں ہے مثنوی کے لئے سات (۷) مقررہ اوزان میں سے ایک ہے لیکن حضرت انورؔ کی جدت ہے کہ انھوں نے اس بحر کو غزل کے لئے منتخب کیا ہے۔
بحر:
فاعلاتن
مفاعلن
فعلن ؍ فعلن
مطلع :
شرک ہرچن
دبر ملا
تونہیں
دیکھو دل میں
وہ چھپ گیا
تو نہیں
مقطع :
دیکھتے ہیں
یہ بات کر
تے نہیں
انوراؔ تم
پہ وہ خفا
تو نہیں
پانچویں اور ساتویں غزل کی بحر اس طرح ہے : بحر ہزج مثمن سالم : (ہر مصرع میں چار مرتبہ)
بحر :
مفاعیلن
مفاعیلن
مفاعیلن
مفاعیلن
مطلع :
کیا کرتے
ہیں طے راہ
عدم آہس
تہ آہستہ
کھنچے جاتے
ہیں اس جانب
کوہم آہس
تہ آہستہ
مقطع
رہے گی ہس
تئی موہو
م انورؔتا
بکے باقی
مٹ ہی جائے
گایہ نقش
قدم آہس
تہ آہستہ
ساتویں غزل
بحر:
مفاعیلن
مفاعیلن
مفاعیلن
مفاعیلن
مطلع
نہ خنجرپا
س ہے ان کے
نہ وہ شمشی
ررکھتے ہیں
مگر ابرو
کی جنبش میں
عجب تاثی
ررکھتے ہیں
مقطع
سر تسلی
م جن کا طا
ق ابرو میں
ہے خم انورؔ
سر سجدہ
کووہ غرقِ
نم تشوی
ررکھتے ہیں
یہ بحر اس قدر مقبول ہوئی کہ حفیظ جالندھری نے ’’شاہنامہ اسلام‘‘ کے لئے اور ڈاکٹر اقبالؔ نے اپنی نظم ’’طلوع اسلام‘‘ کے لئے اس بحر کو پسند کیا۔(۲۰) بہادر شاہ ظفرؔ کی ایک غزل بھی اس بحر اور اسی ردیف میں ہے۔ (۲۱)
آٹھویں غزل کی بحر : بحر ہزج مثمن اشیتر (اونٹ کے چلنے کی آواز) ہے۔
بحر :
فاعلن
مفاعیلن
فاعلن
مفاعیلن
مطلع
وصل یا
رکی کس کو
آرزو
نہیں آتی
ہیں طلب
میں ہم لیکن
جستجو 
نہیں آتی
مقطع
یوں تو ہے
زباں انورؔ
بات ہی
کے کہنے کو
پرزبا
ں پر دل کی
گفتگو 
نہیں آتی
چھٹی اور نویں غزل میںحضرت انورؔ کے بحر رمل مثمن مجنون مشعت مقصود کو منتخب کیاہے۔ 
بحر 
فاعلاتن 
فعلاتن
فعلاتن
فعلان ؍ فعلن
مطلع
رحم و اظہار
روفاخو
ئے دلارا
م سے دور
صبر آسو
دہ دلی عا
شق ناکا
م سے دور
مقطع
جس کود لج
معی میس
سرہو جہاں
میں انورؔ
مثلِ مرکز 
رہے وہ گر
دشِ ایا
م سے دور
نویں غزل 
بحر : 
مطلع :
فاعلاتن 
کون جانے
فعلاتن
دے ہمیں ان
فعلاتن
جمن یا
فعلان ؍ فعلن
رکے پاس
مثل سایہ
کے پڑے رہ
تے ہیں دیوا
ر کے پاس
مقطع :
دل ربائی
میں ہے نیا ڈھ
نگ ان
کاانورؔ
معذرت سن
تے ہیں اور آ
کے گنہگا
ر کے پاس
حضرت انورؔ نے اپنی دسویں (۱۰) غزل بحر رمل مسدس محذوف مکشوف میں کہی ہے جو مطبوعہ کلام ’’شمیم الانوار‘‘ کی آخری اردو غزل ہے۔ 
بحر :
فاعلاتن
فاعلاتن
فاعلن
مطلع
جاں کی ہم نے
لن ترانی
دیکھ لی
ناطقے کی
خوش بیانی
دیکھ لی
مقطع
اپنا بھی مض
موں نہ سمجھا
انورؔا
بس تمہاری 
نکتہ دانی 
دیکھ لی
حضرت انورؔ کا یہ کلام متلون ہے۔ متلون کلام کی تعریف یہ ہے کہ کوئی ایسا کلام جو کئی وزنوں پر پڑھا جاسکے۔ ڈاکٹر یعقوب عمر نے لکھا ہے کہ اس کے تین وزن ہیں: 
(۱) فاعلاتن
فاعلاتن
فاعلن
(۲) مفتعلن
مفتعلن
فاعلن
(۳) فاعلاتن
فعلاتن
فاعلن۔ (۲۲)
موضوعات کا انتخاب
مولانا انوار اللہ انورؔ کی شاعری کے موضوعات وسیع اور متنوع بھی ہیں۔ انھوں نے تصوف و اخلاق ، حُبِ رسول، مناظرِ قدرت ، پند و نصائح جیسے موضوعات پر اشعار کہے ہیں۔ حضرت انورؔ نے شعر کے ذریعہ اسرارِ حق کو سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کی ہے۔ درس و نصیحت کے لئے بھی ایک خوبصورت ذریعہ انھیں ہاتھ آیا لیکن یہ پند و نصائح عام رواج کے مطابق نہیں بلکہ اس کے لئے انھوں نے یہ ایسا دھیمہ لہجہ اختیار کیا جس سے شعریت بھی باقی رہے اور نصیحت بھی ہوجائے۔ حضرت انورؔ کی شاعری کا وہ حصہ یقینا قابل توجہ ہے جس میں انھوں نے مظاہرِ فطرت کو موضوع فکر بنایا۔ مظاہرِ فطرت گویا آیاتِ الہٰی ہیں جو معرفت کے حصول کا ذریعہ ہیں اور کچھ مظاہرِ فطرت ایسے ہیں جن کے ذریعہ عبرت حاصل کرنے کے درس بھی ملتے ہیں۔
حضرت انورؔ کے شعری سرمائے میں معرفت اور درسِ عبرت حاصل کرنے کے مناظر موجود ہیں۔ وہ مظاہرِ فطرت جو آیاتِ الہٰیہ کہلاتے ہیں جن کے ذریعہ خدا کی جلوہ سامانی ہوتی ہے جو عاشق کے دل کے لئے سکون کا باعث ہوتے ہیں اور عرفان الہٰی کے لئے منازل طے کرنے میں مدد بھی دیتے ہیں۔ یہ وہ اسرار الہٰی ہیں جن کی معرفت کے ذریعہ خدا کی صفات تک رسائی ہوتی ہے۔ اور یہ وہ مجاز ہیں جن کے ذریعہ حقیقت تک پہنچنا آسان ہوجاتا ہے۔ جن مظاہر فطرت کو حضرت انورؔ نے اپنی شاعری میں استعمال کیا ہے وہ اس طرح ہیں: 
گل ، گلشن ، عمارت ، دل ، مہمان ، سرا ، زلف ، مژگاں، نظر ، خنجر ، ابرو ، شمشیر ، تیر ، کمان، چلہ وغیرہ جن کو مولانا انواراللہ انورؔ نے اپنے ان مختلف اشعار میںاستعمال کیا ہے۔ 
اشعار ملاحظہ ہوں:
۱۔
جہاں میں ہیں جلوے عیاں کیسے کیسے
ہیں اسرار دل میں نہاں کیسے کیسے
۲۔
عارف کو فہم آیۂ تخلیق کے لئے
اوراقِ گل ہیں نسخہ تفسیر ایک ایک
۳۔
رنگ تیرا ہی ظاہر گلشن جہاں میں ہے
کونسا ہے گل جس میں تیری بو نہیں
۴۔
ہوئی خانہ دل کی تعمیر مٹ کر
بنے لامکاں میں مکاں کیسے کیسے
۵۔
الہٰی یہ دل ہے کہ مہماں سرا ہے
چلے آتے ہیں کارواں کیسے کیسے
۶۔ 
ہاتھ آئے جس کو سلسلہ زلفِ عنبریں
توڑے تعلقات کی زنجیر ایک ایک
۷۔
مژگاں ہیں عاشقوں کے لئے تیر ایک ایک
اور تار موئے زلف ہے زنجیر ایک ایک
۸۔
نظر جب دور بیں ہونے لگے آثارِ قدرت میں
تو دل ہوجائے گا خود جامِ جم آہستہ آہستہ
۹۔
نہ خنجر پاس ہے ان کے نہ وہ شمشیر رکھتے ہیں
مگر ابرو کی جنبش میں عجب تاثیر رکھتے ہیں
۱۰۔
کماں کے سامنے چلے کا جھکنا دامِ مقصد ہے
جوانانِ سعادت مند قدرِ پیر رکھتے ہیں
موضوعات کا انتخاب شاعری کے داخلی پہلو سے عبارت ہے۔ داخلی پہلو سے مراد وہ خیالات اورافکار ہیں جن کو مولانا انوار اللہؔ نے حیات انسانی اور کائنات کے مختلف موضوعات اور مسائل کے بارے میں پیش کئے ہیں۔
نوجوانوں کی اخلاقی تعلیم کے لئے بزرگوں کی اطاعت کو سعادت مندی قرار دیتے ہوئے حضرت انورؔ کہتے ہیں :
کمال کے سامنے چلے کا جھکنا دام مقصد ہے
جوانان سعادت مند قدر پیر رکھتے ہیں
خوشی اور غمی گویا دور زمانہ ہے، ان ہر دو صورتوں میں راضی برضا رہنے کی تعلیم دیتے ہیں۔
مثلاً حضرت انورؔ کا یہ شعر ملاحظہ ہو:
یک روش دور زمانہ کا نہیں رہ سکتا
رکھی رہتی ہے صراحی بھی کبھی جام سے دور
اسی طرح عمر رواں سے عبرت حاصل کرنے کے لئے لکھتے ہیں :
عمر کی طرح نہیں لوٹ کے پانی آتا
سرِ پل جا کے بھی تم نے یہ تماشا دیکھا
بخل سے بچنے کی تعلیم بھی حضرت انورؔ کے کلام میں موجود ہے:
انورؔا بخل کے انجام کو دیکھا تم نے
ابر آتا ہے نہیں پانی برستا دیکھا
ٹوٹے دلوں کو جوڑنا دراصل کوئی عمارت تعمیر کرنے سے بہتر ہے۔ اس خیال کو حضرت انورؔ نے اپنے اس شعر میں پیش کیا ہے جو انسانیت نوازی کی بہترین مثال ہے۔
کیا لطف سنگ و گل کی عمارت میں منعمو
شکستہ دل ہیں قابلِ تعمیر ایک ایک
جبر و قدر کے سلسلے میں لکھتے ہیں :
لکھا تھا جو ازل میں وہ ہرگز ٹلا نہیں
ہر چند کی خلاف میں تدبیر ایک ایک
خوف آخرت ، سزا اور جزاء کا تصور بھی ان کے کلام میں ملتا ہے:
کیا حال ہو جو حشر کے دربارِ عام میں
بہر سزا سنائیں گے تقصیر ایک ایک
جو ہم سے کام ہوتے ہیں غفلت کے خواب میں
محشر میں پیش آئے گی تعبیر ایک ایک
بچے کا پیدا ہوتے ہی رونا دراصل عدم سے بچھڑنے کے غم میں ہوتا ہے ۔ اس خیال کو حضرت انورؔ نے بڑی خوبی سے پیش کیا ہے : 
رہے خوب لطف و کرم پہلے پہلے
عدم میں بھی تھے محترم پہلے پہلے
یہاں آتے ہی رودیا بے تکلف
جدائی کا ہوتا ہے غم پہلے پہلے
ہر شئے میں خدا کی جلوہ گری ہے۔ اس سلسلے میں حضرت انورؔ حیدرآبادی یوں کہتے ہیں:
ہر چیز میں ہے صنعتِ خلاق جلوہ گر
اس وجہ سے ہے قابلِ تصویر ایک ایک
رنگ تیرا ہی ظاہر گلشنِ جہاں میں ہے
کون سا ہے گل جس میں تیری بو نہیں آتی
حضور اکرم ا کی مدح میں حضرت انورؔ کے یہ شعر لازوال قدروں کے حامل ہیں ملاحظہ ہوں:
کی صدقِ دل سے جس نے اطاعت رسول کی
عالم میں اس کی کرتا ہے توقیر ایک ایک
طیبہ کی سرزمیں کی مہوّس کو قدر کیا
خاشاک و خاک واں کی ہے اکسیر ایک ایک
واں بدلتی ہے قلب کی حالت
خاک طیبہ کی کیمیا تو نہیں
حضرت انورؔ کے مطبوعہ کلام ’’شمیم الانوار‘‘ کے علاوہ ان کے قلمی نسخے ’’کلام انورؔ‘‘ میں بھی نعتیہ اشعار ملتے ہیں اور باسٹھ بندوں پر مشتمل ایک نعتیہ مسدس بھی ہے جس کو مولانا انواراللہ نے ’’انوار احمدی‘‘ میں شامل کیا ہے:
’’کلامِ انور‘‘ (قلمی نسخہ) سے چند نعتیہ اشعار ملاحظہ ہوں :
دیکھا سب کچھ بہ یقیں جس نے مدینہ دیکھا
دین کا ملجا اور ایمان کا ماوا دیکھا
انبیاء و ملک و جن میں ہے ذکرِ نبوی
ہر طرف آپ کے اوصاف کا چرچا دیکھا
نعتیہ مسدس سے چند بند پیش کئے جاتے ہیں:
گرچہ ان کی مدح میں قرآں ہے ناطق سر بسر
وصف ان کی کرسکے کیا کوئی بیچارہ بشر
رتبہ ان کا کوئی کیا جانے جو دیوے کچھ خبر
عقل حیراں ہے یہاں اور وہم کے جلتے ہیں پر
ہر مسلماں چھوڑ دے کیونکر نعت کو بالکلیہ
لیس یترک کل مالا یدرک بالکلیہ
گرچہ حضرت ہیں محمدا پر ستودہ ہے خدا
کیونکہ جملہ حمد راجع ہیں سو رب العلا
لیک جب خود حق تعالیٰ نے محمد کہہ دیا
پھر محمد ہم نے گران کو کہا تو کیا ہوا
عقدہ یہ کھلتا نہیں کہ کون ہیں اور کیا ہیں وہ
ہاں سمجھتے ہیں بس اتنا برزخ کبریٰ ہیں وہ
حضرت مولانا انوار اللہ انورؔ عالم باعمل اور صوفی باصفا بھی تھے۔ درسِ تصوف میں نظریہ وحدت الوجود کے بانی شیخ اکبر محی الدین عربی کی مشہور کتاب بنام ’’فتوحاتِ مکیہ‘‘ شامل تھی۔ مولانا نے اس کتاب کا درس برسوں دیا ہے اور اس درس میں ہمیشہ اہل دل اور اہل عرفان ہی حاضر رہتے۔ حضرت انورؔ عاشق رسول بھی تھے اس لئے اکثر نعتیہ اور صوفیانہ اشعار بہ رنگ غزل کہے ہیں۔ نعتیہ اشعار کا ذکر پچھلے صفحات میں گزر گیا ہے۔ اب تصوف کے موضوع پر مولانا انوار اللہ انورؔ کے شعر ملاحظہ ہوں:
عدم شکلِ ہستی میں بن بن کے آیا
کہیں کیا ہوئے امتحاں کیسے کیسے
ہوئی خانہ دل کی تعمیر مٹ کر
بنے لامکاں میں مکاں کیسے کیسے
٭٭٭
زردی رنگ و آہ فغاں اشک و لاغری
ہے عشقِ جاں گداز کی تاثیر ایک ایک
عارف کو فہم آیۂ تخلیق کے لئے
اوراقِ گل ہیں نسخۂ تفسیر ایک ایک
٭٭٭
تجلی عشق کی جن کے دلوں پر جلوہ افگن ہے
بجائے مردمک وہ یار کی تصویر رکھتے ہیں
مرادو نا مرادی عاشقوں کے پاس ہے یکساں
وہ کب تعجیل کا شوق اور غمِ تاخیر رکھتے ہیں
کماں کے سامنے چلّے کا جھکنا دامِ مقصد ہے
جوانانِ سعادت مند قدرِ پیر رکھتے ہیں
٭٭٭
سیر عارف کی بدایت ہے نہایت کا مقام
دائرہ میں نہیں آغاز ہے انجام سے دور
٭٭٭
دردِ دل وا بھی اگر ہو تو ہے تہمت نفس
ہے عبادت کدہ یہ خانہ خمار کے پاس
حال ، عاشق کے ہے پہچانے میں تارِ برقی
ایک ہے دور و قریب آہِ شرر بار کے پاس
٭٭٭
دل کو ہر چیزسے تعلق ہے
کہیں در پردہ دل ربا تو نہیں
٭٭٭
ذرا دیکھو انورؔ کہ انوارِ غیبی
نہاں کس قدر ہیں ، عیاں کیسے کیسے
٭٭٭
محاورات کا استعمال :
شاعر اور ادیب نظم ہو یا نثر ہر ایک میں محاورات کے استعمال کو بڑی وقیع نظر سے دیکھتے ہیں، مولانا الطاف حسین حالیؔ کا خیال ہے کہ محاورہ شعر میں ایسا ہے جس طرح کوئی خوبصورت عضو ، انسان کے بدن میں اس کے حُسن کو بڑھاتا ہو : محاورہ اگر عمدہ طور پر باندھا جائے تو بلاشبہ پست شعر کو بلند اوربلند کو بلند تر کردیتا ہے۔ (۲۳)
محاورہ اور روز مرہ کے استعمال سے متعلق ڈاکٹر جمیل جالبی لکھتے ہیں : 
’’فارسی محاوروں اور روز مرہ کا یہ رجحان نہ صرف ولیؔ کے بعد کے دور میں نظر آتا ہے بلکہ میرؔ و سوداؔ ، ناسخؔ و آتشؔ میرؔ حسنؔ اور غالب ؔو اقبالؔ تک قائم رہتا ہے۔اس رجحان نے اردو شاعری کے دامن کو وسیع کرکے اظہار کی قوتوں کو دوبالا کیا ہے‘‘۔ (۲۴)
حضرت انورؔ کے کلام میں بھی محاورہ کا لطف ملتا ہے۔ اشعار ملاحظہ ہوں:
دل ٹھکانے نہیں ہے کیا باعث
وہ کسی زلف میں پھنسا تو نہیں
جو ہم سے کام ہوتے ہیں غفلت کے خواب میں
محشر میں پیش آئے گی تعبیر ایک ایک
ہوا نے کیا ہم کو برباد انورؔ
وگرنہ تھے ثابت قدم پہلے پہلے
جوانی ڈھلتے ہی ہر دم خدا یاد آنے لگتا ہے
پئے سجدہ ہوئے جاتے ہیں خم آہستہ آہستہ
ہاتھ آئے جس کو سلسلہ عنبریں
توڑے تعلقات کی زنجیر ایک ایک
رقصِ بسمل میں گزارا دن تمام
کیوں ہماری سخت جانی دیکھ لی
جاں کی ہم نے لن ترانی دیکھ لی
ناطقے کی خوش بیانی دیکھ لی
اپنا بھی مضموں نہ سمجھا  انوراؔ
بس تمہاری نکتہ دانی دیکھ لی
شعری خصوصیات : 
اردو شاعری فارسی سے پیدا ہوئی، اس لئے اس میں ادائے خیال کے وہی ضابطے استعمال کئے گئے جو فارسی میں مروج تھے۔ چنانچہ حضرت انورؔ نے بحور و اوزان اور موضوعات کے انتخاب کے ساتھ صنائع بدائع وغیرہ کے استعمال میں بھی فارسی کی تقلید کی لیکن فن اور اسلوب کے اعتبار سے آپ اپنے دور  کے مزاج سے ہم آہنگ بھی ہیں۔ حضرت انورؔ کی شاعری کا خارجی پہلو صنائع بدائع کے ساتھ ساتھ دیگر شعری خصوصیات کا حامل ہے جن کی بنیاد پر انھیں ایک قادرالکلام شاعر کہا جاسکتا ہے۔ حضرت انورؔ کے اشعار میں صنائع بدائع کا استعمال بھی شعری حسن کو بڑھاتا ے اس لئے چند مروجہ صنعتوں کے تحت ان کے اشعار پیش کئے جاتے ہیں: 
حسنِ تعلیل:
یہ ایک لطیف صنعت ہے۔ اس کی حقیقت یہ ہے کہ شاعر ایک ایسی چیز کو کسی چیز کی علّت فرض کرتا ہے جو درحقیقت اس کی علّت (وجہ) اور اس میں لطافت اس وقت پیدا ہوجاتی ہے جب وہ وصف جس کی کہ علت بیان کرنی ہے تخیل (خیالات) پر مبنی ہو۔ (۲۵) مثلاً حضرت انورؔ کا یہ شعر:
یہاں آتے ہی رو دیا بے تکلف
جدائی کا ہوتا ہے غم پہلے پہلے
یعنی بچے کے پیدا ہوتے ہی یہاں رونے کی یہ علّت بتائی کہ عدم یعنی عالم روحانیت بچھڑنے کے غم میں روتا ہے۔
کہیں شوریدگی میں دل نہ بھٹکے اس لئے اس کو
کسی کی زلف کا ہم بستۂ زنجیر رکھتے ہیں
حضرت انورؔ نے دل کے بھٹکنے کی علت شوریدگی یعنی دیوانگی کو قرار دیا ہے اور زلف کہہ کر مراد کسی سلسلۂ طریقت سے وابستہ ہوجانا لیا ہے تاکہ بھٹکنے سے بچ جائے۔ 
مراعات النظیر(رعایت لفظی):
مراعات النظیر کو تناسب یا توفیق بھی کہتے ہیں، لیکن اصطلاح میں مراعات النظیر سے مراد کلام میں ایسے الفاظ کو یکجا کرنا جن میں باہم مناسبت ہو اور یہ مناسبت تضاد اور تقابل کی نہ ہو۔ (۲۶)
شبلی نعمانی کے نزدیک ، الفاظ کی رعایت کو بھی کہتے ہیں، یہ وہی صنعت ہے جو آج بھی عوام کا سرمایہ ناز ہے ۔ (۲۷)
حضرت انورؔ کے کلام میں مراعات النظیر کی مثالیں مل جاتی ہیں:
ہوئے کیا وہ سب کس نے چن چن کے توڑے
تھے گلشن میں گل باغباں کیسے کیسے
عشاق کے دلوں کو پھنسانے کا دام ہے
ہر تار موئے زلف گرہ گیر ایک ایک
صنعتِ تضاد : 
شعر میں ایسے الفاظ کا استعمال ایک ساتھ کیا جائے جس میں معنی کے اعتبار سے تضاد پایا جائے جیسے آگ اور پانی عرش اور فرش وغیرہ ۔ (۲۸)
حضرت انورؔ نے اپنے کلام میں صنعت تضاد کو اکثر برتا ہے، کہیں تضاد لفظی اور کہیں تضاد معنوی کو انھوں نے بے ساختگی کے ساتھ استعمال کیا ہے، صوفیہ کرام کا ایک اصول ہے کہ تعرف الاشیاء بأضداد ہا یعنی چیزیں ان کی اپنی ضد سے پہچانی جاتی ہیں۔ اس لئے اہل معرفت کے نزدیک حق کی پہچان تضاد کے بغیر ممکن نہیں۔ حضرت انورؔ عارف باللہ بھی کہلاتے ہیں ان کے کلام میں تضاد کی مثالیں اکثر و بیشتر ملتی ہیں جیسے :
جہاں میں ہیں جلوے عیاں کیسے کیسے
ہیں اسرار دل میں نہاں کیسے کیسے
ہوئی خانۂ دل کی تعمیر مٹ کر
بنے لامکاں میں مکاں کیسے کیسے
کنارے تعلق کے پابندیوں سے
تھے آزاد شکل عدم پہلے پہلے
سیر عارف کی بدایت ہے نہایت کا مقام
دائرہ میں نہیں آغاز ہے انجام سے دور
مراد ونامرادی عاشقوں کے پاس ہے یکساں
وہ کب تعجیل کا شوق اور غم تاخیر رکھتے ہیں
ذرا دیکھو انورؔ کہ انوارِ غیبی
نہاں کس قدر ہیں عیاں کیسے کیسے
ایہام :
ایہام کے معنی یہ ہیں کہ ایک لفظ کے دو معنی ہوں، ایک معنی مراد ہوں اور دوسرے معنی مراد نہ ہوں، لیکن مقدم اور موخر الفاظ سے اس کو مناسبت ہو۔ (۲۹) مثلاً حضرت انورؔ کا یہ شعر : 
جنگ جو ہے براں ہے دست یار میں شمشیر
پر یہ عیب ہے چل کر تاگلو نہیں آتی
اس شعر میں ’’چل‘‘ کا لفظ استعمال کرکے حضرت انورؔ نے ایہام یعنی وہم کی کیفیت پیدا کردی کہ محبوب ابھی فن میں ناقص ہے کہ تلوار چلانا آتا تو ہے لیکن اس کی شمشیر براں کی پہنچ عاشق کی گردن تک نہیں ہوتی یعنی وہ ابھی اپنے فن میں خام ہے۔
ڈاکٹر جمیل جالبیؔ کا خیال ہے کہ ایہام کا عمل جہاں مصنوعی اور شعوری ہے وہاں حد درجہ ہنر مندی کا بھی طالب ہے، ذرا سی لغزش سے معنی کا رشتہ ٹوٹ کر شعر کو بے ربط بنا سکتا ہے(۳۰)
ڈاکٹر جالبی مزید لکھتے ہیں:
’’ایہام کے معنی یہ ہیں کہ وہ لفظ ذو معنی ہو جس پر شعر کی بنیاد رکھی گئی ہے شعر میں شاعر کی مراد معنی بعید سے ہو قریب سے نہیں‘‘۔ (۳۱)
اس سلسلے میں حضرت انورؔ کا دوسرا شعر ملاحظہ ہو:
زلف کے دام میں دانا بھی پھنسے جاتے ہیں
کون ایسا ہے بھلا جور ہے اسلام سے دور
یہاں دوسرے مصرعے میں ’’اسلام‘‘ کا لفظ اصل میں اس لام ہے اور لام سے مراد ’’زلف‘‘ کا لام ہے جو پہلے مصرعے میں موجود ہے۔ اب مطلب یہ ہوا کہ زمانہ میں ہر کوئی ’’زلف‘‘ کے اس ’’ل‘‘ میں پھنسا ہوا ہے اور نزاکت یہ کہ دانا شخص اسلام کی اہمیت سے انکار بھی نہیں کرسکتا۔ ممکن ہے حضرت انورؔ کو یہ اشارہ شرف الدین علی خاں پیام اکبرآبادی متوفی ۱۱۵۷ھ کے اس شعر سے ملاحظہ ہو:
لام نستعلیق کا ہے اس بت کافر کی زلف
ہم تو کافر ہیں اگر بندے نہ ہوں اسلام کے (۳۲)
لف ونشر: 
’’لف‘‘ کے لغوی معنی لپیٹنا اور نشر کے معنی پھیلانا ہے اور اصطلاح میںلف سے مراد چند چیزوں کاجمع کرنا اور نشر کا مطلب ان چیزوں کے مناسبات کو بلاتعین بیان کرنا ۔
(۲۳) لف و نشر کہیں مرتب ہوتا ہے یعنی لف کی ترتیب سے نشر کی ترتیب ہوتی ہے اور کبھی غیر مرتب یعنی مناسبات کاذکر بلاترتیب ہوتا ہے۔
حضرت انورؔ کے کلام سے لف و نشر مرتب کی مثالیں:
مراد و نامرادی عاشقوں کے پاس ہے یکساں
وہ کب تعجیل کا شوق اور غم تاخیر رکھتے ہیں
عارف کو فہم آیۂ تخلیق کے لئے
اوراقِ گل ہیں نسخۂ تفسیر ایک ایک
لف و نشر معکوس الترتیب یا غیر مرتب کی مثالیں:
کماں کے سامنے چلے کاجھکنا دامِ مقصد ہے
 (پیر)    (مرید)
جوانانِ سعادت مند قدرِ پیر رکھتے ہیں
(مرید)          (پیر)
زلف و رخسار کا ہر وقت جو رہتا ہے خیال
صبحِ عاشق نہیں رہتی ہے کبھی شام سے دور
تجاہلِ عارفانہ:
کسی چیز کے جاننے کے باوجود شاعر کاکسی خاص نکتے کی وجہ سے لاعلمی ظاہر کرناجیسے حضرت انورؔ کایہ شعر کہ
خود سروں کے وہ قصے کہتے ہیں
وہ ہمارا ہی ماجرا تو نہیں
تلمیح:
کلام میں کسی آیت ، حدیث ،مشہور شعر یا ضرب المثل کسی مسئلہ یا اہم واقعہ کی طرف اشارے کرناتلمیح کہلاتا ہے(۳۴) جیسے مولانا انواراللہ انورؔ نے منصور کے نعرہ ’’انا الحق‘‘ اور سولی کے واقعہ کیطرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں:
زندگی سولی پہ منصور نے کاٹی الحق
اہلِ تحقیق کو ہے دارِ اماں دار کے پاس
حضرت انورؔ کے کلام سے چند نادر لطیف تشبیہیں اور استعارے ملاحظہ ہوں:
کون جانے دے ہمیں انجمنِ یار کے پاس
مثلِ سایہ کے پڑے رہتے ہیں دیوار کے پاس
جس کو دل جمعی میسر ہو جہاںمیں انورؔ
مثلِ مرکز رہے وہ گردشِ ایام سے دور
کسی کی زلف کہہ کر سلسلہ طریق سے استعارہ بڑی خوبی سے باندھا ہے۔مثلاً
کہیں شوریدگی میںدل نہ بھٹکے اس لئے اس کو
کسی کی زلف کا ہم بستۂ زنجیر رکھتے ہیں
عشاق کے دلوں کو پھنسانے کا دام ہے
ہر تار موئے زلفِ گرہ گیر ایک ایک
استعارہ بالکنایہ کے لئے یہ شعر بہت خوب ہے:
سرِ تسلیم جن کا طاق ابرو میں ہے خم انورؔ
سرِ سجدہ کو وہ غرق نمِ تشویر رکھتے ہیں
اور کنایہ کی بہترین مثال کے لئے یہ شعر ملاحظہ ہو :
خوش بیانیاں ساری غائبانہ آتی ہیں
ایک بات بھی لب تک روبرو نہیں آتی
حضرت انورؔ کے کلام میں تشبیہ، استعارہ، کنایہ کے ساتھ ساتھ تمثیلی اظہار بھی خوب ہے۔ خاص کر مرکز اور دائرے کی تمثیل کا اظہار اپنے مختصر سے اردو اشعار میں کئی جگہ کیا ہے، مثلاً 
سیر عارف کی بدایت ہے نہایت کا مقام
دائرہ میں نہیں آغاز ہے انجام سے دور
یعنی ہر آغاز میں ہی اس کی اپنی انتہا شامل ہے گویا ہر حقیقت اپنی انتہا میں اپنے ہی آغاز کی طرف لوٹتی ہے لیکن یہ بات یہاں واضح رہے کہ نقطہ کا یہ سفر اپنے مرکز کے اطراف ہی ہے اور جب کوئی نقطہ اپنے سفر میںکسی مرکز کاتابع نہیں ہوتا تو اس کی انتہا کا کوئی انجام نہیں ہوتا اور جس کا انجام نامعلوم رہتا ہے منزل مقصود تک نہیں پہنچ سکتا اور بالآخر بھٹکنا ہی اس کامقدر بن جاتا ہے۔ دائرہ کی تمثیل کو انہوں نے کئی معنوں میںاستعمال کیا ہے جیسے۔
۱۔ دائرہ جو محیط اور مرکز سے عبارت ہے۔
۲۔ محیط نقطہ کا وہ سفر جو اپنے مرکز کے اطراف کرتا ہے
۳۔ مرکز جس کے بغیر دائرہ کا تصور ممکن ہی نہیں
۴۔ مرکز اور محیط ایک دوسرے کے بغیر جن کا وجود نہیں، محیط کے بغیر مرکز محض نقطہ ہے اور مرکز کے بغیر محیط صرف خط ہے جس کی کوئی سمت نہیں۔اس تمثیل کے ذریعہ انہوں نے روحانی سطح پر احدیت اور نیابت کے مسئلہ کی تشریح کی ہے اور اس کے ساتھ بشریت اور اطاعت کے تقاضوں کو بھی سمجھایا ہے کہ بندہ اپنے نقطہ آغاز سے اپنے انجام کو پہنچ کر مکمل محیط بن جانے کے باوجود بھی مرکز میں یعنی خدا میں ضم نہیں ہوسکتا اور مرکز محیط نہیں بن جاتا، چنانچہ یہیں پر محی الدین ابن عربی کی تعلیم واضح ہوجاتی ہے کہ بندہ کتنی ہی ترقی کرلے خدا نہیں ہوتا اور خداکتنا ہی بندہ سے قریب ہوجائے بندہ نہیں ہوتا۔
اس کی تمثیل کو مادی سطح پر بھی حضرت انورؔ نے علائق دنیوی سے خود کو دور رکھنے کی تعلیم کے لئے استعمال کیا ہے۔ جس طرح دائرہ کے بنانے میں مرکز کا اہم رول ہے اور مرکز کی خصوصیت ہے کہ وہ دائرہ میں ضم نہیں ہوتا۔ اسی طرح اس مادی دنیاکی ساری سرگرمیاں اپنی باقی ذات سے جڑی ہوئی ہیں ملی ہوئی نہیں۔ حضرت انورؔ کے یہاں مومن کو جب دل جمعی حاصل ہوجاتی ہے تو وہ مرکز کی طرح دنیوی علائق سے متعلق ہوکر بھی دور رہتا ہے۔ یعنی وہ اپنی ذات سے ان سرگرمیوں میں معنویت پیدا کرتا ہے مگر خود اس میں ملوث نہیں ہوتا۔ اس کی ذات سے یہ سرگرمیاں جلاپاتی ہیں، لیکن وہ خود ان میں ضم نہیں ہوجاتا بلکہ آزاد رہتا ہے جیسے:
جس کو دل جمعی میسر ہو جہاں میں انورؔ
مثلِ مرکز رہے وہ گردشِ ایام سے دور
حضرت انورؔ کے یہاں دائرہ کی یہ تمثیل اور اس کا اظہار بہت نادر ہے اور تازہ بھی۔ اس کے علاوہ اردو شاعری میں فارسی اور عربی زبان کے الفاظ اس طور پر انہوں نے استعمال کئے ہیں کہ قاری پر گراں نہیں گزرتے۔ خصوصاً قافیوں کے استعمال میں ان کے یہاں یہ رجحان زیادہ ہے جیسے:
قافیہ
’’تشویر‘‘
شمیم الانوار
ص ۳۱
ایضا
’’ارمغاں‘‘
ایضا
ایضا۲۶
ایضا
’’تزویر‘‘
ایضا
ایضا۲۸
ایضا
’’خمار‘‘
ایضا
ایضا۳۲
جدید تراکیب:
مولانا انواراللہ انورؔ کو عربی اور فارسی زبان پر عبور حاصل تھا، اس لئے انہوں نے ایسی تراکیب بھی ایجاد کی ہیں جو مفہوم کئی جملوں میں ادا نہیں ہوسکتا وہ ان چند الفاظ سے ادا ہوجاتا ہے۔ان مرکب الفاظ کو حضرت انورؔ نے بڑے سلیقے سے باندھا ہے جس سے زبان کالطف بھی ملتا ہے۔یہ خصوصیت دراصل غالبؔ اور مومنؔ کے زمانے میں عام ہوئی اور جن شعراء کو عربی و فارسی زبان پر قدرت حاصل نہیں وہ اس خصوص میں ناکام رہے۔ مگر حضرت انورؔ کی کامیابی نمایاں ہے۔ چند شعر ملاحظ ہوں:
مژگاں ہیں عاشقوں کے لئے تیر ایک ایک
اور تار موئے زلف ہے زنجیر ایک ایک
٭٭٭
ہاتھ آئے جس کو سلسلۂ زلفِ عنبریں
توڑے تعلقات کی زنجیر ایک ایک
٭٭٭
زردی رنگ وآہ و فغاں اشک و لاغری
ہے عشق جاں گداز کی تاثیر ایک ایک
٭٭٭
طلوعِ مہرِ درخشاں کو ہے لازم سب پہ روشن ہے
کہ سایہ خود بخود ہوتاہے کم آہستہ آہستہ
٭٭٭
رحم و اظہار وفا خوئے دلارام سے دور
صبر آسودہ دلی عاشقِ ناکام سے دور
٭٭٭
زلف و رخسار کا ہر وقت جو رہتا ہے خیال
صبح عشق نہیں رہتی ہے کبھی شام سے دور
٭٭٭
قصور اپنا ہے ورنہ ساکنان شہر خاموشاں
زبانِ حال پر ہر قسم کی تقریر رکھتے ہیں
٭٭٭
سرِ تسلیم جن کاطاقِ ابرو میں ہے خم انورؔ
سرِ سجدہ کو وہ غرقِ نمِ تشویر رکھتے ہیں
٭٭٭
دردِ دل وابھی اگر ہو تو ہے تہمت نفس
ہے عبادت کدہ یہ خانۂ خمّار کے پاس
٭٭٭
حال عاشق کے ہے پہچانے میںتار برقی
یک ہے دور و قریب آہِ شرر بار کے پاس
٭٭٭
عارف کو فہم آیۂ تخلیق کے لئے
اوراقِ گُل ہیں نسخہ تفسیر ایک ایک
٭٭٭
انوراؔ اہل زمیں نے کیا طاعت میں قصور
اس لئے عادتِ آثارِ سما بدلی ہے
٭٭٭
خنجرِ ابرو سے اب لیجئے مدد
تیغِ براں کی روانی دیکھ لی
٭٭٭
ان مذکورہ تراکیب کے علاوہ حضرت انورؔ حیدرآبادی نے لفظ ’’مہوس‘‘ کو اردو میںکیماگر کے معنی میں استعمال کیا ہے جو اردو شاعری میں کمیاب ہے۔ شعر یہ ہے:
طیبہ کی سرزمیں کی مہوس کوقدر کیا
خاشاک و خاک واںکی ہے اکسیر ایک ایک
رشید حسین خان کی تحقیق ہے کہ فرہنگ آصفیہ میں ’’مہوس‘‘ کو کیماگر کے معنی میں ’’اردو‘‘ لکھا گیا ہے، یہ درست ہے کیماگر کے معنی میں یہ اردو نژاد ہے اور خواجہ میر دردؔ قائمؔ اور میرؔ سوز نے اس لفظ کو کیماگر کے معنی میں استعمال کیاہے(۳۵)
مولانا انواراللہ انورؔ نے مشہور شعراء کے رنگ میں بھی اشعار کہے ہیں: مثلاً
درد مندوں سے تمہیں دورپھرا کرتے ہو کچھ
پوچھتے ورنہ سبھی آتے ہیں بیمار کے پاس 
  (میرتقی میرؔ)( ۳۶) 
مند گئیں کھولتے ہی کھولتے آنکھوں ہے ہے
خوب وقت ائے تم اس عاشق بیمار کے پاس
(غالبؔ)(۳۷)
چشم بیمار کی جانے دلِ بیمار ہی قدر
قدر بیمار ہوا کرتی ہے بیمار کے پاس
   (حضرت انورؔ)
دئے داغ نے امتحاں کیسے کیسے
مٹائے ہیں ان کے گماں کیسے کیسے
(داغؔ)(۳۸)
رہا وصل عشاق ہی کو مُسلّم
بظاہر تھے ان پر گماں کیسے کیسے
   (حضرت انورؔ)
شبِ فرقت میں اس کے مجھ کو مثل شمع سرتاپا
گھلاوے گا یہ مرا سوز غم آہستہ آہستہ
    (بہادر شاہ ظفرؔ)(۳۹)
زمانے تک رہا رونا عدم کے چھوٹ جانے پر
فرو ہوتا گیا پھر رنج وغم آہستہ آہستہ
  (حضرت انورؔ)
حضرت انورؔ کی شاعری کااسلوب:
حضرت انورؔ کے شعری سرمایے کے مطالعہ سے ہم اس نتیجہ پرپہنچتے ہیں کہ آپ ایک کہنہ مشق اور قادرالکلام شاعر ہیں اور ان کو زبان و بیان پر دست رس حاصل ہے۔ ان کی شاعری کاطرہ امتیاز ان کے یہاں زبان کی سلامت اور روانی ہے۔ فارسی کی بڑی بڑی تراکیب اور ثقیل الفاظ مشکل ہی سے نظر آئیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے اشعار پڑھنے سے قاری پرایک سرور کی کیفیت طاری ہوجاتی ہے۔ 
ان کی غزلوں کے اکثر و بیشتر اشعار مربوط ہوتے ہیں اور قطعہ بند کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے۔ ابتدائی دو دو تین تین اشعار تک یہ سلسلہ قائم رہتا ہے ایسے اشعار جب تک تسلسل کے ساتھ نہ پڑھے جائیں پورے معنی نہیں دیتے اور اس تسلسل میں نظم کی سی کیفیت بھی پیدا ہوجاتی ہے۔ زبان کی صفائی کے ساتھ ساتھ محاوروں کا رکھ رکھاؤ اور الفاظ کی رعایتیں بھی حضرت انورؔ کی خصوصیات میں سے ہیں جن کا ذکر گذشتہ صفحات میں کیا گیا ہے۔
زبان و بیان کے سلسلہ میں دورِ حاضر کے معتبر ادیب اور عظیم نقاد شمس الرحمن فاروقیؔ اپنے خط میں لکھتے ہیں:
’’علامہ انواراللہ انورؔ کے کلام میں کلاسیکی پختگی اور مشاقی قدم قدم پر نمایاں ہے، زبان نہایت ٹکسالی اور بامحاورہ ہے‘‘ (۴۰)
تمکینؔ کاظمی کاخیال ہے کہ مولانا (انواراللہ انورؔ) صاف اور بے عیب شعر کہتے ہیں (۴۱) کسی شاعر کا انداز بیان ہی اس میں وہ انفرادیت پیدا کرتا ہے جس کی بنا پر ہم اس کو پہچانتے اور یاد رکھتے ہیں، حضرت انورؔ کا اسلوب بیان سنجیدہ اور متین ہے۔ان کے لب و لہجہ میںموضوع اور مقصد کے علاوہ ان کی سیرت کو بھی بڑا دخل حاصل ہے۔
حضرت انورؔ نے تعلّی و تفاخر سے کام نہیں لیا۔ ان کے مقطعوں میں سلف و خلف کی پیروی نظر نہیں آتی۔ چونکہ ان کے مزاج میں سادگی اور شہرت سے دوری تھی جس کا پرتو ان کے کلام میں نمایاں طور پر دکھائی دیتا ہے۔
حضرت انورؔ شاعری کے تمام رجحانات سے واقف تھے اس لئے اردو غزل کی روایت کے پیش نظر صنعتوں کے اظہار کے لئے یا غزل کے فن کو ظاہر کرنے کے لئے عام فہم اور سلیس اشعار کہے جس کے لئے ایسا اسلوب اختیار کیا جو اپنے دور کا ترجمان ہوتے ہوئے بھی اپنی شناخت میں انفرادیت کا حامل ہے اور یہی ان کے کامیاب شاعر ہونے کی علامت ہے۔
٭٭٭
حواشی و حوالہ جات
نمبر شمار
نام مصنف؍مرتب
نام کتاب؍رسالہ
صفحہ نمبر
۱
ڈاکٹر سید محی الدین قادری زورؔ
داستان ادب حیدرآباد
24
۲
ایضاً
ایضاً
51
۳
ایضاً
ایضاً
86
۴
ایضاً
ایضاً
124
۵
ایضاً
ایضاً
173
۶
ایضاً
ایضاً
236
۷
ایضاً
ایضاً
241
۸
ماہر القادری
یادرفتگان (جلد دوم)
332
۹
ڈاکٹر سید محی الدین قادری زورؔ
داستان ادب حیدرآباد
248
۱۰
ایضاً
ایضاً
253
۱۱
مولانا محمد انواراللہ فاروقی
انوار احمدی (تمہید مصنف)
ط
۱۲
مفتی محمد رکن الدین 
مطلع الانوار
24
۱۳
محمد اکبر الدین صدیقی
مشاہیر قندھار
100
۱۴
مولانا محمد انواراللہ فاروقی
انوار احمدی (منظوم متن)
317
۱۵
محمد طاہر فاروقی۔ایم اے
سیرت اقبال
111
۱۶
ڈاکٹر سید محی الدین قادری زورؔ
داستان ادب حیدرآباد
270
۱۷
مولانا انواراللہ فاروقی
انوار احمدی (تمہید مصنف)
ط
۱۸
ڈاکٹر سید محی الدین قادری زورؔ
داستان ادب حیدرآباد
166
۱۹
ڈاکٹر نور الحسن نقوی
اقبال فن اور فلسفہ
44
۲۰
طاہر فاروقی
سیرت اقبال
162
۲۱
بہادر شاہ ظفر
انتخاب کلام (مرتبہ عتیق رحمانی)
59
۲۲
ڈاکٹر یعقوب عمر
درس بلاغت (مضمون صنائع لفظی)
76
۲۳
مولاناالطاف حسین حالیؔ
مقدمہ شعر وشاعری
165
۲۴
ڈاکٹر جمیل جالبیؔ
تاریخ ادب اردو (جلد اول)
555 
۲۵
علامہ شبلی نعمانی
موازنہ انیس و دبیر
120
۲۶
وہاب اشرفی
تفہیم البلاغت
187-188
۲۷
علامہ شبلی نعمانی
موازنہ انیس و دبیر
122
۲۸
ابوالفیض سحرؔ
(مضمون درس بلاغت)
52
۲۹
علامہ شبلی نعمانی
موازنہ انیس و دبیر
115
۳۰
ڈاکٹر جمیل جالبی
تاریخ ادب اردو (جلد دوم حصہ اول)
220-221
۳۱
ایضاً
ایضاً
191
۳۲
ایضاً
ایضاً
132
۳۳
وہاب اشرفی
تفہیم البلاغت
152-153
۳۴
محمد عبیداللہ الاسدی
تسہیل البلاغہ
204-205
۳۵
رشید حسن خان
زبان اور قواعد زبان
142-143
۳۶
میر تقی میرؔ
انتخاب میر (مرتبہ عمادالملک سید حسین بلگرامی)
43
۳۷
مرزا اسداللہ خان غالبؔ
دیوان غالبؔ (مقدمہ نورالحسن نقوی)
102
۳۸
نواب مرزا خان داغؔ دہلوی
دیوان داغؔ (مرتبہ ڈاکٹر محمد علی زیدی)
154
۳۹
بہادر شاہ ظفرؔ
انتخاب کلام ظفرؔ (مرتبہ عتیق رحمانی)
59
۴۰
شمس الرحمن فاروقی
شخصی مکتوب مورخہ ۲۲؍ اکتوبر ۱۹۹۳ء
۴۱
تمکینؔ کاظمی
نقوش کا شخصیات نمبر(۲) (مضمون) اکتوبر ۱۹۵۶ء
1263
٭٭٭
error: Content is protected !!