Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

خواتین کے لیے ہدایت

۞ خواتین کا احرام یہ ہے کہ وہ ایک پاک صاف کپڑے سے اپنے سر کو چھپائیں، چاہیں تو باندھ لیں۔
۞ جیسی سہولت ہو وہ لباس پہن لیں بہتر یہ ہے کہ اپنے لباس پر ایک ایسا موٹا د بیزگاؤن (گردن تا پیر) جسے عبایا بھی کہتے ہیں زیب تن کریں پھر سر سے ایک چادر (اوڑھنی کے طور پر) نصف دھڑ تک ڈال لیں تاکہ اعضاء کہیں سے ظاہر یا نمایاں نہ ہوں۔
۞ چہرہ کھلا رکھیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ چہرہ کو بے پردہ کریں۔ بلکہ مطلب یہ ہے کہ چہرہ پر کپڑا نہ لگے یعنی مس نہ ہو سر پر اگر فلیٹ نما پی کیپ لگا کر اوپر سے نقاب ڈالا جائے تو پردہ بھی ہو جاتا ہے اور چہرہ سے کپڑا مس نہیں ہوتا۔
۞ اگر ایسا کرنا ممکن نہ ہو تو ہینڈ بیگ جو کندھے پر ہوں اسے ہاتھ میں لے کر نامحرموں سے پردہ کیا جاسکتا ہے۔
۞ کتاب اور دستی پنکھے کی مدد سے بھی پردہ کیا جاسکتا ہے۔ خواتین دستانے، موزے پہن سکتی ہیں اور ایسا جوتا یا چپل بھی پہن سکتی ہیں کہ جس سے پیر کی ابھری ہوئی ہڈی (یعنی تسمہ کی جگہ) چھپ جائے اس میں کوئی حرج نہیں۔
۞ زیور بھی استعمال کرسکتی ہیں۔ مگر دوران طواف اور سعی اور ایام حج میں کانچ کی چوڑیاں پہننے سے گریز کریں۔
۞ رنگین لباس زیب تن کرسکتی ہیں۔
۞ تلبیہ آہستہ آواز میں کہیں۔
۞ طواف میں رمل، دوران سعی میلین اخضرین میں دوڑنے سے مستثنیٰ ہیں۔
error: Content is protected !!