Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

نماز مسافر

مسافر وہ شخص ہوتا ہے جو کم از کم (57) ستاون میل کے سفر کے ارادے سے اپنی بستی سے باہر نکل چکا ہو۔ اس پر واجب ہے کہ فقط فرض نماز میں قصر کرے۔ یعنی چار رکعت والے فرض کو دو پڑھے۔ اس کے حق میں دو رکعتیں ہی پوری نماز ہے۔ اگر سہواً یا قصداً چار پڑھے اور دو کے بعد قعدہ کرے تو فرض ادا ہو جائے گا اور پچھلی دو رکعتیں نفل ہو جائیں گی۔ مگر قصداً چار پڑھنے والا سخت گنہگار ہے۔ اس پر توبہ لازم ہے۔ اگر مقیم نے مسافر امام کے پیچھے نماز پڑھی تو امام کے سلام کے بعد وہ اپنی دو رکعتیں پوری کرے گا مگر ان دونوں رکعتوں میں فاتحہ نہیں پڑھے گا بلکہ بقدر فاتحہ خاموش کھڑا رہے گا اور باقی معمول کے مطابق ادا کرے گا اور اگر مسافر، مقیم امام کے پیچھے نماز پڑھے گا تو پوری چار رکعت نماز پڑھے گا چاہے التحیات ہی میں آکر ملا ہو، مسافر جب تک اپنی بستی میں نہ آئے مسافر ہے اور جس شہر یا بستی میں جائے اگر وہاں پندرہ روز سے کم رہنے کی نیت ہو تو قصر پڑھے۔ قصر صرف چار رکعت والے فرضوں میں ہے۔ سنت، وتر میں قصر نہیں۔ سفر میں سنتیں مکمل پڑھی جائیں۔
error: Content is protected !!