Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

ابوجہل اور خدا کے سپاہی

ابوجہل نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کعبہ میں نماز پڑھنے سے منع کیا تھا اور وہ علانیہ کہا کرتا تھا کہ اگر میں نے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)کو نماز پڑھتے دیکھا تو اپنے پاؤں سے ان کی گردن کچل دوں گا اور ان کا چہرہ خاک میں ملا دوں گا۔ چنانچہ وہ اپنے اس فاسد ارادہ سے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو نماز پڑھتے دیکھ کر آپ کے قریب آیا مگر اچانک الٹے پاؤں بھاگا۔ ہاتھ آگے بڑھائے ہوئے جیسے کوئی کسی مصیبت کو روکنے کے لئے ہاتھ آگے بڑھاتاہے۔چہرے کا رنگ اُڑ گیا، اور بدن کی بوٹی بوٹی کانپنے لگی۔ اس کے ساتھیوں نے پوچھا کہ تمہارا کیا حال ہے؟ تو کہنے لگا کہ میرے اور محمد (علیہ الصلوٰۃ والسلام)کے درمیان ایک خندق ہے جس میں آگ بھری ہوئی ہے اور کچھ دہشت ناک پرند بازو پھیلائے ہوئے ہیں۔ اس سے میں اس قدر خوفزدہ ہو گیا کہ آگے نہیں بڑھ سکا اور ہانپتے کانپتے کسی طرح جان بچا کر بھاگا۔
نماز کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر ابوجہل میرے قریب آتا تو فرشتے اس کا ایک ایک عضو جدا کردیتے۔
    اس کے بعد بھی ابوجہل اپنی خباثت سے باز نہیں آیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھنے سے منع کرنے لگا۔ اس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سختی سے جھڑک دیا تو ابوجہل نے غصہ میں بھر کر کہا کہ آپ مجھے جھڑکتے ہیں؟ حالانکہ آپ کو معلوم ہے کہ مکہ میں مجھ سے زیادہ جتھے والا اور مجھ سے بڑی مجلس والا کوئی نہیں ہے۔ خدا کی قسم! میں آپ کے مقابلہ میں سواروں اور پیدلوں سے اس میدان کو بھردوں گا۔ اس کی اس دھمکی کے جواب میں سورہ”علق” یعنی سورہ اقراء کی یہ آیات نازل ہوئیں۔  (تفسیر خزائن العرفان،ص۱۰۷۷، پ۳۰، علق، رکوع :۱) خداوند قدوس نے ارشاد فرمایا۔
کَلَّا لَئِنۡ لَّمْ یَنۡتَہِ ۬ۙ  لَنَسْفَعًۢا بِالنَّاصِیَۃِ ﴿ۙ15﴾     نَاصِیَۃٍ کَاذِبَۃٍ خَاطِئَۃٍ ﴿ۚ16﴾      فَلْیَدْعُ نَادِیَہٗ ﴿ۙ17﴾ سَنَدْعُ  الزَّبَانِیَۃَ ﴿ۙ18﴾
ترجمہ کنزالایمان:۔ہاں ہاں اگر باز نہ آیا توہم ضرور پیشانی کے بال پکڑ کر کھینچیں گے کیسی پیشانی جھوٹی خطاکار اب پکارے اپنی مجلس کو ابھی ہم سپاہیوں کو بلاتے ہیں۔ (پ30،العلق:15۔18)
حدیث شریف میں ہے کہ اگر ابوجہل اپنی مجلس والوں کو بلاتا تو فرشتے اس کو بالاعلان گرفتار کرلیتے اور وہ ”زبانیہ” کی گرفت سے بچ نہیں سکتا تھا۔
        (تفسیر خزائن العرفان،ص۱۰۷۷، پ۳۰، علق: ۱۸)
درسِ ہدایت:۔ابوجہل جب تک زندہ رہا۔ ہمیشہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی دشمنی و ایذاء رسانی پر کمربستہ رہا۔ اور دوسروں کو بھی اس پر اُکساتا رہا۔ آخر قہر خداوندی میں گرفتار ہوا کہ جنگ ِ بدر کے دن دو لڑکوں کے ہاتھ سے ذلت کے ساتھ قتل ہوا اور اس کی لاش بے گوروکفن بدر کے گڑھے میں پھینک دی گئی۔ اس طرح تمام دشمنانِ رسول طرح طرح کے عذابوں میں مبتلا ہو کر ہلاک و برباد ہو گئے۔ سبحان اللہ۔
مٹ گئے مٹتے ہیں مٹ جائیں گے اعداتیرے
نہ  مٹا  ہے  نہ   مٹے  گا   کبھی  چرچا  تیرا
                  تو گھٹائے سے کسی کے نہ گھٹا ہے نہ گھٹے
  جب   بڑھائے   تجھے   اللہ  تعالی ٰ تیرا
عقل ہوتی تو خدا سے نہ لڑائی لیتے
یہ گھٹائیں اُسے منظور بڑھانا تیرا
                    (حدائق بخشش، حصہ اول، ص۲۷)
error: Content is protected !!