Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

(۱۹) تلاوتِ قرآن مجید

حدیث:۱
     عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُقَالُ لِصَاحِبِ الْقُرْاٰنِ اِقْرَأْ وَاَرْتَقِ وَرَتِّلْ کَمَا کُنْتَ تُرَتِّلُ فِی الدُّنْیَا فَاِنَّ مَنْزِلَکَ عِنْدَ اٰخِرِ اٰیَۃٍ تَقْرَأُھَا۔رواہ احمد والترمذی وابوداود والنسائی(1)
                     (مشکوٰۃ،ج۱،ص۱۸۶)
    عبداللہ بن عمرورضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے،انہوں نے کہاکہ رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ قرآن پڑھنے والے سے (جنت میں )کہا جائے گا کہ توقرآن پڑھتا جااور اُوپر چڑھتا چلا جا اور جس طرح تو دنیا میں ٹھہر ٹھہرکر پڑھتا تھا اسی طرح ٹھہر ٹھہر کر پڑھ جس جگہ تو آخری آیت پڑھے گا وہی تیری منزل ہے۔
اس حدیث کو امام احمد وترمذی و ابوداود و نسائی نے روایت کیا ہے۔
حدیث:۲
    عَنْ مُعَاذِنِ الْجُھَنِّیِّ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ وَعَمِلَ بِمَا فِیْہٖ اُلْبِسَ وَالِدَاہٗ تَاجًا یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ ضَوْءُ ہٗ اَحْسَنُ مِنْ ضَوْءِ الشَّمْسِ فِیْ بُیُوْتِ الدُّنْیَا لَوْکَانَتْ فِیْکُمْ فَمَا ظَنُّکُمْ بِالَّذِیْ عَمِلَ بِھٰذَا۔رواہ احمد وابوداود (1)  (مشکوٰۃ،ج۱،ص۱۸۶)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    حضرت معاذ جہنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو شخص قرآن کو پڑھے اور قرآن کے احکام پر عمل کرے تو اس کے ماں باپ کو قیامت کے دن ایسا تاج پہنایا جائے گا جس کی روشنی دنیا میں سورج کی روشنی سے زیادہ اچھی ہوگی تو تمہارا اس شخص کے بارے میں کیا گمان ہے جو قرآن پر عمل کرے۔ اس حدیث کو امام احمد و ابوداود نے روایت کیا ہے۔
حدیث:۳
    عَنْ اَنَسٍ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ اَرَادَ اَنْ یَّنَامَ عَلٰی فِرَاشِہٖ فَنَامَ عَلٰی یَمِیْنِہٖ ثُمَّ قَرَءَ مِائَۃَ مَرَّۃٍ قُلْ ھُوَ اللہُ اَحَدٌاِذَاکَانَ یَوْمُ الْقِیٰمَۃِ یَقُوْلُ لَہُ الرَّبُّ یَاعَبْدِیْ اُدْخُلْ عَلٰی یَمِیْنِکَ الْجَنَّۃَ۔رواہ الترمذی(1)
                     (مشکوٰۃ،ج۱،ص۱۸۸)
    حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ جو شخص اپنے بچھونے پر سونے کا ارادہ کرے تو اپنی دا ہنی کروٹ پر سوئے پھر ایک سو مرتبہ قُلْ ھُوَاللہُ اَحَدٌ پڑھے تو قیامت کے دن اس سے اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اے میرے بندے! تو اپنی دا ہنی طرف سے جنت میں داخل ہوجا۔ اس حدیث کو ترمذی نے روایت کیا ہے۔
حدیث:۴


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سَمِعَ رَجُلًا یَقْرَأُ قُلْ ہُوَاللہُ اَحَدٌ فَقَالَ وَجَبَتْ قُلْتُ وَمَا وَجَبَتْ فَقَالَ الْجَنَّۃُ۔رواہ مالک والترمذی والنسائی(2)  (مشکوٰۃ،ج۱،ص۱۸۸)
    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے روایت کیاہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے ایک مردکو قُلْ ھُوَاللہُ اَحَدٌ پڑھتے ہوئے سناتوآپ نے فرمایاکہ واجب ہوگئی۔ تومیں نے کہاکہ کیاچیزواجب ہوگئی ؟توآپ نے فرمایاکہ جنت واجب ہوگئی۔
اس حدیث کوامام مالک اورترمذی اورنسائی نے روایت کیاہے۔
حدیث:۵
عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ  سَلَّمَ مَنْ قَرَأَ حَرْفًا مِّنْ کِتَابِ اللہِ فَلَہٗ بِہٖ حَسَنَۃٌ وَالْحَسَنَۃُ بِعَشَرِ أَمْثَا لِھَا لَا اَقُوْلُ ”الم” حَرْفٌ بَلْ اَلِفٌ حَرْفٌ وَلَامٌ حَرْفٌ وَمِیْمٌ حَرْفٌ۔رواہ الترمذی والدارمی(1)
                     (مشکوٰۃ،ج۱،ص۱۸۲)
    حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے اللہ عزوجل کی کتاب میں سے ایک حرف کو پڑھا اس کو ایک نیکی ملے گی اور یہ ایک نیکی دس نیکیوں کے برابر ہو گی۔ میں نہیں کہتا کہ ”الم” ایک حرف ہے بلکہ الف ایک حرف ہے اور لام ایک حرف ہے اور میم ایک حرف ہے۔ اس حدیث کو ترمذی و دارمی نے روایت کیا ہے۔
حدیث:۶
    عَنْ عَلِیٍّ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَیْکُمْ بِتَعْلِیْمِ الْقُرْآنِ وَکَثْرَۃِ تِلَاوَتِہٖ تَنَالُوْنَ بِہٖ الدَّرَجَاتِ الْعُلیٰ وَکَثْرَۃَ عَجَائِبِہٖ فِی الْجَنَّۃِ (2)
                     (کنز العمال،ج۲،ص۱۸۶)
    حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے  روایت ہے،انہوں نے کہاکہ رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا کہ قرآن کی تعلیم اور بکثرت اس کی تلاوت کو اپنے لیے لازم کرلو اس کے ذریعہ تم بڑے بڑ ے درجات اور اس کے عجائب کی کثرت کو جنت میں پاجاؤ گے۔

تشریحات و فوائد

 (۱)احادیث مذکورہ بالاسے ثابت ہوتاہے کہ قرآن مجیدکی تلاوت کرنے والاخصوصاً
جب کہ وہ قرآنی احکام پر عمل بھی کرتاہو،اللہ و رسول عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی طرف سے اس کے لیے جنت کی خوشخبری ہے۔
(۲) حدیث نمبر ۲ سے یہ معلوم ہوا کہ نہ صرف قرآن پڑھنے والے ہی کے لیے جنت کی گارنٹی ہے بلکہ اس کے ماں باپ کو بھی اللہ تعالیٰ بہشتی تاج پہنا کر ان دونوں کو بھی جنت عطا فرمائے گا۔
(۳) حدیث نمبر ۳ سے معلوم ہوا کہ قرآن کی ایک سورۃ قُلْ ھُوَاللہُ اَحَدٌ کو بستر پر سوتے وقت پڑھنے والے کو جنت کی بشارت مل گئی تو ظاہر ہے کہ جو پورا قرآن مجید اپنی زندگی میں سینکڑوں بارختم کریگاا س کوجنت کے درجات میں سے کتنا بڑادرجہ ملے گا۔ اللہ اکبر، اللہ اکبر۔


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

 (۴)قرآن مجید کی تلاوت کے آداب میں سے یہ بہت ہی اہم ہے کہ قرآن مجید کو باوضو قرآن مجید میں دیکھ کر پڑھے اور اس توجہ اور تصور کے ساتھ تلاوت کرے کہ میں خداعزوجل کے فرمانوں کوپڑھ رہاہوں اورگویاخداوندقدوس عزوجل مجھ سے کلام فرمارہا ہے۔دل میں اللہ تعالیٰ کی عظمت اور بزرگی کا تصور جمائے نہایت ہی تواضع و انکساری اور عاجزی کے ساتھ ہر آیت کو پڑھے۔ واضح رہے کہ قرآن مجید کو دیکھ کر پڑھنا زبانی پڑھنے سے زیادہ افضل ہے کیونکہ دیکھ کر پڑھنے میں آنکھوں اور زبان دونوں سے نیکی کماناہے اس لیے کہ جس طرح قرآن کو پڑھنا عبادت ہے اسی طرح قرآن کے حروف کو دیکھنا بھی عبادت ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1۔۔۔۔۔۔مشکاۃالمصابیح،کتاب فضائل القرآن،الفصل الثانی،الحدیث:۲۱۳۴،ج۱، ص۴۰۲
1۔۔۔۔۔۔مشکاۃالمصابیح،کتاب فضائل القرآن،الفصل الثانی،الحدیث۲۱۳۹،ج۱، ص۴۰۳
1۔۔۔۔۔۔مشکاۃالمصابیح،کتاب فضائل القرآن،الفصل الثانی،الحدیث:۲۱۵۹،ج۱، ص۴۰۶
2۔۔۔۔۔۔مشکاۃالمصابیح،کتاب فضائل القرآن،الفصل الثانی،الحدیث:۲۱۶۰،ج۱، ص۴۰۶
1۔۔۔۔۔۔مشکاۃالمصابیح،کتاب فضائل القرآن،الفصل الثانی،الحدیث۲۱۳۷،ج۱، ص۴۰۲
2۔۔۔۔۔۔کنزالعمال،کتاب الاذکا ر،الحدیث:۲۳۶۵،ج۱،ص۲۶۶بتقدیم وتاخیر فی بعض الفاظ
error: Content is protected !!