Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

سب سے بڑا ذخیرہ اندوز کون ؟

(7)۔۔۔۔۔۔امام طبرانی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے روايت کيا ہے کہ مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق وامین عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:”سب سے برا ذخيرہ اندوز وہ ہے کہ اگر اللہ عزوجل قيمتيں کم کر دے تو غمگين ہوتا ہے اور اگر قيمتيں زيادہ کر دے تو خوش ہوتا ہے۔”
       ( المعجم الکبیر ، الحدیث: ۱۸۶ ، ج ۲۰ ،ص ۹۵)
(8)۔۔۔۔۔۔ايک اور روايت ميں يوں ہے:”اگر قيمت کی کمی کا سنتا ہے تو اسے برا لگتا ہے اور قيمت کی زيادتی کا سنتا ہے تو اسے خوشی ہوتی ہے۔”      ( المعجم الکبیر ، الحدیث: ۱۸۶ ، ج۲۰ ،ص ۹۵)
(9)۔۔۔۔۔۔رحمتِ کونين، ہم غريبوں کے دِلوں کے چین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:”اہلِ مدائن اللہ عزوجل کی رضا کے لئے ذخيرہ کرتے، لہٰذا وہ نہ تو غذاء ذخیرہ کرتے اور نہ ہی قیمتیں بڑھاتے، پس جس نے ان پر 40دن تک کھانا روکے رکھا پھر صدقہ بھی کر ديا تو یہ اس کا کفارہ نہيں ہو سکتا۔”
( الترغیب والترھیب ،کتاب البیوع ، باب الترھیب من الاحتکار ، الحدیث: ۲۷۶۲، ج ۲ ،ص ۳۷۱)
(10)۔۔۔۔۔۔سیدنا رزين رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ سے مروی ہے:”ذخيرہ کرنے والے اور جانوں کو قتل کرنے والے قيامت کے دن ايک ہی درجے ميں اکٹھے کئے جائيں گے اور جس نے مسلمانوں کی مالی چيزوں ميں سے کسی کو مہنگا کيا اللہ عزوجل اسے قيامت کے دن ضرور بڑی آگ ميں عذاب دے گا۔”
( کنز العمال ،کتاب البیوع ،قسم الاقوال ، باب الثالث فی الاحتکاروا لتعسیر ، الحدیث: ۹۷۳۵/ ۹۷۳۳،ج ۴، ص ۴۲ )


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(11)۔۔۔۔۔۔سیدنا حسن بصری رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ سے مروی ہے:”حضرت سیدنا معقل بن يسار رضی اللہ تعالیٰ عنہ بيمار ہو گئے تو عبيداللہ بن زياد ان کی عيادت کے لئے تشريف لایا اور ان سے پوچھا:”اے معقل رضی اللہ تعالیٰ عنہ! کيا آپ جانتے ہیں کہ ميں نے کوئی حرام خون بہايا ہے؟” انہوں نے جواب دیا:”ميں نہيں جانتا۔” تو اس نے دوبارہ پوچھا:”کيا آپ جانتے ہیں کہ ميں نے مسلمانوں کی مالی چيزوں ميں سے کوئی چيز مہنگی کی ہے؟” تو انہوں نے کہا:”ميں نہيں جانتا۔” پھر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لوگوں سے ارشاد فرمایا:”اسے میرے پاس بٹھاؤ۔” اور اس سے ارشاد فرمایا:”اے عبيد اللہ! سنو، ميں تمہيں ايسی چيز بيان کرتا ہوں جو ميں نے تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم سے صرف ايک يا دو بار نہيں سنی ،ميں نے آپ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا:”جس نے مسلمانوں کی مالی چیزوں ميں کوئی دخل اندازی کی تا کہ وہ مہنگی ہو جائيں تو اللہ عزوجل اسے قيامت کے دن ضرور بڑی آگ کامزاچکھائے گا۔” اس نے پوچھا:”آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے يہ بات خودسرکارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم سے سنی؟”توآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشادفرمایا:”ہاں !ايک، دوسے بھی زيادہ مرتبہ۔”
(المسندللامام احمدبن حنبل،معقل بن یسار،الحدیث:۲۰۳۳۵،ج۷،ص۲۸۹)
(12)۔۔۔۔۔۔امام طبرانی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے معجم کبير اور معجم اوسط ميں يہ الفاظ نقل کئے:”اللہ عزوجل اسے قيامت کے دن ضرور بڑی آگ ميں دھکيلے گا۔”
   ( مجمع الزوائد کتاب البیوع ، باب الاحتکار ، الحدیث: ۶۴۷۸،ج۴ ، ص ۱۸۱)
(13)۔۔۔۔۔۔ امام حاکم رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے ان الفاظ سے مختصراً روايت کيا :”جس نے مسلمانوں کی مالی چيزوں ميں سے کسی چيز کو ان پر مہنگاکيا اللہ عزوجل اسے ضرور جہنم ميں سر کے بل نيچے گرائے گا۔”
( المستدرک،کتاب البیوع ، باب الجالب الی سوقنا کالمجاھد فی سبیل اللہ ،الحدیث: ۲۲۱۴ ، ج۲ ، ص۳۰۵)
(14)۔۔۔۔۔۔سرکارِ مدينہ، راحتِ قلب و سينہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:”مکہ مکرمہ ميں کھانا روکنا الحاد ہے۔”
(مجمع الزوائد،کتاب البیوع ، باب الاحتکار ، الحدیث: ۶۴۷۹،ج ۴ ، ص ۱۸۱)
(15)۔۔۔۔۔۔امام حاکم رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی روايت ميں ہے:”جس نے اس ارادے سے غلہ کی بندش کی کہ مسلمانوں کو مہنگا دے گا پس وہ نافرمانی کرنے والا ہے اور تحقيق اس سے اللہ عزوجل کا ذمہ اٹھ گيا۔”
( المستدرک،کتاب البیوع ، با ب لایحتکر الاخاطیئ ، الحدیث: ۲۲۱۱ ، ج۲ ، ص ۳۰۴)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

تنبیہ:

    ان صحيح احادیثِ مبارکہ کے ظاہر کی بناء پر اسے کبيرہ گناہوں ميں شمار کيا گيا ہے، ان ميں سے بعض ميں شديد وعيد ہے جيسے لعنت، اس سے اللہ عزوجل اور اس کے رسول صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کاذمہ اُٹھالینااور جذام اور افلاس ميں مبتلا ہوناوغیرہ، ان میں سے بعض اس کے کبيرہ ہونے پر دلالت کرتے ہيں ليکن عنقريب ”اَلرَّوْضَۃ” کے حوالے سے آئے گا کہ يہ صغيرہ ہے۔
error: Content is protected !!