Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

شب ِ قدر

شب ِ قدر بڑی برکت و رحمت والی رات ہے۔ اس رات کے مراتب و درجات کا کیا کہنا کہ خداوند قدوس نے اس مقدس رات کے بارے میں قرآن مجید کی ایک سورہ نازل فرمائی ہے جس میں ارشاد فرمایا کہ:۔
اِنَّاۤ اَنۡزَلْنٰہُ فِیۡ لَیۡلَۃِ الْقَدْرِ﴿1﴾ۚۖوَ مَاۤ اَدْرٰىکَ مَا لَیۡلَۃُ الْقَدْرِ ؕ﴿2﴾لَیۡلَۃُ الْقَدْرِ ۬ۙ خَیۡرٌ مِّنْ اَلْفِ شَہۡرٍ ؕ﴿ؔ3﴾تَنَزَّلُ الْمَلٰٓئِکَۃُ وَ الرُّوۡحُ فِیۡہَا بِاِذْنِ رَبِّہِمۡ ۚ مِنۡ کُلِّ اَمْرٍ ۙ﴿ۛ4﴾سَلٰمٌ ۟ۛ ہِیَ حَتّٰی مَطْلَعِ الْفَجْرِ ٪﴿5﴾
ترجمہ کنزالایمان:۔بے شک ہم نے اسے شب قدر میں اُتارا اور تم نے کیا جانا کیا شب قدر ، شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر اس میں فرشتے اور جبریل اُترتے ہیں اپنے رب کے حکم سے ہر کام کے لئے وہ سلامتی ہے صبح چمکنے تک۔(پ30،القد ر:1۔5)
یعنی شب ِ قدر وہ قدر و منزلت والی رات ہے کہ اس رات میں پورا قرآن مجید لوحِ محفوظ سے آسمان دنیا پر نازل کیا گیا اور اس ایک رات کی عبادت ایک ہزار مہینوں کی عبادت سے بڑھ کر افضل ہے۔ اس رات میں حضرت جبرئیل علیہ السلام ملائکہ کے ایک لشکر کے ساتھ آسمان سے زمین پر اترتے ہیں۔ یہ رات زمین و آسمان اور سارے جہان کے لئے سلامتی کا نشان ہے۔ غروبِ آفتاب سے طلوع فجر تک اس کے انوار و برکات کی تجلیاں برابر جلوہ افروز رہتی ہیں۔ 
روایت ہے کہ ایک دن حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بنی اسرائیل کے ایک عابد کا قصہ بیان فرمایا کہ اس نے ایک ہزار مہینے تک لگاتار عبادت اور جہاد کیا۔ صحابہ نے عرض کیا کہ یارسول اللہ! آپ کے امتیوں کی عمریں تو بہت کم ہیں۔ پھر بھلا ہم لوگ اتنی عبادت کیونکر کرسکیں گے؟ صحابہ کے اس افسوس پر آپ کچھ فکرمند ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے یہ سورہ نازل فرمائی کہ اے محبوب! ہم نے آپ کی امت کو ایک رات ایسی عطا کی ہے کہ وہ ایک ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔
          (تفسیر صاوی،ج۶، ص ۲۳۹۹، پ۳۰، القدر:۳)
مومنوں کو ملائکہ کی سلامی:۔روایت ہے کہ شب ِ قدر میں سدرۃ المنتہیٰ کے فرشتوں کی فوج حضرت جبرئیل علیہ السلام کی سرداری میں زمین پر اترتی ہے اور ان کے ساتھ چار جھنڈے ہوتے ہیں۔ ایک جھنڈا بیت المقدس کی چھت پر۔ اور ایک جھنڈا کعبہ معظمہ کی چھت پر۔ اور ایک جھنڈا طور سیناء پر لہراتے ہیں اور پھر یہ فرشتے مسلمانوں کے گھروں میں تشریف لے جا کر ہر اس مومن مرد و عورت کو سلام کرتے ہیں جو عبادت میں مشغول ہوں۔ مگر جن گھروں میں بت یا تصویر یا کتا ہو یا جن مکانوں میں شرابی یا خنزیر کھانے والا یا غسل جنابت نہ کرنے والا، یا بلاوجہ شرعی اپنی رشتہ داری کو کاٹ دینے والا رہتا ہو، ان گھروں میں یہ فرشتے داخل نہیں ہوتے۔  (تفسیر صاوی،ج۶، ص ۲۴۰۱، پ۳۰، القدر:۴)
     ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ ان فرشتوں کی تعداد روئے زمین کی کنکریوں سے بھی زیادہ ہوتی ہے اور یہ سب سلام و رحمت لے کر نازل ہوتے ہیں۔
              (تفسیر صاوی،ج۶، ص ۲۴۰۱، پ۳۰، القدر:۴)
شب ِ قدر کون سی رات ہے؟حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شب ِ قدر کو رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں یعنی اکیسویں ، تئیسویں ، پچیسویں، ستائیسویں اور انتیسویں راتوں میں تلاش کرو۔
 (بخاری شریف، کتاب الصوم، باب تحری لیلۃ القدر، ج۱،ص ۲۷۰، مسلم شریف، کتاب الصیام، باب فضل لیلۃ القد ر، ص ۳۶۹)
اس لئے بعض علماء کرام نے فرمایا کہ شب ِ قدر کی کوئی رات معین نہیں ہے لہٰذا ان پانچوں راتوں میں شب ِ قدر کو تلاش کرنا چاہے۔
مگر حضرت ابی بن کعب و حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہم اور دوسرے علماء کرام کا قول یہ ہے کہ شب ِ قدر رمضان کی ستائیسویں رات ہے۔ (تفسیر صاوی،ج۶، ص ۲۴۰۰، پ۳۰، القد ر) اور بعض علماء کرام نے بطور اشارہ اس کی دلیل یہ بھی پیش کی ہے کہ ”لیلۃ القدر” میں نو حروف ہیں اور ”لیلۃ القدر” کا لفظ اس سورہ میں تین جگہ آیا ہے اور نو کو تین سے ضرب دینے سے ستائیس ہوتے ہیں لہٰذا معلوم ہوا کہ شب ِ قدر رمضان کی ستائیسویں رات ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔  (تفسیر صاوی،ج۶، ص ۲۴۰۰، پ۳۰، القدر)
شب قدر کی نماز اور دعائیں:روایت ہے کہ جو شب ِ قدر میں اخلاصِ نیت سے نوافل پڑھے گا اس کے اگلے پچھلے سب گناہ معاف ہوجائیں گے۔
            (تفسیر روح البیان،ج۱۰، ص ۸۱۔۴۸۰، پ۳۰،القدر:۳)
 (۱)شب ِ قدر میں چار رکعت نماز نفل اس ترکیب سے پڑھے کہ ہر رکعت میں ”الحمد” کے بعدسورہ انا انزلناہ تین مرتبہ اور قل ھو اللہ پچاس مرتبہ پڑھے پھر سلام کے بعد سجدہ میں جا کر ایک مرتبہ سُبْحَانَ اللہِ وَالْحَمْدُلِلّٰہِ وَلَآ اِلٰہَ اِلاَّ اللّہُ وَاللہُ اَکْبَر پڑھے۔ پھر سجدے سے سر اٹھا کر جو دعا مانگے ان شاء اللہ تعالیٰ مقبول ہو گی۔  (فضائل الشہور والایام)
 (۲)حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر مجھے شب ِ قدر مل جائے تو میں کون سی دعا پڑھوں؟ تو ارشاد فرمایا کہ تم یہ دعا پڑھو۔
اَللّٰھُمَّ اِنَّکَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّیْ
 (سنن ابن ماجہ،کتاب الدعاء بالعفو و العافیۃ، ج۴،ص۲۷۳،رقم ۳۸۵۰ )
 (۳)ایک روایت میں ہے کہ جو شخص رات میں یہ دعا تین مرتبہ پڑھ لے گا تو اس نے گویا
شب ِ قدر کو پالیا۔ لہٰذا ہر رات اس دعا کو پڑھ لینا چاہے۔ دعا یہ ہے:
لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اللہُ الْحَلِیْمُ الْکَرِیْمُ سُبْحَانَ اللہِ رَبِّ السَّمٰوٰتِ السَّبْعِ وَرَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِیْم
 (۴)یہ دعا بھی جس قدر زیادہ پڑھ سکیں پڑھیں۔ یہ بھی حدیث میں آیا ہے، دعا یہ ہے:
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ الْعَفْوَ وَالْعَافِیَۃَ وَالْمُعَافَاۃَ الدَّائِمَۃَ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃ
error: Content is protected !!