Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

علوم و معارف کا نہ ختم ہونے والا خزانہ

قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی وہ جلیل القدر اور عظیم الشان کتاب ہے، جس میں ایک طرف حلال و حرام کے احکام ،عبرتوں اور نصیحتوں کے اقوال، انبیائے کرام اور گزشتہ امتوں کے واقعات و احوال، جنت و دوزخ کے حالات مذکور ہیں اور دوسری طرف اس کے باطن کی گہرائیوں میں علوم و معارف کے خزانوں کے بے شمار ایسے سمندر موجیں ماررہے ہیں جو قیامت تک کبھی ختم نہیں ہو سکتے۔ چنانچہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کی اس عظیم الشان جامعیت کا بیان فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ:
لاَ یَشْبَعُ مِنْہُ الْعُلَمَآءُ وَلاَ یَخْلَقُ عَنْ کَثْرَۃِ الرَّدِّ وَلاَ یَنْقَضِیْ عَجَائِبُہٗ
قرآنی مضامین کا احاطہ کر کے کبھی علماء آسودہ نہیں ہوں گے اور بار بار پڑھنے سے قرآن پرانا نہیں ہو گا اور قرآن کے عجیب و غریب مضامین کبھی ختم نہیں ہوں گے۔
        (مشکوٰۃ شریف، کتاب فضائل القرآن، الفصل الثانی، ص ۱۸۶)
چنانچہ حضرت سیدنا علی خواص رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ:
اِنَّ اللہَ تَعَالٰی اِطَّلَعَنِی عَلٰی مَعَانِیْ سُوْرَۃِ الْفَاتِحَۃِ فَظَھَرَلِیْ مِنْھَا مِائَۃَ أَلْفِ عِلْمٍ وَّاَرْبَعُوْنَ اَلْفِ عِلْمٍ وَتِسْعَمِائَۃٍ وَّ تِسْعُوْنَ عِلْمًا ط
بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھے سورۃ فاتحہ کے معانی پر آگاہ فرمایا تو ان میں سے ایک لاکھ چالیس ہزار نو سو ننانوے علوم مجھ پر منکشف ہوئے۔
 (الدولۃ المکیۃ، النظر الخامس فی دلائل المدعی من الاحادیث والاقوال والایات، ص ۷۹)
اسی طرح امام شعرانی علیہ الرحمۃ اپنی کتاب میزان میں تحریر فرماتے ہیں کہ:
قَدِ اسْتَخْرَجَ اَخِیْ اَفْضَلُ الدِّیْنِ مِنْ سُوْرَۃِ الْفَاتِحَۃِ مَائَتَیْ اَلْفِ عِلْمٍ وَّ سَبْعَۃً وَّاَرْبَعِیْنَ اَلْفِ عِلْمٍ وَّتِسْعَ مِائَۃٍ وَتِسْعَۃً وَّ تِسْعُوْنَ عِلْمًا
میرے بھائی افضل الدین نے سورۃ فاتحہ سے دو لاکھ سینتالیس ہزار نو سو ننانوے علوم نکالے ہیں۔
 (الدولۃ المکیۃ، النظر الخامس فی دلائل المدعی من الاحادیث والاقوال والایات، ص ۷۹)
ان روایتوں سے اچھی طرح واضح ہوتا ہے کہ قرآن مجید اگرچہ ظاہر میں تیس پاروں کا مجموعہ ہے لیکن اس کا باطن کروڑوں بلکہ اربوں علوم و معارف کا ایسا خزانہ ہے جو کبھی ختم نہیں ہوسکتا کسی عارف باللہ کا مشہور شعر ہے کہ!
جَمِیْعُ الْعِلْمِ فِی الْقُرْاٰنِ لٰکِنْ  
تَقَاصَرَ عَنْہُ اَفْہَامُ الرِّجَالِ
یعنی تمام علوم قرآن میں موجود ہیں لیکن لوگوں کی عقلیں ان کے سمجھنے سے قاصر و کوتاہ ہیں۔ الحاصل قرآن مجید میں صرف علوم و معارف ہی کا بیان نہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ قرآن مجید میں پوری کائنات اور سارے عالم کی ہر ہر چیز کا واضح اور روشن تفصیلی بیان ہے یعنی آسمان کے ایک  ایک تارے، سمندر کے ایک ایک قطرے ،سبزہ ہائے زمین کے ایک ایک تنکے، ریگستان کے ایک ایک ذرے، درختوں کے ایک ایک پتے، عرش و کرسی کے ایک ایک گوشے، عالم کائنات کے ایک ایک کونے، ماضی کا ہر ہر واقعہ، حال کا ہر ہر معاملہ ،مستقبل کا ہر ہر حادثہ قرآن مجید میں نہایت وضاحت کے ساتھ تفصیلی بیان کیا گیا ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ!
فَرَّطْنَا فِی الۡکِتٰبِ مِنۡ شَیۡءٍ
    ترجمہ کنزالایمان:۔ ہم نے اس کتاب میں کچھ اُٹھا نہ رکھا۔(پ7،الانعام:38)
لیکن واضح رہے کہ قرآن کی یہ اعجازی شان ہمارے تمہارے اور عام لوگوں کے لئے نہیں ہے بلکہ قرآن کی اس اعجازی شان کا کامل ظہور تو صرف حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مخصوص ہے اور صرف آپ ہی کا یہ معجزہ ہے کہ آپ نے قرآن مجید کے تمام مضامین و معانی کو تفصیلی طور پر جان لیا اور پورا قرآن نازل ہوجانے کے بعد کائنات عالم کی کوئی شے، ماضی و حال اور مستقبل کا کوئی واقعہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے پوشیدہ نہیں رہا اور آپ نے ہر غیب و شہادت کو تفصیلی طور پر جان لیا کیونکہ خداوند قدوس کا ارشاد ہے کہ:۔
 وَ نَزَّلْنَا عَلَیۡکَ الْکِتٰبَ تِبْیَانًا لِّکُلِّ شَیۡءٍ۔
ترجمہ کنزالایمان:۔ اور ہم نے تم پر یہ قرآن اُتارا کہ ہر چیز کا روشن بیان ہے۔(پ14،النحل:89)
پھر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے صدقے میں بعض اولیاء کرام اور علماء عظام کو بھی بقدر ظرف ان کے باطنی علوم و معارف سے حصہ ملا ہے جن میں سے کچھ کتابوں کے لاکھوں صفحات پر ستاروں کی طرح چمک رہے ہیں اور کچھ سینوں کے صندوق اور دلوں کی تجوریوں میں اب تک مقفل ہی رہ گئے ہیں جو آئندہ ان شاء اللہ تعالیٰ قیامت تک صفحات قرطاس پر جلوہ ریز ہوتے رہیں گے اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اس غیبی خبر وَلاَ تَنْقَضِیْ عَجَآئِبُہٗ کا وقتاً فوقتاً ظہور ہوتا رہے گا اور امت مسلمہ ان کے فیوض و برکات سے مستفیض و مالا مال ہوتی ہی رہے گی۔ بہرحال یہ یقین و ایمان رکھنا چاہے کہ ہم نے ”عجائب القرآن” اور ”غرائب القرآن” میں جو قرآن کے چند عجیب و غریب مضامین کا ایک مختصر مجموعہ تحریر کیا ہے اور ہم سے پہلے بہت سے علماء کرام نے مضامینِ قرآن پر ہزاروں کتابیں اور لاکھوں صفحات تحریر فرمائے ہیں، قرآن مجید کے علوم و معارف کے سامنے ان سب تحریروں کو وہ نسبت بھی حاصل نہیں جو ایک قطرہ کو دنیا بھر کے سمندروں سے اور ایک ذرہ کو تمام روئے زمین سے حاصل ہو، کیونکہ قرآن مجید تو علوم و معارف کا وہ خزانہ ہے جو کبھی ختم ہی نہیں ہو سکتا بلکہ قیامت تک علماء کرام اس بحر ناپیدا کنار سے ہمیشہ عجیب و غریب مضامین کے موتی نکالتے ہی رہیں گے اور ہزاروں لاکھوں کتابوں کے دفتر تیار ہوتے ہی رہیں گے۔
میں اگرچہ اس پر بہت خوش ہوں کہ قرآن کریم کے چند مضامین پر دو مختصر مجموعے لکھ کر میں ان علماء کرام کی جوتیوں کی صف میں جگہ پاگیا جنہوں نے اپنے نوکِ قلم سے قرآنی آیات کے ایسے ایسے در شہوار اور گوہر آبدار صفحات قرطاس پر بکھیر دیئے جن کی چمک دمک سے مومنین کے ایمان و عرفان میں ایسی تابانی و تابندگی پیدا ہو گئی جو قیامت تک روشن رہے گی مگر میں انتہائی متاسف اور شرمندہ ہوں کہ اپنی علمی کوتاہی اور کم فہمی کی وجہ سے اور پھر اپنی علالت کے باعث کچھ زیادہ نہ لکھ سکا اور نہ کوئی ایسی نادر بات لکھ سکا جو اہل علم کے لئے باعث ِ کشش و قابل مسرت ہو۔
بہرحال دعاگو ہوں کہ خداوند کریم بطفیل نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم میری اس حقیر خدمت کو قبول فرما کر اس کو مقبولیت دارین کی کرامتوں سے سرفراز فرمائے۔ (آمین)
تمت
وَصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی خَیرِ خَلْقِہٖ مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہٖ وَصَحْبِہٖ اَجْمَعِیْن 
برحمۃٖ وھو ارحم الراحمین
               ابتدائے تصنیف :یکم جمادی الاخری  ۱۴۰۳؁ھ 
               ختمِ تصنیف :۲۳/رمضان  ۱۴۰۴؁
                  عبدالمصطفیٰ الاعظمی عفی عنہ
error: Content is protected !!