Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

مسلمان خریدارو ں کی غلطی:

    ہندو مسلمان تاجر کو دیکھنا چاہتے ہی نہیں ۔ انہیں مسلمان کی دکان کانٹے کی طرح کھٹکتی ہے ۔بہت دفعہ دیکھا گیا ہے کہ جہاں کسی مسلمان نے دکان نکالی تو  آس پاس کے ہندودکانداروں نے چیز یں فوراً سستی کردیں وہ سمجھتے ہیں کہ ہم تو بہت کما بھی چکے اور آئندہ کمائیں گے بھی ۔دو چار مہینے اگر نہ کمایا تو نہ سہی ۔ مسلمان خریدار ایک پیسے کی رعایت دیکھ کر بنیوں پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ اپنے غریب بھائیوں پر نظر نہیں کرتے ۔ اگر ہندو کے ہاں پیسے کے چار پان مل رہے اور مسلمان کے ہاں تین تو مسلمان سے تین لو اور دل میں سمجھ لو کہ اگریہ مسلمان بھائی ہمارے گھر آتا تو اسے ایک پان کھلانا ہی پڑتا ۔ ہم نے ایک پان سے اس کی تو اضع ہی کردی ۔ دل میں کچھ گنجائش پیدا کرو ۔ دلی گنجائش سے قومیں بنتی ہیں۔
حکایت :مجھ سے ایک تا جر نے کہا کہ ایک انگریز میری دکان پر چھڑی خرید نے آیامیں نے نہایت نفیس جاپانی چھڑی پیش کی جس کی قیمت بارہ آنے تھی۔ اس نے چھڑی بہت پسند کی اور بہت خوش ہوا مگر جاپان کی مہر پڑھتے ہی جھنجھلا کر پٹک دی بو لا ڈیم جاپان ۔ انگلش مال لاؤ ۔ میں نے لندن کی بنی ہوئی معمولی چھڑی دی جس کی قیمت پورے تین رو پے تھی وہ بخوشی لے گیا ۔ یہ ہے قوم پر ستی کہ جاپانی سستا اور خوبصورت مال نہ لیا اور لندن کا بنا ہوا معمولی مال زیادہ قیمت سے لے گیا ۔ مسلمان خریدا ر اس سے عبرت پکڑیں ۔
error: Content is protected !!