Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

سیدناامام شافعی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا مؤقف:

سیدناامام شافعی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اور بعض دوسرے علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ اگرچہ بے نمازی کے عدمِ کفر کے قائل ہيں جبکہ وہ نماز چھوڑنے کو حلال نہ سمجھتا ہو مگر آپ اس بات کے بھی قائل ہیں کہ”ایک نماز کے ترک کی وجہ سے بھی اسے قتل کیا جا سکتا ہے بشرطیکہ اسے نماز کا حکم ديا گيا لیکن اس نے اس کو اتنا مؤخر کر دیا کہ وقت ہی گزر گيا اور اس نے نماز نہ ادا کی، پھر اسے دوبارہ نماز کے لئے کہا گيا اور اس نے انکار کر ديا تو تلوار کے ساتھ اس کی گردن مار دی جائے گی۔” (احناف کے نزدیک”قیدکیاجائے گا”)
تنبیہ3:
 (43)۔۔۔۔۔۔حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرعزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:”اپنی اولاد کو نماز کا حکم دوجب وہ سات برس کے (یعنی جب سمجھدار ) ہوجائیں اور نماز نہ پڑھنے پر مارو جبکہ وہ 10سال کے ہوں اور ان کے بچھونے علیحدہ کردو۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    ( سنن ابی داؤد،کتاب الصلاۃ ،متی یؤمر الغلام بالصلاۃ،الحدیث:۴۹۵،ص۱۲۵۹)
    علامہ خطابی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ارشاد فرماتے ہيں کہ يہ حدیثِ پاک بے نمازی کی سخت عقوبت پر دلالت کرتی ہے جبکہ وہ اسے کثرت سے چھوڑتا ہو،سیدنا امام شافعی علیہ رحمۃ اللہ الکافی کے بعض اصحاب اس حدیثِ پاک سے بے نمازی کے قتل پر استدلال کرتے ہوئے فرماتے ہيں :”جب نابالغ نماز نہ پڑھنے پر پٹائی کا مستحق ہے تو ثابت ہوا کہ بالغ ہونے کے بعد وہ ايسی عقوبت کا مستحق ہے جو پٹائی سے سخت تر ہو اور پٹائی کے بعد قتل سے زيادہ سخت کوئی سزا نہيں۔”
    اس ميں بھی وہی اعتراض ہے جو پچھلے کلام ميں تھا اور بے نمازی کے قتل کی ايک وجہ يہ بھی بيان کی گئی ہے کہ وہ تمام انبياء، ملائکہ اور مؤمنين کا مجرم ہے کيونکہ نماز ميں اس پر يہ کلمات کہنا لازم ہيں: ”اَلسَّلَامُ عَلَينا وَعَلٰی عِبَادِ اللہِ الصَّالِحِين يعنی سلامتی ہو ہم پر اور اللہ عزوجل کے نيک بندوں پر۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(44)۔۔۔۔۔۔سرکار ابد قرار، شافع روز شمار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”بندہ جب يہ کلمات(یعنی اَلسَّلَامُ عَلَينا وَعَلٰی عِبَادِ اللہِ الصَّالِحِين ) کہتا ہے تو يہ زمين و آسمان کے ہر نيک بندے تک پہنچ جاتے ہيں۔”
 ( صحیح ابن حبان،کتاب الصلاۃ ،باب صفۃالصلاۃ،الحدیث:۱۹۵۲،ج ۳،ص۲۰۵،”بلغت ”بد لہ” اصابت” )
مبارکہ سے استدلال کيا جائے کہ بے نمازی سے اللہ عزوجل اور اس کے رسول صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا ذمہ اٹھ جاتا ہے اور اس کا کوئی عہد نہيں کيونکہ يہ باتيں اس کا خون مباح ہونے ميں ظاہر يا صريح ہيں اورجب اس کا خون بہانا لازم ہوتواسے قتل کرنا لازم ہو گا، البتہ زکوٰۃ ترک کرنے پر قتل نہ کيا جائے گا کيونکہ زکوٰۃ زبردستی بھی لی جا سکتی ہے نہ روزہ ترک کرنے پر قتل کيا جاسکتا ہے کيونکہ اسے قيد کر کے اور مفطر اشياء روک کر روزہ رکھنے پر مجبور کيا جا سکتا ہے مثلاً کھانا اور پانی روک کر اسے کمرے ميں بند کر ديا جائے، لہٰذا جب اسے يقين ہو جائے گا کہ دن کے وقت اسے کھانے پينے کی اشياء ميسر نہيں ہو سکتيں تو وہ رات ميں نيت کرکے روزہ رکھ لے گا اور اسی طرح حج ترک کرنے پر بھی قتل نہ کيا جائے گا کيونکہ يہ بعد ميں ادا کرنے سے بھی ادا ہی ہو گا قضا نہ ہو گا اور اس کے انتقال کی صورت ميں اس کے ترکے سے حج کی قضا کی جا سکتی ہے جبکہ نمازکا معاملہ ان سب سے مختلف ہے، لہٰذا اس کے لئے قتل سے مناسب کوئی سزا نہيں اور جب زکوٰۃ کی وصولی کے لئے جنگ جائز ہے تو لوگوں کو نماز کی ادائیگی پر آمادہ کرنے کے لئے بے نمازی کو قتل کرنا بدرجہ اَولیٰ جائز ہے تا کہ وہ قتل کے خوف سے نماز پڑھنے لگے۔” ۱؎


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

۱؎ :ائمہ ثلاثہ امام شافعی،امام مالک،امام احمد بن حنبل رحمۃاللہ تعالیٰ علیہم کے نزديک بادشاہِ اسلام کو بے نمازی کے قتل کرنے کا حکم ہے جبکہ احناف رحمہم اللہ تعالیٰ فرماتے ہيں :” اسے قيد کيا جائے يہاں تک کہ توبہ کرے اور نماز پڑھنے لگے۔”         (ماخوذازبہار شريعت ج ۱،حصہ ۳،ص۹)
error: Content is protected !!