مقصد میں کا میابی

مقصد میں کا میابی

حضرت سیدنا عبداللہ بن سہل رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں،حضرت سیدنا حاتم اصم علیہ رحمۃاللہ الاکرم نے فرمایا: میں تقریباً تیس سال حضرت سیدنا شفیق بلخی علیہ رحمۃ اللہ القوی کی صحبت با بر کت میں رہا ، ایک دن انہوں نے مجھ سے پوچھا :”اے حاتم (علیہ رحمۃاللہ الاکرم) ! تم اتنے دن ہمارے ساتھ رہے ،تم نے کیا سیکھا؟” میں نے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہکی صحبت میں رہ کر جو اہم باتیں سیکھی تھیں، وہ بیان کرنی شروع کردیں کہ ”جب میں نے غور کیا تو معلوم ہوا کہ میرے رزق کا مالک اللہ ربُّ العزَّت ہے ،میرے حصے کا رزق اسی کی ملکیت میں ہے تو میں اللہ ربُّ العزَّت کے علاوہ تمام مخلوق سے بے نیاز ہوگیا ۔
پھر میں نے دیکھا کہ اللہ ربُّ العلمین نے مجھ پردو فرشتے مقرر فرمائے ہیں جو میری ہر بات کو لکھتے ہیں تو میں نے اپنے اوپر یہ بات لازم کرلی کہ حق کے سوا کچھ نہ بولوں گا۔ پھر میں نے غورکیاکہ مخلوق کی نظر ظاہر پر ہوتی ہے اورخالق عزوجل انسان کی باطنی کیفیت کو دیکھتا ہے تو میں نے اپنے باطن کی اصلاح میں تگ ودو شروع کر دی اور لوگو ں سے پہلو تہی اختیار کرلی ۔
پھر جب میں نے دیکھا کہ ملک الموت علیہ السلام ہمیں اللہ ربُّ العزَّت کی بارگاہ میں ضرور لے جائیں گے، تو میں نے اپنے آپ کو ان کی آمد سے پہلے ہی اللہ عزوجل کی بارگاہ میں پیش ہونے کے لئے تیار کر لیا تا کہ ان کی آمد کے وقت میں کسی چیز کی طرف محتاج نہ ہوں۔”
یہ سن کر حضرت سیدنا شفیق بلخی علیہ رحمۃ اللہ الغنی نے فرمایا:”اے حاتم اصم !تمہاری کوشش بے کار نہ گئی بلکہ تم اپنے مقصد میں کامیاب ہوگئے ۔”
حضرت سیدنا حاتم اصم علیہ رحمۃاللہ الاعظم فرماتے ہیں :” ایک مرتبہ مجھ سے حضرت سیدنا شفیق بلخی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا: ”لوگ چار چیز وں کا دعوی تو کرتے ہیں لیکن ان کا عمل ان کے دعوی کے بالکل خلاف ہے :
(1)۔۔۔۔۔۔ لوگ دعوی تو یہ کرتے ہیں کہ ہم اللہ عزوجل کے غلام ہیں مگر وہ عمل آزاد لوگوں والے کرتے ہیں ۔
(2) ۔۔۔۔۔۔ان کا دعوی تو یہ ہے کہ ہمارے رزق کا کفیل اللہ ربُّ العزّت ہی ہے لیکن وہ اس بات پر مطمئن نہیں ہوتے۔
(3) ۔۔۔۔۔۔ان کا دعوی تو یہ ہے کہ آخرت کی زندگی دنیاوی زندگی سے بہتر ہے لیکن پھر بھی وہ دنیا کا مال جمع کرنے میں سر گرداں ہیں۔
(4) ۔۔۔۔۔۔ان کا دعوی تویہ ہے کہ موت بر حق ہے لیکن ان کے اعمال ایسے ہیں جیسے انہوں نے مرنا ہی نہیں۔
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی صلی اللہ تعالی عليہ وسلم)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!