Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

سفید محل

سفید محل

حضرت سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:” ایک مرتبہ امیر المؤمنین حضرت سیدناابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دس افراد پر مشتمل ایک قافلہ یمن کی جانب روانہ فرمایا۔ مَیں بھی اس قافلے میں شریک تھا، قافلہ جانبِ منزل رواں دواں تھا، دورانِ سفر ہمارا قافلہ ایک ایسی بستی کے قریب سے گزرا جسے دیکھ کر ہمیں بہت زیادہ حیرت ہوئی ۔ اس بستی میں بہترین قسم کی عمارتیں تھیں ، ہمارے رفقاء نے کہا : ”کیا ہی اچھا ہواگر ہم اس بستی میں داخل ہوجائیں اور یہاں کے حالات معلوم کریں ۔”
چنانچہ ہمارا قافلہ اس خوبصورت بستی میں داخل ہوا ، اس کی خوبصورتی دیکھ کر ہماری حیرا نگی اِنتہاء کو پہنچ چکی تھی، ایسا لگ

رہا تھا جیسے اس کی تمام عمارتوں کو سونے چاندی سے ڈھانپ دیا گیا ہو،اس کی عمارتیں ایسی تھیں جیسی ہم نے کبھی نہ دیکھی تھیں، اس بستی میں ایک سفید محل تھا جس کی سفیدی خالص برف جیسی تھی اور اس کا صحن بھی اسی طرح سفید تھا،وہاں پر بہترین لباس میں ملبوس چند کنواری خوبصورت نوجوان لڑکیاں موجود تھیں،ان کے درمیان میں ایک نہایت ہی حسین وجمیل دوشیزہ تھی جس کا حُسن ان سب لڑکیوں پر غالب تھا ،دوسری لڑکیاں اس کے گر د گھوم رہی تھیں اور وہ دف بجاتے ہوئے یہ شعرگنگنارہی تھی:

مَعْشَرَ الْحُسَّادِ مُوْتُوْا کَمَدًا
کَذَا تَکُوْنُ مَا بَقِیْنَا أَبَدَا
غُیِّبَ عَنَّا مَنْ نَعَانَا حَسَدًا
وَکَانَ وَحْدَہٗ اِلتَقٰی الأَنْکَدَا

ترجمہ:اے حسد کرنے والو! تم شدت غم سے مر جاؤ، ہم تو اسی طر ح عیش وعشرت سے زندگی گزاریں گی ، جو ہم سے حسد کرتے ہوئے ہمیں موت کی خبر دیتا ہے وہ خود ہی غمگین اور محروم ہو کر پھینک دیا جاتا ہے (یعنی مرجاتا ہے)۔
وہ دو شیزہ اِنہی اَشعار کا تکرار کر رہی تھی، وہاں اس بستی میں ایک بہترین حوض بنا ہواتھا،جس میں صاف شفاف پانی تھا، قریب ہی ایک چھوٹی سی بہترین چراگاہ تھی جس میں بہترین قسم کے جانور چر رہے تھے ، عمدہ نسل کے گھوڑے، اُونٹ ، گائے اور گھوڑے کے چھوٹے چھوٹے بچے وہاں موجود تھے ، قریب ہی ایک گول محل بنا ہوا تھا۔ ہم اس جگہ کا حسن وجمال اور زیب وزینت دیکھ کر محو ِحیرت تھے ۔ ہمارے بعض رفقاء نے کہا:” ہم کچھ دیر یہاں قیام کر لیتے ہیں تا کہ یہا ں کے مناظر سے لُطف اندوز ہوسکیں اورہمیں اس خوبصورت بستی میں کچھ دیر آرام میسر آجائے۔ چنانچہ ہم نے وہیں اپنے کجاوے اُتارے (اور سامان کو ترتیب دینے لگے) اتنے میں محل کی جانب سے کچھ لوگ آئے،ان کے پاس چٹائیاں تھیں، انہوں نے آتے ہی وہ چٹا ئیاں بچھادیں پھر ان پر انواع واقسام کے کھانے چُن دیئے،پھر ہمیں کھانے کی دعوت دی۔ ہم نے کھانا کھایا، اس کے بعد کچھ دیر آرام کیا اور وہاں کے نظاروں سے لُطف اَندوز ہوتے رہے پھر ہم نے وہا ں سے کوچ کرنے کا ارادہ کیا اور اپنے کجاوے کسنے لگے ۔
ہمیں جاتادیکھ کر محل کی جانب سے چند لوگ آئے اور کہا : ”ہمارا سردار تمہیں سلام کہتا ہے اور اس نے پیغام بھجوایا ہے کہ مَیں معذرت خواہ ہوں کہ آپ سے ملاقات نہ کرسکا اور کَمَا حَقُّہٗ آپ کی خدمت نہ کرسکا ،ان دنوں ہمارے ہاں ایک جشن کی تیاری ہو رہی ہے جس کی مصروفیت اتنی زیادہ ہے کہ میں آپ لوگوں سے ملاقات نہیں کرسکتا،برائے کرم! میری اس تقصیر کو معاف فرمانا، آپ لوگ ہمارے مہمان ہیں، آپ جب تک چاہیں ہمارے ہاں قیام فرمائیں ۔”
با دشاہ کا یہ پیغام سن کر ہم نے ان لوگو ں سے کہا:” اب ہم یہاں مزید نہیں ٹھہرسکتے، ہماری منزل ابھی بہت دور ہے، ہم اب جانا چاہتے ہیں ،اللہ عزوجل تمہیں اس مہمان نوازی کی اچھی جزا ء اور بر کتیں عطا فرمائے ۔”
جب ہم جانے لگے تو ان خادموں نے ہمیں بہت ساکھانا اور کافی سازوسامان دیا او راتنا زادِ راہ دیا کہ وہ ہمارے تمام

سفر کے لئے کافی تھا۔ پھر ہم وہاں سے رخصت ہو کر اپنی منزل کی طر ف چل دیئے ،جب ہماری واپسی ہوئی توہم اس راستے کو چھوڑ کر دوسرے راستے سے مدینہ منوّرہ پہنچے۔ کافی عرصہ گزر گیا اور جب حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ خلیفہ بنے تو ان کے ایک وفد کے ساتھ مَیں دوبارہ سوئے یمن روانہ ہوا ، میں نے اپنے رفقاء کو اس بستی کے متعلق بتا یاکہ حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دورِ خلافت میں ہم نے ایک عظیم الشان بستی دیکھی تھی، پھر میں نے ان کو وہ سارا واقعہ بتایا۔ یہ سن کران کاتَجَسُّس بڑھا اور ان میں سے ایک شخص نے کہا : ”کیا ہی بہتر ہو اگر ہم بھی اس بستی کو دیکھ لیں۔”
چنانچہ ہم اسی بستی کی طر ف چل دیئے۔ جب ہم وہاں پہنچے تو میں اس جگہ کو دیکھ کر بہت حیران ہوا کیونکہ اب تو وہاں کا نقشہ ہی بدل چکا تھا ، اب وہاں عظیمُ الشان محل تھا نہ ہی اس کا بہترین سفید فرش بلکہ وہاں ویرانی چھائی ہوئی تھی او رریت کے ڈھیر لگے ہوئے تھے، عمارتیں کھنڈرات میں تبدیل ہوچکی تھیں،چراگاہ میں جانور وں کا نام ونشان تک نہ تھا،بڑی بڑی خود رو گھاس نے ساری چراگاہ کو وحشت ناک بنادیا تھا ، تالاب میں پانی کا ایک قطرہ بھی نہ تھا ۔
الغرض! چند سال قبل جہاں ہر قسم کی زیب وزینت تھی اب وہا ں ویرانی چھائی ہوئی تھی، اب وہاں نہ تو خُدَّام تھے نہ ہی لونڈیاں۔ ہم سب اس منظر کو دیکھ کر محو حیرت تھے کہ ہمیں ان تباہ وبرباد عمارتوں میں ایک شخص نظر آیا۔ میں نے اپنے ایک رفیق کویہ کہتے ہو ئے بھیجاکہ ”ہم اس شخص سے دُور ہی رہتے ہیں، تم جاؤ اور یہاں کے حالات معلوم کر کے آؤ او ردیکھو ! یہ شخص کون ہے؟ ”میرا دوست وہاں گیا اور کچھ ہی دیر بعد وہ خوف زدہ سا ہماری جانب پلٹا۔ میں نے پوچھا: ”تم نے وہاں کیا دیکھا ہے کہ اتنے پریشان ہورہے ہو؟” وہ کہنے لگا:”جب میں اس شخص کے پاس پہنچا تو دیکھا کہ وہ ایک بوڑھی اور اندھی عورت ہے،جب اس نے میری آہٹ محسوس کی تو کہنے لگی: تجھے اس کی قسم جس نے تجھے صحیح وسالم بھیجا ہے،میری آنکھوں کا نور تو ضائع ہوچکاتم جو بھی ہو میرے پاس آؤ (یہ سن کر میں وہاں سے واپس آگیاہوں )۔”
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:پھر مَیں بوسیدہ اور ٹوٹی پھوٹی سیڑھیاں چڑھتا ہوا اس ویران عمارت میں پہنچا جہاں وہ بڑھیا موجود تھی۔ اس بڑھیا نے کہا: ”تم مجھ سے کیا پوچھنا چاہتے ہو ؟” میں نے کہا :”تُو کون ہے اور وہاں اس ویرانے میں تیرے ساتھ کون کو ن رہتا ہے؟ ”یہ سن کر بڑھیا بولی : میرانام” عمیرہ” ہے اور مَیں اس بستی کے سردار ذویل کی بیٹی ہوں، میرا باپ ایسا سخی اور فیاض تھا کہ راہ گیرو ں کو بلا بلا کر مہمان نوازی کرتا اور لوگ ہماری اس بستی میں قیام کیا کرتے تھے اور یہاں چند سال پہلے مہمانوں کی خوب ضیافتیں ہوا کرتی تھیں ،پھر اس بڑھیا نے یہ شعر پڑھا :

وَمِنْ مَعْشَرٍ صَارُوْا رَمِیْمًا
اَبُوْہُمْ کَرِیْمٌ اَبُوْالْجِحَافِ بِالْخَیْرِذُوَیْلُ

ترجمہ: او روہ لشکر بوسیدہ وخراب بے یارو مدد گار ہوگئے جن کا باپ ذویل ایسا کریم تھاجو خیر کی طرف بہت رغبت کرتا تھا۔

میں نے اس بڑھیاسے کہا : ”تمہارے باپ اورتمہاری باقی قوم کا کیا ہوا؟ کہنے لگی:” انہیں موت نے آلیا،وہ اس دارِفانی سے رخصت ہوگئے، زمانے نے انہیں فنا کردیا، ان کے بعد مَیں اس پرندے کے بچے کی طر ح ہو گئی ہوں جو کمزور گھونسلے میں اکیلا بیٹھا ہو ۔” میں نے اس سے کہا :” کیا تمہیں یا د ہے کہ چند سال پہلے ایک مرتبہ ہم یہاں سے گزرے تھے ،اس وقت یہ جگہ آباد تھی او ریہاں جشن کی تیاریا ں ہو رہی تھیں، اس محل کے صحن میں چند لڑکیا ں ایک حسین وجمیل دوشیزہ کے گر د جمع تھیں اور وہ دوشیزہ دف بجاتے ہوئے یہ شعر گنگنارہی تھی:

مَعْشَرَ الْحُسَّادِ مُوْتُوْا کَمَدًا

ترجمہ: اے حاسدو! تم شدت غم سے مرجاؤ۔
یہ سن کر بو ڑھی عورت نے ر وتے ہوئے کہا: ”اللہ عزوجل کی قسم! مجھے وہ دن اچھی طر ح یا دہے ،ان لڑکیوں میں میری بہن بھی تھی اور دف بجا کر شعر گنگنانے والی دوشیزہ مَیں ہی تھی ۔
یہ سن کر میں نے کہا:” اگر تم پسند کر وتو ہم تجھے اپنے ساتھ اپنے وطن لے جائیں او رتم ہمارے اہل خانہ کے ساتھ رہو؟ میری یہ بات سن کر اس نے کہا :” یہ بات مجھ پر بہت گراں ہے کہ میں اپنی اس جگہ کو چھوڑ دوں، مَیں اسی جگہ رہنا پسند کرو ں گی یہاں تک کہ مجھے بھی اپنے باپ او رقوم کی طرح موت آجائے اور میں بھی اس دنیا ناپائیدارسے رخصت ہوجاؤں۔”
پھر میں نے پوچھا :” تمہارے کھانے پینے کا بندو بست کس طر ح ہو تا ہے؟” اس نے کہا :” یہاں سے قافلے گزرتے ہیں او ر میرے لئے کھانا وغیرہ پھینک جاتے ہیں،مَیں اسے کھا کر گزارا کرلیتی ہوں او ریہاں ایک گھڑا موجود ہے جو پانی سے بھر ا رہتا ہے، مَیں نہیں جانتی کہ اسے کون بھرتا ہے، بس اسی میں سے میں پانی پی لیتی ہوں، اس طر ح میری زندگی کے دن گزر رہے ہیں ۔”
پھر اس نے مجھ سے پوچھا: ”اے مسافر !کیا تمہارے قافلے میں کوئی عورت ہے ؟میں نے کہا:” نہیں ۔” پھرپوچھا : ”کیاتمہارے پاس کوئی سفید چادر ہے؟ ” میں نے کہا :”ہاں، چادر تو ہے۔” پھر میں نے اسے دو چادریں لاکر دیں جو بالکل نئی تھیں ۔ چادریں لے کر وہ ایک طر ف چلی گئی،کچھ دیر بعدانہیں پہن کر واپس آئی اور کہنے لگی: ”میں نے آج رات خواب میں دیکھا کہ مَیں دُلہن بنی ہوئی ہوں اورایک گھر سے دوسرے گھر کی جانب جارہی ہوں، یہ خواب دیکھ کر مجھے گمان ہو رہا ہے کہ میںآج مرجاؤں گی، کاش! کوئی عورت ہوتی جو میرے غسل وغیرہ کا اِنتظام کر دیتی۔” ابھی وہ بوڑھی عورت مجھ سے یہ باتیں کرہی رہی تھی کہ یکدم زمین پر گری اور اس کی روح قَفسِ عنصری سے پرواز کر گئی ۔ ہم نے اسے تیمم کرایا او راس کی نماز جنازہ پڑھی پھر اسے وہیں دفن کردیا۔
جب میں حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بارگاہ میں حاضر ہوا اورانہیں یہ واقعہ بتا یاتو وہ رونے لگے اور فرمایا: ”اگر میں تمہاری جگہ وہاں ہوتا تو ضرور ایک کریم وفیاض باپ کی اس بیکس و بے بس بیٹی کو اپنے ساتھ لے آتا لیکن مقدَّر کی بات
ہے، اس کے نصیب میں یہی لکھا تھا ۔ ” (اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم)
(اللہ عزوجل ہر مسلمان کی مغفرت فرمائے اور ہمیں غیروں کی محتاجی سے بچا کر صرف اپنا محتاج رکھے ،چار رو زہ اس نیرنگی دُنیاکے دھوکے سے محفو ظ رکھے اور موت سے پہلے موت کی تیاری کی تو فیق عطا فرمائے، ہمیں اپنے انجام کو ہر وقت پیش نظر رکھتے ہوئے آخرت کی تیاری کی تو فیق عطا فرمائے، دنیوی نعمتوں پر غرورو تکبر کرنے سے ہمیں محفوظ رکھے، صرف اور صرف اپنی رضا کی خاطر تمام نیک ا عمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور صبر وقناعت کی دولت عطا فرمائے اورہمیں مفلسی سے بچائے۔آمین )
نہ محتا ج کر تو جہاں میں کسی کا

مجھے مفلسی سے بچا یا الٰہی عزوجل !

error: Content is protected !!