سوال جواب

( نوٹ ، دس سوال سرسی کے وہابیہ کی طرف سے کئے گئے تھے ، 3کے جوابات شمارہ نمبر 1، 3کے شمارہ نمبر 5 باقی شمارہ نمبر 6 کے ذریعہ سنی حنفیوں کے طرف سے دئے گئے )
تہمید جواب
ائمہ اربعہ کے نزدیک چار اصول ہیں ، جو مسئلہ صریح نص سے ثابت ہو اس میں نہ اجتہاد کی ضرورت ہے نہ فتویٰ کی حاجت اس کو آپ اچھی طرح ذہن میں رکھیں جو حکم نص صریح سے ثابت ہیں اس میں یہ نہ دریافت کریں کہ اس میں ائمہ اربعہ کا کیا فتویٰ ہے ۔
سوال :۔  چار مذہب میں سے کسی ایک کی تقلید کرنے اور تین کو چھوڑنے پر نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا حکم یا کسی امام کا قول پیش کریں ؟
جواب :۔  اس کاجواب شمارہ رنمبر 5 صفحہ 7، سوال ، چار مذہب قائم ۔۔۔۔ تحریر فرمایئے ؟ کے جواب میں بھی درج ہے ۔
نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ارشاد ہے ، میں جانتا نہیں میں تمہارے درمیان کب تک رہوں گا، تم میرے بعد ان دونوں یعنی ابوبکر صدیق ، اور عمر فارو ق رضی اللہ عنہما کی اتباع اور تقلید کرو یعنی جب تک حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت کرے اور ان کے ہرامر میں ان کی اتباع اور تقلید کرو، یہی تقلید شخصی ہے ، حالانکہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے وقت حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ موجود تھے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تقلید کرنا ضروری تھا،یہ تعین خود حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا ہے، یہی تقلید شخصی بھی ہے ، ان کا مذہب مدون نہ تھا ، اس لئے ان کی طرف کسی آدمی کی نسبت نہیں ، نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلمکا ارشاد ہے کہ اگر کوئی مجتہد اپنے اجتہاد سے حکم دے پھر اس میں ثواب کو پہنچے تو اس کو دو ثواب ملتے ہیں ، اگر اس میں خطا کرے پھر بھی اس میں ایک ثواب ملتاہے ، اگر آپ جیسے بت علم اجتہاد کریں پھر اس میں کو پہنچیں تو اللہ پاک آپ جیسے لوگوں کو ثواب نہیں لکھتا ، اگر اس میں غلطی کریں ، تو آپ جیسے لوگوں کے لئے ٹھکانہ جہنم ہے ، یہ حدیث شریف مستدرک حاکم اور مسند ابن حبان میں موجود ہے ۔
جولوگ ان طار مذہب کی تقلید کرتے ہیں یہ سب کے سب حق پر ہیں ، ثواب ہی پاتے ہیں ،
جب کہ ایک حق پر چلنے سے تمام دین و دنیا ان کو اسی میں حاصل ہیں تو دوسرے حق کی طرف جانے کی کیا ضرورت ہے ؟ اگر اس حق کو چھوڑ کر اُدھر گیا یہ تحصیل حاصل جو محال ہے پھر بھی ہم پوچھتے ہیں اس پہلے حق کو کیا سمجھا ؟ اگر اس پہلے حق کو العیاذ باللہ باطل سمجھا تو اسلام سے خارج ہوا ، اگر اس کو بھی حق سمجھتا ہے تو ادھر جانے کی کیا ضرورت ہے ؟ کبھی یہ کرتا ، کبھی وہ کرتا ، یہ مذہب میں کھیل اور مذہب کی توہین اور ازتہزا ہے جو حرام اور کفر ہے ، تلفیق فی المذہب بھی حرام ہے ، لہٰذا جو کوئی ان چار مذہب میں سے کسی ایک پر چلتا ہو اس کو اس میں نجات ہے ، ورنہ گمراہ ہوجائے ، جیسے آج کل کے جاہل اہل حدیثوں یعنی وہابیہ نے تلقید ائمہ اربعہ کو کفر شرک کہکر چھوڑ دیا ، یہ تقلید چھوڑنے سے ان کو آزادی ملی کوئی ان میں سے چکڑالوی اہل قرآن ہوا ، اس نے جب حدیثوں میں اختلاف دیکھا تو سب حدیثوں کا منکر ہوا ، وہ بھی اجتہاد کرنے لگا ، پانچ وقت کی نمازوں کو تین ہی وقت قرار دیا مہینے بھر روزوں کو تین روزہ یا دس روزہ قرار دیا ، جنازہ کی نماز کو انکار کر دیا ، اس نے اہل حدیث یعنی وہابیہ کو کافر مشرک فی لالوھیت کہا ، انہی اہل حدیثوں میں سے اور ایک جماعت بنی جن کو نیچری کہتے ہیں ، انہوں نے فرشتوں اور جنوں کو انکار کیا ، یہاں تک کہ جنت دوزخ کو بھی انکار کیا ، کیونکہ ان کے نزدیک یہ قاعدہ ہے کہ جو چیز نظر آئے اس کا وجود نہیں ، انہی اہل حدیثوں میں اور ایک جماعت پیدا ہوگئی جس کا پیشوا مرزا غلام احمد قادیانی ہے ، جب اس نے دیکھا اس زمانے کے اہل حدیث ، اہل قرآن اور نیچری ایک دوسرے پر کفر شرک کا فتویٰ دے رہے ہیں تو وہ نبی بن کر بیٹھا ، اس نے ان تینوں کو اپنی امت قرار دیا اس پر ٹیجا پنجا فرشتہ وحی نازل کرتا رہا ۔
اس زمانے کے اہل حدیثوں نے ائمہ اربعہ کے اوپر افترا باندھا کہ انہوں نے اجتہاد میں غلطی کی ، ہم ان سے اچھا اجتہاد کرتے ہیں ، چنانچہ ان کے مجتہد اجتہاد کرنے لگے ، اللہ پاک لحم خنزیر یعنی سور کے گوشت کو حرام قرار دیا ہے اس زمانے کے مجتہد اہل حدیثوں نے سور کی چربی ، سور کی اوجڑی ، سور کے گردے اور سور کے گوشت کے سوا باقی سب اہل حدیثوں کے لئے حلال و پاک قرار دیا ، اللہ پاک ماں اور بیٹی کی حرمت بیان فرمائی یعنی ان کے ساتھ نکاح کرنا جائز نہیں ، اس زمانے کے اہل حدیثوں
نے اجتہاد کیا ، نانی ، دادی ، نواسی ، پوتی کے ساتھ نکاح کرنا جائز ہے ، کیونکہ ان کی حرمت قرآن مجید میں مذکور نہیں ، دیکھو تصنیفاب نواب حسین بھوپالی ، تفسیر ثنائی اور ان کے مجتہدوں نے سب جانوروں کا براز ، کتے، بلی ، گدھے ، گھوڑے کا گوہ اپنے اہل حدیثوں کے لئے پاک کر دیا،کیونکہ ان کی نجاست قرآن میں ثابت نہیں ۔
قرآن و حدیث سے ثابت کر کے بتاؤ، سور کی چربی وغیرہ نانی، دادی کا نکاح ، سب جانوروں کا گوہ وغیرہ پاک ہے، آپ لوگوں نے اور اپنے مجتہدوں نے دنیامیں فساد قائم کرنے کے سوا اور کچھ بھی نہیں کیا، اللہ پاک فرماتا ہے ، اصلاہونے کے بعد زمین میں فساد نہ پھیلاؤ اور اللہ پاک فرماتاہے زمین میں فساد پھیلانے والے کے لئے لعنت جہنم اور برا ٹھکانا ہے ، تم لوگ دھوکے دے کر بے علموں کو بہکا کر ان سے کہتے ہو ہم تمہاری اصلاح کرتے ہیں ، در حقیقت تم ان کو گمراہ کرتے ہو ۔
صلاح کار کجا ایں مضد دین کجا
ببیں تفاوت راہ زکجاست تا بکجا
(بقیہ آئندہ(

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *