Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

انبیاء کرام علیہم السلام اور فقراء کی تخلیق جنَّت کی مِٹی سے ہوئی:

انبیاء کرام علیہم السلام اور فقراء کی تخلیق جنَّت کی مِٹی سے ہوئی:

حضور سیِّدُ الانبیاءِ والمرسلین، جنابِ رحمۃٌ للعٰلمین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ ذیشان ہے:”فقیروہ ہے جس کی بھوک اور مرض کا لوگوں کو علم نہ ہو۔ اللہ عزَّوَجَلَّ نے مخلوق کو زمین کی مِٹی سے اور انبیا ء و فقراء کو جنت کی مٹی سے پیدا فرمایا۔ تو جو اللہ عزَّوَجَلَّ کی امان چاہے اُسے چاہے کہ فقراء کی عزت کرے ۔”
نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ حقیقت بیان ہے: ”جنت کے آٹھ دروازے ہیں، اُن میں سے سات فقراء کے لئے اور ایک اغنیا ء کے لئے ہے۔ اور جہنم کے سات دروازے ہیں، ان میں سے چھ فقراء پر حرام اور اغنیا ء کے لئے حلال ہیں۔ اور ایک دروازہ فقراء کے لئے ہے ۔”
حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ حضورسیِّدُ الْمُبَلِّغِیْن، جنابِ رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:”اللہ عزَّوَجَلَّ کے نزدیک سب سے پسندیدہ لوگ فقراء ہیں۔ کیونکہ اللہ عزَّوَجَلَّ کو سب سے زیادہ محبوب انبیاء کرام ہیں اور اس نے انہیں فقر میں مبتلا فرمایا ۔”
حضرتِ سیِّدُنا ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت فرماتے ہیں:”اے لوگو!تمہیں فاقہ و تنگدستی اس بات پر نہ ابھارے

کہ تم حرام طریقے پر رزق طلب کرنے لگو۔ بے شک میں نے شہنشاہِ خوش خِصال، پیکر ِ حُسن وجمال، دافِعِ رنج و مَلال، صاحبِ ِِجُودو نوال، رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ورضی اللہ تعالیٰ عنہا کو یہ دعا فرماتے ہوئے سنا : ”اَللّٰھُمَّ تَوَفَّنِیْ فَقِیْرًا وَلَا تَتَوَفَّنِیْ غَنِیًّا وَاحْشُرْنِیْ فِیْ زُمْرَۃِ الْمَسَاکِیْن یعنی اے اللہ عزَّوَجَلَّ ! مجھے فقیری میں موت عطا فرما،امیری میں موت نہ دے اور مجھے مساکین کی جماعت میں اُٹھا۔”

(شعب الایمان للبیھقی، باب فی قبض الید عن الا موال المحر مۃ، الحدیث ۵۴۹۹، ج۴، ص۳۸۹)

error: Content is protected !!