اُمِّ ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا قبولِ اسلام

اُمِّ ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا قبولِ اسلام:

حدیث ِ پاک میں ہے کہ ”جو شخص حضورنبئ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ اَفلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم پر نیند کی حالت میں درودِ پاک پڑھتا ہے اُسے بیدار ہونے سے پہلے بخش دیا جاتا ہے۔” جیسا کہ امیر المؤمنین حضرتِ سیِّدُنا ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی والدۂ ماجدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ساتھ ہوا (آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی والدہ حضرتِ سیِّدَتُنا سلمیٰ بنت صخررضی اللہ تعالیٰ عنہا ابھی مسلمان نہیں ہوئی تھیں) آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ رات کے ابتدائی حصہ میں اپنی والدۂ محترمہ کے سا تھ سرکارِ دوعالم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے، نبئ کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے حضرتِ سیِّدُنا صد یق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کچھ گفتگو فرمائی، انہیں آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی باتیں بہت بھلی لگیں، رات طویل ہوگئی اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی والدۂ ماجدہ سو گئیں۔ جب انہوں نے لوٹنے کا ارا دہ کیا تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے حضرتِ سیِّدُنا ابو بکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے استفسار فرمایا: ”تمہاراکیا حال ہے؟”عرض کی: ”یا رسول اللہ عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ! میں توخیریت سے ہوں مگر یہ میری ماں ہے، اس کے بغیر میرا کوئی چارہ نہیں، اے تمام لوگوں کے سردار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ! آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ان کے لئے دعا فرمائیے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ ان کو اسلام کی توفیق

عطا فرما دے۔” پس آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے اپنے ہاتھوں کوکشا دہ کیا، ہونٹوں سے دِھیمی دِھیمی آواز نکالی، اور ان کے لئے دعا کی ،تو وہاں موجود ایک صحابئ رسول صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم و رضی اللہ تعالیٰ عنہ کاکہنا ہے کہ ”اللہ عزَّوَجَلَّ کی قسم! ہم نے حضرتِ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی والدۂ ماجدہ کو حالتِ نیند میں کلمۂ شہا دت پڑھتے سنا۔” اور جب وہ بیدا ر ہوئیں توبلند آواز سے پڑھا: ”اَشْہَدُاَن لَّااِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَاَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ یعنی میں گو ا ہی دیتی ہوں کہ اللہ عزَّوَجَلَّ کے سوا کو ئی معبو د نہیں اور (حضرت سیدنا)محمد صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم اس کے بند ے اور رسول ہیں۔” حضرتِ سیِّدُنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی والدۂ ماجدہ کوحدیث ِ رسول صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی تصدیق میں بیداری سے پہلے ہی بخش دیاگیا۔
اسی کی مثل کئی لوگوں کے بے شمار واقعات ہیں، جو پہلے مسلمان نہ تھے پھر انہوں نے خوا ب میں سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِشُمار، دوعالَم کے مالک ومختار بِاذن پروردگار عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا دیدار کیا، اور آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے ہاتھ پر اسلا م قبول کر لیا، آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم پر درودِپاک پڑھا پھر جب وہ بیدا ر ہوئے تو ان کی بخشش ہوچکی تھی:

ہَنِیْأً لِعَیْنٍ قَدْ رَأَتْ نُوْرَ اَحْمَدَ وَفَازَتْ جِھَارًا مِنْہُ بِالْحُسْنِ وَ الرُّؤْیَا
وَقَدْ اَسْعَدَ الرَّحْمٰنُ عَبْدًا دَعَا لَہٗ فَاَضْحٰی سَعِیْدًا فِی الْمُمَاتِ وَفِی الْمَحْیَا
وَبَدَّلَ دِیْنَ الشِّرْکِ بِالنُّوْرِ وَالْہُدٰی بَلَغَ مَا یَہْوٰی مِنَ الدِّیْنَ وَ الدُّنْیَا
وَفَازَ بِرُؤْیَا الْمُصْطَفٰی سَیِّدِ الْوَرٰی نَبِیٌّ حَبَاہُ اللہُ بِالرُّتْبَۃِ الْعُلْیَا
عَلَیْہِ صَلَاۃُ اللہِ مَا طَافَ طَائِفٌ بِمَکَّۃَ بَیْتِ اللہِ قَصْدًا أتَی سَعْیَا
صَلاَۃٌ شَذَاھَا عِطْرُ الْکَوْنِ جَھْرَۃً فَمَنْ قَاسَہَا بِالْمِسْکِ یَوْمًا فَمَا اسْتَحْیَا

ترجمہ:(۱)۔۔۔۔۔۔مبارک ہو اس آنکھ کوجس نے نورِمحمدی علٰی صاحبہا الصلٰوۃ والسلام کا جلوہ دیکھا اور خواب میں حضور پرنور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے حُسنِ سَرمَدی(یعنی دائمی حسن) کوبلاحجاب دیکھنے میں کامیاب ہو گئی۔
(۲)۔۔۔۔۔۔رحمن عَزَّوَجَلَّ نے اس بندے کو نیک بخت کیا جس نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے لئے دُعا کی(یعنی آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم پر درودِ پاک پڑھا) تو وہ زندگی اور موت میں سعادت مند ہو گیا۔
(۳)۔۔۔۔۔۔اور اس نے شرک والے دین کو نور وہدایت سے بدل لیا اور دین ودنیا کی بلندیوں کو پا لیا۔
(۴)۔۔۔۔۔۔اور وہ مخلوق کے سردار مصطفی کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے دیدار کی بدولت کامیاب ہو گیا، جو ایسے نبی علیہ السلام ہیں جنہیں اللہ عزَّوَجَلَّ نے بغیر کسی بدلے کے بلند وبالا مرتبہ عطا فرمایا۔
(۵)۔۔۔۔۔۔آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم پر اللہ عزَّوَجَلَّ کی رحمتیں نازل ہوتی رہیں جب تک مکہ مکرمہ زَادَھَا اللہ شَرَفًاوَّتَکْرِیْمًا میں
طواف کرنے والے بیتُ اللہ شریف کا طواف کرتے رہیں۔
(۶)۔۔۔۔۔۔درودِ پاک کی خوشبو واضح طو ر پر کا ئنا ت کا عطر ہے، تو جس نے کسی دن کستوری کے ساتھ اس کا موازنہ کیا تو کیا اس کو شرم نہ آئی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *