Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

آثار فضائل تعلیم

آثار فضائل تعلیم

اعلیٰ حضرت پیرسیدمقبول احمدشاہ قادری

حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں : جو شخص حدیث بیان کرے اور اس پر عمل کرے تو اس کو ثواب ان لوگوں کے برابر ملے گا جو اس پر عمل کریں گے ۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جو شخص لوگوں کو بہتر بات سکھاتا ہے اس کے لئے تمام چیزیں سمندر کی مچھلیاں تک استغفار کرتے ہیں ، بعض علماء کا قول ہے کہ عالم خدا تعالیٰ اور اس کے مخلوق کے درمیان واسطہ پڑتا ہے پس دیکھو کہ کس طرح واسطہ پڑتا ہے ، وہ تعلیم کے ذریعہ ہے ،۔
روایت ہے کہ حضرت سفیان ثوری عسقلان تشریف لائے اور کچھ دن وہاں رہے ، ان سے کسی نے کچھ پوچھا نہیں آپ نے فرمایا : کہ میرے لئے سواری کرایہ پر لاؤ کہ میں اس شہر سے نکل جاؤں ،
یہ ایسا شہر ہے کہ اس میں علم مرجائے گا ، یہ اس واسطے کہا کہ تعلیم کی بزرگی اور اس کے جہد سے علم باقی رکھنے کو آپ کو حرص تھی۔
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ میں سعد بن مسیب کے پاس گیا وہ روتے تھے ، میں نے ان سے رونے کی وجہ پوچھی ، انہوں کہا کہ مجھے کوئی پوچھتا نہیں ، بعضوں کا قول ہے کہ علماء زمانے کا چراغ ہیں ہر ایک اپنے وقت کا چراغ ہوتا ہے
کہ اس سے ان کے زمانے کے لوگ روشنی حاصل کرلیں ۔
حضرت حسن بصری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ، اگر علماء نہ ہوتے تو آدمی مثل چوپائے کے ہوجاتے ، علماء لوگوں کو تعلیم کی جہد سے حالت بہیمی سے نکال کر سرحد انسانیت پر پہنچا دیتے ہیں ۔
حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں
اس علم کا کچھ مول ہے ، کسی نے پوچھا وہ کیا ہے ؟ فرمایا: وہ یہ ہے کہ ایسے علم کو سکھائے جو اچھی طرح یاد کرے اور ضائع نہ کرے ۔
یحییٰ ابن معاذ فرماتے ہیں کہ علماء امت پر ماں باپ سے زیادہ رحیم ہیں ، لوگوں نے پوچھا کہ
کس طرح ؟ آپ نے فرمایا کہ ماں باپ بچوں کو آگ دنیاوی سے بچاتے ہیں ، اور علماء آخرت کی آگ سے جوزیادہ سخت اور ہمیشہ رہنے والی ہے ،
بعض اک قو ل ہے ، ابتدائی علم سکوت سے ہے ، پھر سننا اور یاد کرنا ، پھر عمل کرنا، اور اس کو لوگوں میں پھیلانا ، بعض یوں فرماتے ہیں کہ اپنا علم ایسے کو سکھاؤ جو اس سے جاہل ہو، اور ایسے شخص سے سیکھو جو چیز تم کو نہ آتی ہو اور اس کو وہ جانتا ہو، جب ایسا کروگے تو جو چیز تمہیں معلوم نہیں وہ جان لوگے
اور جو تمہیں آتا ہوگا وہ زیادہ یاد رہے گا۔
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کا قول ہے اور ایک حدیث مرفوع سے بھی پایا گیاہے کہ  علم سیکھو کہ اس لئے کہ اس کاسیکھنا خوف الٰہی ہے، اس کی جستجو عبادت ہے اوراس کا درس دینا تسبیح ہے
، اس کی بحث جہاد ہے ، اور جو شخص نہ جانتا ہو اس کو تعلیم دینا خیرات ہے ، جو اس کا اہل ہو اس پر خرچ کرنا قرب منزلت ہے ،
یہی علم تنہائی میں انیس ہے، سفر میں جلیس ہے ، خلوت میں گفتگو کرنے والا دین کا راہ نما ، حالت تونگری اور افلاس میں چراغ ، دوستوں کے سانے نائب اجنبی اشخاص کو قریب کرنے والا،
دشمنوں کے حق میں ہتھیار ، راہ جنت کا منار ، اور اسی علم کی بدولت اللہ تعالیٰ کچھ لوگوں کو بلند مراتب عنایت فرماتا ہے کہ
ان کو امور خیرمیں سردار پیشوا ، ہادی بناتا ہے ،
ان کی دیکھا دیکھی اوروں کو خیر نصیب ہوتی ہے
، ان کے قدموں پر لوگ چلتے ہیں ، ان کے افعال کو لوگ تاکتے ہیں ، فرشتے ان کی دوستی میں رہتے ہیں ، اپنے بازوؤں سے ان کو پوچھتے ہیں ، تمام خشکی اور تری کے لوگ ان کے لئے بخشش مانگتے ہیں ، یہاں تک کہ سمندر کی مچھلیاں اور کیڑے خشکی کے درندے اور چوپائے ،
آسمان اور ستارے سب کے سب ان کے لئے دعاء مغفرت مانگتے ہیں ۔
علم دل کی زندگی ہے ، اس کے باعث جہالت نہیں رہتی ، اور علم نور ہے
کہ جس کے سامنے تاریکی جاتی رہتی ہے ، اس سے بدن کو قوت آتی ہے
اور ضعف دور ہوجاتا ہے ، اور اس کے باعث بندہ نیک مراتب اور بلند درجہ حاصل کرتا ہے ، علم میں فکر کرنا روزہ رکھنے کے برابر ہے ،
اس کے درس میں مشغول رہنا شب بیداری کے برابر ہے ، اور اسی کے باعث خدائے تعالیٰ کی اطاعت اور اس کی توحید و تمجید ہوتی ہے ،اس سے ورع اور تقویٰ ، صلہ ارمام اور معرفت حلال و حرام حاصل ہوتی ہے ، علم امام اور عمل اس کا
تابع ہے ، نیک بختوں ہی کے دل میں اس کی جگہ ہوتی ہے اور بدبخت اس سے محروم رہتے ہیں ،اللہ تعالیٰ سے ہم لوگ نیک توفیق کی خواہش رکھتے ہیں ۔
اب سنو ! ہر مسلمان پر علم سیکھنا فرض عین کتنا ہے ،
فرض عین اس کو کہتے ہیں جس پر وہ فرض ہے خود ادا کرے تو ادا ہوگا اگر کوئی دوسرا ادا کرے تو ادا نہ ہوگا، مثلاً پانچ وقت کی نماز یہ فرضِ عین ہے ، ہرمسلمان عاقل بالغ پر خواہ مرد ہو یا عورت ۔
فرض کفایہ وہ ہے کہ اگر کوئی مسلمان عاقل بالغ ادا کرے تو سب کی طرف سے ادا ہوگا اگر کسی نے ادا نہیں کیا تو سب کے سب گناہ گار ہوجائیں گے۔
علم سیکھنا فرض عین ہے ، قرآن کریم سے ایک آیۂ کریم پڑھی یا چھوٹے چھٹوٹے تین آیتیں ، سیکھنا اور یاد کرنا پر عاقل ، بالغ مسلمان پر خواہ مرد ہو یا عورت فرض عین ہے۔
سورئہ فاتحہ شریف سیکھنا اوراس کو یاد کرنا واجب ہے، اور اس کے ساتھ ضم سورہ کرنا تین چھوٹے چھوٹے آیتوں کے برابر سیکھنا اور یاد کرنا واجب ہے۔
باقی قرأت مسنونہ اور مستحبہ سیکھنا اور یاد کرنا سنت اور مستحب ہے سارا قرآن مجید سیکھنا سنت عین ہے۔
جب مسلمان عاقل بالغ ہوجائے تو اس کو کلمۂ طیبہ شریف پڑھنا اوراس کے معنیٰ سیکھنا ، اس کی تصدیق کرنا فرض عین ہے۔
اگر چہ مسلمانوں کے گھروں میں جو بچہ تین سال کا ہوتا ہے تو کلمہ شریف اس کو یاد کراتے ہیں ، مگر اس کے معنی اور تصدیق کرانے کی تعلیم سے نا آشناہوتے ہیں یہاں تک کہ اکثر بوڑھے بھی اس کے معنیٰ سے واقف نہیں ، عورتوں میں شاید ہی کوئی اس کے معنیٰ سے واقف ہوگی ، اب اس کلمہ طیبہ کا معنی سنو۔
لَا ِالٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمّدُرَّسُوْلُ اللّٰہِ
لا الہ الا اللہ : کوئی معبود عبادت کے لائق نہیں ، مگر اللہ پاک عبادت کے لائق ہے، اور محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے رسول اس کے بھیجے ہوئے ہیں ، رسول کا معنی بھیجا ہوا ہے ، یہ دو جملے ہیں ،
پہلے جملے میں وحدانیت الٰہی کی تصدیق ہے ، دوسرے جملہ میں رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تصدیق ہے ، جب تک ان دونوں جملوں پر ایمان و تصدیق نہ ہوگا ہرگز ہر گز ایماندار نہیں ہو سکتا، یعنی دل سے سچ سے جاننا اور زبان سے اقرار کرنا ضروری ہے،اگر کسی ایک ضرورت کو انکار کرے گا تو اسلام سے خارج کافر ہوجائے گا ، ضروریات دین کا بیان عقائد میں درج ہوچکا ہے ، ہمارے ذمہ جو کام تھ اس کو لکھ دیئے ، مگر لوگوں میں اس قدر سستی پیدا ہوگئی ہے کہ ان کو ان باتوں کی فکر ہی نہیں
، سنیما کے اشتہاروں کو اچھی طرح یاد رکھتے ہیں ، سنیماکے کہانیاں زبانی تو نقل کرتے ہیں ، مگر مذہبی امور کا تذکرہ کہیں ہوتا ہی نہیں ، اگر سنی مسلمان اس کو یاد رکھتے تو بہتر تھا، اس میں ان کی دینی و دنیوی بہتری تھی خصوصاً ضلع دھارواڑ
کے مسلمان بالکل مذہب سے نابلد ہیں ، کچھ مذہبی معلومات ہے ہی نہیں خیر آئندہ اس کا نفع نقصان خود معلوم ہوجائے گا، مرنے کے بعد پچتانا ہوگا ، مگر کچھ نتیجہ نہیں ۔

یہ کلمہ شریف اصل اور جڑ ہے سب عبادات اس کے سوا بیکار ہے ،

تعلیم متعلم میں لکھا ہے علم حال کی طلب فرض عین ہے یعنی مسلمان جس حال پر ہو اس علم سیکھنا فرض عین ہے ،مثلاً جب مسلمان عاقل اور بالغ ہوجائے اس پر نمازروزوں کے فرائض سیکھنا فرض عین ہے اور نمازموقوف ہے وضو پر اس لئے وضو کے مسائل سیکھنا فرض عین ہے ،
بالجملہ جس چیز کا شغل رکھتاہے اس پر اس کے مسائل سیکھنا فرض عین ہے تاکہ اس میں ارتکاب حرام سے محفوظ رہے ، علم کا سیکھنا واجب ہے جس سے امر واجب ادا ہوجائے ۔ ( طحطاوی ) اور درالمختار میں ہے:

اعلم ان تعلم العلم یکون فرض عین وھو بقدر مایحتاج لدینہ ۔
یعنی معلوم کر اے مخاطب سیکھنا علم کا فرض عین ہوتا ہے۔
اس قدر جس کے طرف آدمی محتاج اپنے دین کے واسطے ہو ، یہ سب اوپر مذکور ہوا ۔
وفرض کفایت وھو مازاد علیہ لنفع الغیر ۔
اور علم سیکھنا فرض کفایہ ہے وہ جو اپنے حاجت سے زیادہ ہو ،
غیروں کے نفع کے واسطے ، یعنی ناواقف لوگوں کو بتائے کہ وہ لوگ مہالک اور محرمات سے بچیں ، ایک عالم ہر طرف ہونا ضروری ہے
تاکہ عوام مسلمین کو ضرورت دین سکھائے ورنہ عوام ضائع ہوجائیں گے ۔
مندربٌ وھو التبحرنی الفقہ وعلم القلب ۔
یعنی اور علم سیکھنا مستحب ہوتا ہے زیادتی ہے ، ( علم حاصل کرنا ) فقہ میں اور دل کے علم میں علم قلب سے مراد ہے ، اخلاق ہے۔
error: Content is protected !!