اپنے آپ کو ذلت پر پیش کرنے والا ہم سے نہیں

اپنے آپ کو ذلت پر پیش کرنے والا ہم سے نہیں

رسولِ اکرم ،نُورِ مُجَسَّم صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا ارشاد عبرت نشان ہے: مَنْ أَعْطَی الذِلَّ مِنْ نَفْسِہٖ طَائِعًا غَیْرَمُکْرَہٍ فَلَیْسَ مِنَّایعنی جو شخص بِلا اِکراہ(یعنی مجبور کئے بغیر) اپنے آپ کو ذلت پر پیش کرے وہ ہم سے نہیں ۔(المعجم الاوسط،۱/۱۴۷،حدیث:۴۷۱)

مسلمان اپنے آپ کو ذلت پرکیسے پیش کر سکتا ہے!

حضور رحمت ِکونین صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا ارشادِ عزت نشان ہے: مومن کو لائق نہیں کہ وہ اپنے آپ کو ذِلّت پر پیش کرے صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کی: یارسولَ اللّٰہ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم مسلمان اپنے آپ کو کیسے ذلت پر پیش کر سکتا ہے ! آپ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: اپنے آپ کو ایسی آزمائش پر پیش کرنا جسکو آدمی برداشت نہ کر سکے ۔(ترمذی،کتاب الفتن،باب ماجاء فی النھی عن سب الریاح ،۴/۱۱۲،حدیث:۲۲۶۱)

دعائے رسول صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے روایت فرماتے ہیں کہ رسولِ بے مثال، بی بی آمِنہ کے لال صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کہا کرتے تھے: اَللّٰہُمَّ اِنِّی اَعُوذُ بِکَ مِنَ الْفَقْرِ وَالْقِلَّۃِ وَالذِّلَّۃِ وَاَعُوْذُ بِکَ مِنْ اَنْ اََظْلِمَ اَوْ اُظْلَمَیعنی الٰہی میں تیری پناہ مانگتا ہوں فقیر ی ،کمی اور ذلت سے اور اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ
میں کسی کو ستاؤں یا ستایا جائوں ۔(ابوداؤد،کتاب الوتر،باب فی الاستعاذۃ،۲/۱۳۰،حدیث:۱۵۴۴)
مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اس حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں: ذلت سے مراد لوگوں کی نگاہ میں حقارت ہے یا مالداروں کے سامنے عاجزی۔(مراٰۃ المناجیح ،۴/ ۶۱)

متکبر کے ساتھ تکبر بھی تواضع ہے

حضرت سیِّدُنا ابو نصربشر بن حارث(المعروف بشر حافی) رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ کا فرمان ہے:متکبر کے ساتھ تکبر سے پیش آنا بھی تواضع کی ایک قسم ہے۔
(المستطرف،الباب الثلاثون،۱/۲۵۱)

جس امر میں مسلمانوں کو ذلت پہنچے اس کا ترک واجب ہے

میرے آقااعلیٰ حضرت، امامِ اہلِسنّت، مجدِّدِ دین وملّت ،مولانا شاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرمایا:جس مباح کے ترک(چھوڑنے) میں مسلمانوں کے لئے ذلت ہو وہ واجب ہو جاتا ہے کہ مسلمانوں کو ذلت پہنچانا حرام تو جس امر(کام) میں مسلمانوں کو ذلت پہنچے اس کا ترک(یعنی چھوڑنا) واجب ہے۔(ملفوظات اعلی حضرت ،ص۴۵۱)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *