ایک امیر نوجوان کی توبہ

ایک امیر نوجوان کی توبہ

حضرت سَیِّدُنا صالح مری ایک محفل میں وعظ فرما رہے تھے ۔ انہوں نے اپنے سامنے بیٹھنے والے ایک نوجوان کو کہا،”کوئی آیت پڑھو۔” تو اس نے یہ آیت پڑھ دی،

وَ اَنۡذِرْہُمْ یَوْمَ الْاٰزِفَۃِ اِذِ الْقُلُوۡبُ لَدَی الْحَنَاجِرِ کَاظِمِیۡنَ ۬ؕ مَا لِلظّٰلِمِیۡنَ مِنْ حَمِیۡمٍ وَّ لَا شَفِیۡعٍ یُّطَاعُ ﴿ؕ۱۸﴾

ترجمہ کنزالایمان :اورانہیں ڈراؤ اس نزدیک آنے والی آفت کے دن سے جب دل گلوں کے پاس آجائیں گے غم میں بھرے ۔ اور ظالموں کا نہ کوئی دوست نہ کوئی سفارشی جس کا کہا مانا جائے ۔”( پ۲۴،المؤمن ۱۸)
یہ آیت سن کر آپ نے فرمایا، ”کوئی کیسے ظالم کا دوست یا مدد گار ہوسکتا ہے؟

کیونکہ وہ تواللہ تعالیٰ کی گرفت میں ہوگا۔بے شک تم سرکشی کرنے والے گنہگاروں کو دیکھو گے کہ انہیں زنجیروں میں جکڑ کر جہنم کی طرف لے جایا جارہا ہوگا اور وہ برہنہ پاؤں ہوں گے ، ان کے جسم بوجھل ،چہرے سیاہ اورآنکھیں خوف سے نیلی ہوں گی ۔”وہ پکار کر کہیں گے،”ہم ہلاک ہو گئے ! ہم برباد ہوگئے! ہمیں کیوں جکڑا گیاہے،ہمیں کہاں لے جایا جارہا ہے اور ہمارے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا؟”فرشتے انہیں آگ کے کوڑوں سے ہانکیں گے ، کبھی وہ منہ کے بل گریں گے اور کبھی انہیں گھسیٹ کر لے جایا جائے گا ۔ جب رو رو کر ان کے آنسو خشک ہوجائیں گے توخون کے آنسو رونا شروع کر دیں گے ، ان کے دل دہل جائیں گے اور حیران وپریشان ہوں گے ۔ اگر کوئی انہیں دیکھ لے تو ان پر نگاہ نہ جما سکے گا ، نہ دل کو سنبھال سکے گا اوریہ ہولناک منظر دیکھنے والے کے بدن پر لرزہ طاری ہوجائے گا ۔”
یہ کہنے کے بعد حضرت سَیِّدُنا صالح مری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بہت روئے اور آہ بھر کر کہنے لگے،”افسوس! کیسا خوفناک منظر ہوگا۔” یہ کہہ کر پھر رونے لگے اور ان کو روتا دیکھ کر لوگ بھی رونے لگے ۔ اتنے میں ایک نوجوان کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا،”حضور!کیا یہ سارا منظر بروزِ قیامت ہوگا؟” آپ نے جواب دیا ،”ہاں! اور یہ منظر زیادہ طویل نہیں ہوگا کیونکہ جب انہیں جہنم میں ڈال دیا جائے گا تو ان کی آوازیں آنا بند ہوجائیں گی ۔”یہ سن کر نوجوان نے ایک چیخ ماری اور کہا،” افسوس ! میں نے اپنی زندگی غفلت میں گزار دی، افسوس! میں کوتاہیوں کا شکار رہا، افسوس ! میں اپنے پرورد گار عزوجل کی اطاعت میں سستی کرتا رہا، آہ! میں نے اپنی زندگی ضائع کر دی ۔” اور رونے لگا ۔کچھ دیر بعد وہ کہنے لگا،”اے میرے رب عزوجل! میں اپنے گناہوں سے توبہ کرنے کے لئے تیری بارگاہ میں
حاضر ہوں ، مجھے تیرے سوا کسی سے غرض نہیں ، مجھ میں جو برائیاں ہیں انہیں معاف فرما کر مجھے قبول کر لے، میرے گناہ معاف کردے ، مجھ سمیت تمام حاضرین پر اپنا کرم وفضل فرما اور ہمیں اپنی سخاوت سے مالا مال کردے ، یاارحم الراحمین ! میں نے گناہوں کی گٹھڑی تیرے سامنے رکھ دی ہے اور صدقِ دل سے تیرے سامنے حاضر ہوں ، اگر تو مجھے قبول نہیں کریگا تو میں ہلاک ہوجاؤں گا۔” اتنا کہہ کر وہ نوجوان غش کھا کر گرا اور بے ہوش ہو گیا ۔ اور چند دن بسترِ علالت پر گزار کر انتقال کر گیا۔
اس کے جنازے میں کثیر لوگ شامل ہوئے اور رو رو کر اس کے لئے دعائیں کی گئیں ۔ حضرت سَیِّدُنا صالح مری رضی اللہ تعالیٰ عنہ اکثر اس کا ذکر اپنے وعظ میں کیا کرتے ۔ ایک دن کسی نے اس نوجوان کو خواب میں دیکھا تو پوچھا،” تمہارے ساتھ کیا معاملہ ہوا؟”تو اس نے جواب دیا ، ”مجھے حضرت صالح مری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی محفل سے برکتیں ملیں اور مجھے جنت میں داخل کر دیا گیا۔”(کتاب التوابین ،تو بۃ فتی من الازددان ، ص ۲۵۰ ۔ ۲۵۲ )

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!