تسبیح پر یا دانوں سے ذکر کرناجائز ہے یا نہیں ؟

سوال :۔  تسبیح پر یا دانوں سے ذکرکر ناجائز ہے یا نہیں ؟

جواب از:اعلیٰ حضرت پیرسیدمقبول احمدشاہ قادری

جواب :۔  احادیث سے ثابت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم ایک صحابیہ کے پاس تشریف لے گئے ، ان کے پاس کچھ کھجور کے گھٹلیاں سامنے تھے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ارشاد فرمایا یہ کیا کرتے ہو؟ صحابیہ نے عرض کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم ان پر تسبیح تحلیل پڑھتی ہوں ، حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ان دانوں پر تسبیح پڑھنے سے منع نہیں فرمایا ، ہمارے تسبیحوں میں بھی دانے ہوتے ہیں
جو دھاگے میں پرو دیتے ہیں ، یہ تسبیح رکھنا اس پر تسبیح تحلیل پڑھنا حدیث تقریری سے ثابت ہوا ، سلف سے لیکر خلف تک تسبیح پڑھتے آئے ، سوائے اس بد مذہب عبد الحق کے اور کوئی کسی نے تسبیح پر ذکر نا ناجائز نہیں کہا، اس نے جو کہا ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے تسبیح پر ذکر کرنے والے کو کوڑے مارے ہیں اور عیسائی مذہب کا طریقہ ہے ۔ یہ سب کاسب جھوٹ ہے ، اللہ جھوٹوں پر لعنت بھیجا ہے ، مسلمانوں کو لازم ہے کہ بے علم جاہلوں کی تقریر ہر گز نا سنیں ، البتہ اگر کوئی نیک کام کرے وہ اللہ ہی کے واسطے ہو ، لوگوں کو دکھانے کی غرض سے یا شہرت حاصل کرنے کی غرض سے نہ ہو۔

سوال :۔  ایک شخص بے ہوش ہوکر نماز جمعہ میں گر گیا ، اس کے لئے کیا حکم ہے؟ اور باقی نمازیوں وپیش امام کو کیا کرنا چاہئے ؟

پیش امام محمد غوث ، کولیگل

جواب :۔  بے ہوشی زیادہ ہو یا کم اس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے ، ( عالمگیری ) لہٰذا اس آدمی کو جو بے ہوش ہوکر گرا اس پر لازم ہے وضو کر کے آجائے اگر امام نماز میں ہے تو دوبارہ نماز میں شریک ہوجائے ، اگر امام نماز سے فارغ ہونے کے بعد واپس آئے تو قضا نماز ظہر چار رکعت پڑھے ، باقی سب نمازیوں کی نمازصحیح اور درست ہوگئی خواہ امام کی ہو یا مقتدی کی کیونکہ ان کے سے ایسا کوئی فعل صادر نہیں ہوا ، جس سے نماز فاسد ہوجاتی ، جاہلوں کاکہنا ہر گز نہ مانو۔

سوال:۔  یہاں پر میت دفن کرنے کے بعد قبر پر ہاتھ رکھ کر میت کا نام لے کر میت سے گویا مخاطب ہوکر کہتے ہیں کہ اے فلاں اگر منکر نکیر تجھ سے سوال کریں کہ تیرا رب کون ہے ؟ تو کہہ اللہ، تیرا رسول کون ہے ؟ تو کہہ محمد صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم ہیں ، تیرا مذہب کیا ہے ؟ تو کہہ اسلام ، تو کیا ایسا کرنا جائز ہے یا نہیں ؟

سید محمد حسین قادری ، بلگام
جواب :۔  نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا :

لقنوا مواتکم ، یعنی اپنے مردوں کو تلقین کرو ، مردے دو قسم پر ہیں ، ایک مردہ حقیقی ہے ، دوسرا مردہ مجازی، مردہ مجازی اس کو کہتے ہیں جو قریب المرگ ہے ، انسان کے جانکنی کے وقت اس کے پاس بیٹھ کر کلمہ طیب شریف پڑھنا ذرا آواز سے تاکہ وہ سنے اور اس کو بھی یاد آجائے ، اور پڑھے ۔

میت حقیقی وہ ہے جس کو دفن کرتے ہیں ، اس مذکورہ بالا حدیث شریف سے ظاہر ہوا کہ مردہ حقیقی کو تلقین کرنا کیونکہ حقیقت میں وہی مردہ ہے جس کو دفن کرتے ہیں ،
دفن کرنے کے بعد جو تلقین قبر پر ہاتھ رکھ کر کرتے ہیں یہی اصل سنت ہے
( جیسا کہ سوال میں درج ہے ) کیونکہ حدیث شریف میں آیا ہے کہ اس تلقین کے بعد جب دو فرشتے سوا ل کے لئے آتے ہیں
تو وہ ان کو جواب دیتا ہے ،
تب فرشتے آپس میں ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر کہتے ہوئے جاتے ہیں کہ ہم کو معلوم تھا کہ تجھے لوگوں نے سکھایا ہے۔
شاید کسی بد مذہب وہابی آپ کے دل میں یہ وسوسہ ڈالا ہوگا کہ یہ کرنا ناجائز ہے ،
کیونکہ تبرائی اور گلابی دونوں کے دونوں وہابیہ کے نزدیک تلقین ناجائز حرام اور بدعت شنیع ہے ،
اللہ پاک ان دونوں

فرقوں کو غارت کرے ، یہ بد مذہب فرقے لوگوں کو نیک کاموں سے روکتے ہیں ، گلابی وہابی زیادہ مفسد ہے ، یہ اپنے آپ کو سنی ، حنفی ، چشتی کہتے ہیں ، مگر ان کااعتقاد وہی وہابیہ تبرائی کا ہے۔
سوال :۔  زید نے ایک عورت سے زنا کیا ، ایک اولاد بھی ہوئی اب زید اس عورت سے نکاح کرنا چاہتا ہے ، تو کیا یہ نکاح ہوسکتا ہے ، یا نہیں ؟
سید محمد حسین قادری ، بلگام
جواب :۔  زید کو اس عورت کے ساتھ نکاح کرنا جائز ہے ، اگر یہ عورت حاملہ بھی ہو اور حمل اسی زانی کا ہے پھر اس کے ساتھ نکاح کے بعد صحبت کرنا بھی جائز ہے ،
اگر حمل کسی غیرکا ہے تو نکاح اس زانیہ کے ساتھ ہوسکتا ہے ، یعنی جائز ہے ، مگر اس کے ساتھ صحبت کرنا جائز نہیں ، تاوقت یہ کہ وضع حمل نہ ہوجائے ، ایسا کتب فتویٰ میں ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *