جو بھائی چارہ قائم نہ کرے وہ ہم سے نہیں

جو بھائی چارہ قائم نہ کرے وہ ہم سے نہیں

رسولِ اکرم ،نُورِمُجَسَّم صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ رحمت نشان ہے : لَیْسَ مِنَّا مَنْ لَّمْ یُوَقِّرْ کَبِیْرَنَا وَیَرْحَمْ صَغِیْرَنَا وَیُؤَاخِیْ فِیْنَاوَیَزُوْریعنی جو ہمارے بڑوں کی عزت،چھوٹوں پر رحم نہ کرے ،مسلمانوں کے ساتھ بھائی چار ہ اور ملاقات نہ کرے وہ ہم سے نہیں۔(المعجم الأوسط،۳/۳۴۹،حدیث:۴۸۱۲)

عزت کرو عزت پاؤ

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اگرآج ہم اپنے سے بڑوں کی عزت نہیں کریں گے تو کل ہمارا بھی کوئی احترام نہیں کرے گا اور اگر آج ہم اپنے بڑوں کو عزت دیں گے اور ان کا احترام کریں گے تو کل اس کا پھل ہم دیکھیں گے چنانچہ

بزرگوں کا احترام کرنے کی فضیلت

حضرت سیِّدُناانس بن مالک رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ سرکارِ مدینہ ،فیض گنجینہ ،راحتِ قلب وسینہ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے فرمایا:جو نوجوان کسی بزرگ کے سِنّ رسیدہ ہونے کی وجہ سے اس کی عزت کرے تو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اس کے لئے کسی کو مقرر کردیتا ہے جو اس نوجوان کے بڑھاپے میں اس کی عزت کرے گا ۔
(ترمذی،کتاب البر والصلۃ،باب ماجاء فی اجلال الکبیر،۳/۴۱۱،حدیث: ۲۰۲۹)

بزرگوں کا ادب انسان کو جنت میں پہنچا دیتا ہے

نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:اے اَنس !بڑوں کا ادب و احترام اور چھوٹوں پر شفقت کرو ، تم جنت میں میری رفاقت پالو گے ۔
(شعب الایمان،باب فی رحم الصغیر۔۔الخ،۷/۴۵۸حدیث:۱۰۹۸۱)

تبرک کی قدر کی برکت

حضرت ابو علی روزباری علیہ رحمۃُ اللّٰہِ الباری کی بہن فاطمہ بنت احمد رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہافرماتی ہیں:شہرِ بغداد میں کچھ نوجوانوں نے اپنے میں سے ایک کو کسی ضرورت سے بھیجا، اس نے لوٹنے میں تاخیر کردی ، یہ لوگ غضب ناک ہونے لگے، اتنے میں وہ ایک خربوزہ لئے ہنستا ہوا آپہنچا۔جوانوں نے دریافت کیا:ایک تو تُو دیر سے آرہا ہے، اس پر ہنستا بھی ہے؟ لڑکے نے کہا، میں آپ لوگوں کے لیے ایک عجیب چیز لایا ہوں ۔ سب نے پوچھا :وہ کیا ؟ لڑکے نے اپنے ہاتھ کا خربوزہ انہیں پیش کیا اور کہا: اس خربوزے پر حضرت بشر حافی علیہ رحمۃُ اللّٰہِ الکافی نے ہاتھ رکھ دیا تھا، اس لئے میں نے اسے بیس درہم میں خرید لیا۔اس کی بات سن کر سب نے خربوزے کو چوما اور اپنی اپنی آنکھوں سے لگایا ۔ان میں سے ایک نے کہا، حضرت بشررحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ کو کس چیز نے اس مقام پر پہنچایا ؟کسی نے کہا: تقویٰ نے۔ سائل نے کہا:میں تمہیں گواہ بنا کر اللّٰہعَزَّوَجَلَّ سے توبہ کرتا ہوں، اس کے بعد سب نے اسی کی

طرح توبہ کی ، پھر وہ سب طرطوس گئے اور وہیں شہادت کا رُتبہ پا لیا ۔(روض الریاحین،ص۲۱۸)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

بھائی چارہ کیا ہے؟

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! حضرت سیِّدُنا امام غزالی علیہ رحمۃ اللّٰہ الوالی اخوت و محبت کے متعلق فرماتے ہیں:بھا ئی چارہ دو آدمیوں کے درمیان ایک رابطہ ہوتا ہے جیسے نکاح میاں بیوی کے درمیان ایک رابطے کا نام ہے اور جس طرح عقدِنکاح کچھ حقوق کا تقاضا کرتاہے جن کو پورا کرنا حقِ نکاح قائم رکھنے کیلئے ضروری ہے ، عقدِ اخوّت کا بھی یہی حال ہے۔تمہارے اسلامی بھائی کا تمہارے مال اور تمہاری ذات میں حق ہے اسی طرح زبان او ر دل میں بھی کہ تم اس کو معاف کرو، اس کے لئے دعا کرو، اخلاص و وفا سے پیش آؤ ،اس پر آسانی بَرتو اور تکلیف و تکلُّف کو چھوڑ دو ۔
(احیاء علوم الدین،کتاب آداب الالفۃ۔۔۔الخ،الباب الثانی۔۔۔الخ،۲/ ۲۱۶)

مسلمان سے اُخوّت(بھائی چارہ)اورملاقات کے فضائل
(۱)نام پوچھ لے

رسولِ اکرم ،نُورِ مُجَسَّم صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا ارشادہے :جب ایک شخص دوسرے شخص سے بھائی چارہ کرے تو اس کا نام اور اس کے باپ کانام پوچھ

لے اور یہ کہ وہ کس قبیلہ سے ہے؟ اس سے محبت زیادہ مضبوط ہوگی۔
(ترمذی،کتاب الزہد،باب ماجاء فی اِعلام الحب،۴/۱۷۶،حدیث:۲۴۰۰)

(۲) اللّٰہ کے لئے محبت کرنے کا انعام

رحمت ِعالمیا ن سرور ِذیشان صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:اللّٰہ عَزَّوَجَلّ ارشاد فرماتا ہے کہ میری محبت ان لوگوں کے لئے ثابت ہوگئی جو میرے لئے ایک دوسرے سے محبت کرتے،ایک دوسرے پر خرچ کرتے اورایک دوسرے سے ملاقات کرتے ہیں۔(مسند احمد،مسند الانصار،۸/۴۲۱، حدیث: ۲۲۸۴۷)

(۳) محشرکی گرمی اور سایۂ عرش

حضرتِ سیدنا ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃُ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے فرمایا کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلّ قیامت کے دن فرمائے گا ،میرے جلال (بڑائی)کے لئے آپس میں محبت کرنے والے کہاں ہیں؟ آج جبکہ میرے عرش کے سائے کے علا وہ کوئی سایہ نہیں میں انہیں اپنے عرش کے سائے میں جگہ دوں گا ۔(مسلم،کتاب البر والصلۃ،باب فی فضل الحب فی اللہ، ص۱۳۸۸، حدیث: ۲۵۶۶)

جس سے محبت کرو اسے بتا دو(حکایت )

ایک شخص نے سرکارِ عالی وقار، مدینے کے تاجدارصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی خدمت میں عرض کی: میں فلاں شخص سے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے واسطے محبت رکھتا ہوں ۔

ارشاد فرمایا:تم نے اس کو اطلاع دی ؟ عرض کی :نہیں، ارشاد فرمایا:اٹھو!اس کو اطلاع دو۔ اس نے جا کراسے بتایا، اس نے کہا: جس کے لئے تو مجھ سے محبت رکھتا ہے، وہ تجھے محبوب بنالے۔ اس کے بعد وہ واپس آگئے ، نبی ِمکر م نو رِ مجسم صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اِستفسار فرمایا:اس نے کیا کہا؟ جو اس نے کہا تھا کہہ سنایا تو رحمت ِکونین صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے ارشادفرمایا:تُو اس کے ساتھ ہوگا جس سے تو نے محبت کی اور تیرے لیے وہ ہے جو تُو نے قصد(یعنی اِرادہ) کیا ہے۔(شعب الایمان،فصل فی المصافحۃوالمعانقۃ،۶/۴۸۹،حدیث:۹۰۱۱)

(۴)گناہ جھڑتے ہیں

حضرت سیِّدُنا مجاہدرحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہفرماتے ہیں:اللّٰہعَزَّوَجَلَّکے لئے ایک دوسرے سے محبت کرنے والے جب باہم ملاقات کرتے وقت خوش ہوتے ہیں تو ان کے گناہ اس طرح جھڑتے ہیں جیسے موسم خزاں میں درختوں کے پتے خشک ہو کر گرتے ہیں۔( احیاء علوم الدین،کتاب آداب الالفۃ۔۔۔الخ،بیان معنی الاخوۃ۔۔۔الخ،۲/۲۰۱)

(۵)مسلمان کو محبت سے دیکھنا بھی ثواب ہے

حضرت سیِّدُنا فضیلرضی اللّٰہ تعالٰی عنہفرماتے ہیں:کسی آدمی کا اپنے مسلمان کی طرف مودّت و رحمت (محبت و الفت)کے ساتھ دیکھنا عبادت ہے۔( احیاء علوم الدین،کتاب آداب الالفۃ۔۔۔الخ،بیان معنی الاخوۃ۔۔۔الخ،۲/۲۰۱)

بھائی چارہ کس سے کیا جائے؟

حضرت سیِّدُنا علی المرتضی کرّم اللّٰہ تعالی وجہہ الکریم نے فرمایا:فاجر سے بھائی بندی نہ کر کہ وہ اپنے فعل کو تیرے لیے مزین کریگا (یعنی سنوارے گا)اور یہ چاہے گا کہ تو بھی اس جیسا ہوجائے اور اپنی بدترین خصلت کو اچھا کرکے دکھائے گا، تیرے پاس اس کا آنا جاناعیب اور شرم کا باعث ہے اور بیوقوف سے بھی بھائی چارہ نہ کر کہ وہ خود کو مشقت میں ڈال دے گا اور تجھے کچھ نفع نہیں پہنچائے گااور کبھی تجھے نفع پہنچانا چاہے بھی تونقصان پہنچادے گا، اس کی خاموشی بولنے سے بہتر ہے اس کی دُوری نزدیکی سے بہتر ہے اور موت زندگی سے بہتر اور جھوٹے سے بھی بھائی چارہ نہ کر کہ اس کے ساتھ معاشرت تجھے نفع نہ دے گی، تیری بات دوسروں تک پہنچائے گا اور دوسروں کی تیرے پاس لائے گا اور اگر تو سچ بولے گا پھر بھی وہ سچ نہیں بولے گا۔ (تاریخ دمشق،۴۲/۵۱۶)

بھائی چارے کی سچائی کی علامت

حضرت سیدنافضیل بن عیاض رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں :بھائی چارے کی سچائی میں سے یہ بھی ہے کہ بندہ اپنے بھائی کی عزت فقر(محتاجی)کی حالت میں اس سے کہیں زیادہ کرے جتنی عزت اس کی غنا(امیری) کی حالت میں کرتا تھا کیونکہ فقر غنا سے افضل ہے اور اس کا بھائی اپنے فقر کے سبب نہیں بلکہ اپنے مقام ومرتبے کی وجہ سے زیادہ عزت کا مستحق ہے ۔(تنبیہ المغترین،ص ۲۱۰)

حضرت سیدناابوحازِم علیہ رَحمَۃُ اللّٰہ الاکرم فرماتے ہیں: جب تُو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے کسی سے بھائی چارہ قائم کرے تو اس سے دنیا داروں جیسا معاملہ نہ کراور بغیر بدلہ کی خواہش کے بکثرت اس کی مدد کر تاکہ تمہارے بھائی چارے کو دوام ملے۔(تنبیہ المغترین،ص۲۰۹)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *